اسلام آباد—– کم از کم اجرت بورڈ اسلام آباد کا اہم اجلاس چیئرمین بورڈ عثمان اشرف کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے مزدوروں کی کم از کم اجرت کے موجودہ نرخوں کا جائزہ لینے کے بعد تنخواہوں /اجرتوں میں 10 فیصد اضافے کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی۔اجلاس میں سیکرٹری بورڈ ملک زبیر اعوان، لیبر آفیسر ملک عمر اعوان، انڈیپنڈنٹ ممبر وقار احمد قاضی، بورڈ ممبران محمد نعیم اور چوہدری محمد یاسین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ہنرمند (Skilled)، نیم ہنرمند (Semi-Skilled) غیر ہنرمند (Unskilled) اور جز وقتی (Part-Time) کارکنوں پر لاگو موجودہ کم از کم اجرت کے نرخوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے مہنگائی، روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بنیادی ضروریات اور مجموعی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مزدوروں کی اجرت میں مناسب اضافے کی ضرورت پر تفصیلی غور کیا۔غوروخوض کے بعد کم از کم اجرت بورڈ نے تمام متعلقہ کیٹیگریز کے کارکنوں کی موجودہ اجرتوں میں 10 فیصد اضافے کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ بورڈ نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر مزدور طبقے کو معاشی ریلیف فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اجلاس میں آجرین، صنعتی و تجارتی اداروں کی مالی استعداد اور کاروباری سرگرمیوں پر نظرثانی شدہ اجرتوں کے ممکنہ اثرات کو بھی مدنظر رکھا گیا، تاکہ مزدوروں کے حقوق اور کاروباری اداروں کی استعداد کے درمیان متوازن پالیسی تشکیل دی جا سکے۔بورڈ نے مزدوروں اور آجرین کے نمائندگان سے مشاورت، اجرتوں کے مؤثر نفاذ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اجلاس کے اختتام پر 10 فیصد اضافے سے متعلق سفارشات کو حتمی شکل دے کر مجاز اتھارٹی کو مزید ضروری کارروائی کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ اسلام آباد اور کم از کم اجرت بورڈ اسلام آباد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مزدوروں کے معاشی تحفظ، موجودہ مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے اجرتوں کے تعین کا عمل شفاف، متوازن اور زمینی حقائق کے مطابق جاری رکھا جائے گا۔
