ایک نیا صیہونی جال

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے نام نہاد غزہ بورڈ آف پیس کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کے گزشتہ روز جاری کردہ بیان، جس میں انہوں نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس نے حماس کو غیرمسلح کرنے کا معاہدہ کرلیا ہے، کو ایک نیا صیہونی جال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے نظام کو بائی پاس کر کے غزہ میں تعمیر نو اور امن کے نام پر غزہ کی خودمختاری سلب کرنے اور حماس کی عسکری قوت کو ختم کرکے اسرائیل کو طویل مدتی سکیورٹی فراہم کرنے کا صیہونی ایجنڈہ فلسطینی عوام کیساتھ فراڈ اور اُمتِ مسلمہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سِوا کچھ نہیں۔ رکنیت اور فنڈز کے نام پر اس ملٹی نیشنل باڈی کے ذریعے خطے کے سیاسی مستقبل کو مالیاتی ہتھکنڈوں کے تحت چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حماس نے بھی ٹرمپ کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلاء تک حماس ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد صیہونی ناجائز ریاست حماس کے ساتھ کئے گئے جنگ بندی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر آج بھی غزہ میں معصوم فلسطینی اسرائیلی فوج کا نشانہ بن کر شہید ہورہے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں اسرائیل سے کسی معاہدے کی پاسداری کی اُمید رکھنا خام خیالی ہوگی۔ ٹرمپ کے مذکورہ بیان کے بعد بھی سخت گیر صیہونی وزیروں نے اِس معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے اور غزہ سے اپنی فوج کسی صورت واپس نہ بلانے کا بیان دیا، جس سے یہ واضح ہوگیا کہ نیتن یاہو اور اُس کی جنگی کابینہ کسی صورت مشرقِ وسطٰی میں امن اور فلسطینی ریاست کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہیں، اُن کا واحد مقصد اپنے توسیع پسندانہ شیطانی گریٹر اسرائیل منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ اِسی مقصد کے تحت حالیہ عرصے میں مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کے قیام کے لئے تازہ اجازت نامے، نیز ناجائز یہودی آبادکاروں کی طرف سے اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں فلسطینی زمینوں پر زبردستی قبضے کرنے، اصل فلسطینی مکینوں کو بےدخل کرنے اور مزاحمت کی صورت میں جان سے مارنے، مساجد اور املاک کو نذرِ آتش کرنے کے اقدامات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ناجائز صیہونی ریاست اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی راہ میں امریکہ سمیت کسی کی بھی بات سُننے کو تیار نہیں۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ بین الاقوامی برادری اور امریکہ کی زیرسرپرستی کئے گئے اب تک تمام معاہدوں کو دھڑلے سے توڑا ہے۔ لبنان اور غزہ پرجنگ بندی معاہدوں کے باوجود آج بھی صیہونی فوج کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ ابھی حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کا اعلان کیا۔ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اس معاہدے پر دوطرفہ دستخط بھی کیے۔ اِس 30 سالہ معاہدے کا مقصد سعودی عرب میں پرامن اور شہری مقاصد کے لیے جوہری توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا تھا۔ قانون کے مطابق اس معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے امریکی کانگریس کو بھی بھجوا دیا گیا لیکن پھر اچانک ٹرمپ نے آکر اعلان کیا کہ اس معاہدے کی حتمی توثیق اور عملدرآمد سعودی عرب کے ابراہام معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط ہے۔ اِس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ امریکی صدر اور امریکی پالیسی ساز ادارے مکمل طور پر صیہونیت کے نرغے میں ہیں۔ گزشتہ دِنوں نیتن یاہو کے دورہ امریکہ کے دوران تو صدر ٹرمپ نے پوری دُنیا کے سامنے کہا کہ نیتن یاہو مجھے ایران جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتا ہے۔
لیاقت بلوچ نے عرب حکمرانوں اور پاکستانی حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نام نہاد ٹرمپ امن معاہدہ کے جھانسے میں نہ آئیں، امریکہ کی دوستی اور دشمنی دونوں ہی خطرناک ہیں۔ امریکہ نے کبھی پاکستان کے ساتھ کئے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔ حالیہ ایران جنگ میں بھی امریکہ نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر نئے سرے اُس وقت حملے شروع کردئے جب مستقل جنگ بندی کے لئے معاہدے کے نکات کو حتمی شکل دی جارہی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کا واحد راستہ خطے کے ممالک کا آپس میں بیٹھ کر باہمی افہام و تفہیم سے مسائل کو حل کرنا ہے، اس سلسلے میں پاکستان کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے۔ امریکہ سے اُمیدیں لگائی رکھنے کی بجائے سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، قطر، مصر، ایران اور خطے کے دیگر ممالک مل کر مسائل کا حل تلاش کریں، امریکہ پر انحصار خطے کو مزید آگ کی طرف جھونکنے کا باعث ہوگا۔