اسلام آباد: بنگلہ دیش کے معروف قومی اخبار روزنامہ سنگرام کے چیف ایڈیٹر نورالامین نے اپنے وفد کے ہمراہ دفتر جماعت اسلامی اسلام آباد کا دورہ کیا۔ وفد میں ڈاکٹر حسن البنا اور پروفیسر عاشق النبی بھی شامل تھے۔ وفد کا استقبال امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر صفدر، سینئر صحافی صغیر قمر اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش یک جان دو قالب ہیں اور پاکستانی عوام کے دل ہمیشہ اپنے بنگالی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان عوامی، سماجی اور فکری روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی تبدیلی خوش آئند ہے اور جماعت اسلامی ایک مضبوط عوامی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جس کی پارلیمانی نمائندگی وہاں کی سیاست میں ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے طویل عرصے تک آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا کیا، اور آج کی کامیابیاں تحریک اسلامی کے مخلص کارکنان کی قربانیوں اور استقامت کا ثمر ہیں۔
انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ روزنامہ سنگرام نے جولائی انقلاب کے دوران حقائق کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے اور بنگلہ دیش کی حقیقی صورتحال مؤثر انداز میں پیش کرنے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا، جو صحافتی ذمہ داری کی بہترین مثال ہے۔
اس موقع پر روزنامہ سنگرام کے چیف ایڈیٹر نورالامین نے پرتپاک استقبال پر امیر جماعت اسلامی اسلام آباد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان برادرانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام پاکستانی عوام کو اپنا دست و بازو سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کی اسلامی تحریکوں کے درمیان روابط، تجربات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ مستقبل اسلام کا ہے اور امتِ مسلمہ اتحاد، تعاون اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے درپیش چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوگی۔
ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان عوامی روابط، میڈیا کے کردار، اسلامی تحریکوں کے باہمی تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
