اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ڈیجیٹل بلوچستان اے آئی لانچ پیڈ بوٹ کیمپ میں شریک طلبہ کی ملاقات

اسلام آباد، —— ڈیجیٹل بلوچستان اے آئی لانچ پیڈ کے پانچ روزہ بوٹ کیمپ میں شریک طلبہ کے وفد نے آج پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی۔ وفاقی سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ محی الدین احمد وانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس موقع پر اسپیکر سردار ایاز صادق نے طلبہ کا پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں انٹرن شپ پروگرام کا اجرا کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک کی 21 جامعات کے طلباء کے لیے تربیتی کورسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی بلوچستان کے طلباء کو ترجیحی بنیادوں پر انٹرن شپ کے مزید مواقع فراہم کرے گی۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے بلوچستان سے اپنی دیرینہ وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بلوچستان سے دلی لگاؤ ہے اور وہ زمانہ طالب علمی میں بلوچستان جایا کرتے تھے۔ انہوں نے بلوچستان کو پاکستان کا انتہائی اہم صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک بلوچستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ترجیحات میں بلوچستان پہلے نمبر پر ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے طلبہ کو تعلیم، مطالعہ اور مسلسل سیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ 2002ء میں پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو انہیں آئین کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا، تاہم انہوں نے آئینِ پاکستان اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کی کتاب کا باقاعدگی سے مطالعہ کیا، جس سے انہیں پارلیمانی امور کو سمجھنے میں مدد ملی۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ملازمتوں کے لیے تمام صوبوں کا کوٹہ مقرر ہے، جبکہ خصوصی طور پر اہل افراد کو بھی ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ملازمتوں کے حوالے سے خواتین کی نمائندگی کو 30 فیصد تک بڑھانے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا قومی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

سپیکر سردار ایاز صادق نے طلبہ کو قومی اسمبلی میں مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی نے ملک کا پہلا اے آئی فعال پارلیمانی نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت اسپیکر آفس کے دفتر امور سمیت پارلیمانی امور کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔

طلبہ کو بتایا گیا کہ پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ایجنڈا، بلز، رپورٹس، پارلیمانی دستاویزات اور کمیٹیوں سے متعلق مواد کی الیکٹرانک ترسیل اور دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ اراکین قومی اسمبلی کو ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی فراہمی کے ذریعے کاغذ سے پاک پارلیمانی امور کی جانب پیش رفت کی گئی ہے۔ اس عمل سے کاغذ، پرنٹنگ اور ریکارڈ مینجمنٹ کے اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ انتظامی امور میں تیزی اور معلومات تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے طلبہ کو بتایا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال پارلیمانی تحقیق، قانون سازی، بعد از قانون سازی جائزے، معلومات تک رسائی اور انتظامی امور میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اے آئی انسانی ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور فیصلہ سازی کا متبادل نہیں بلکہ ان صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانے کا معاون ذریعہ ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ قومی اسمبلی میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے اقدامات پارلیمانی امور کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، ادارہ جاتی استعدادِ کار بڑھانے اور اراکین قومی اسمبلی کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر ٹیک ویلی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر فاروق نے اسپیکر سردار ایاز صادق کو ڈیجیٹل بلوچستان اے ائی لانچ پیڈ بوٹ کیمپ کے انعقاد کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔

طلبہ نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لیے ان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ طلبہ نے اسپیکر کو بلوچستان کے طلبہ کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے طلبہ کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی جائے گی۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ڈیجیٹل بلوچستان اے آئی لانچ پیڈ بوٹ کیمپ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے حکومتِ بلوچستان، ٹیک ویلی پاکستان، وزارت برائے بین الصوبائی رابطہ، وزارتِ برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن پاکستان (USEFP) کی کاوشوں کی تعریف کی۔