انعام مورگانائیٹ
میری بیٹی اپنے بچوں کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے مائیکے آئی ہوئی ہے۔گھر میں جیسے ایک بار پھر بہار اتر آئی ہو۔ اس کی آواز، بچوں کی معصوم شرارتیں، ہنسی کے قہقہے اور گھر کے کمروں میں بکھری ہوئی رونق… سب کچھ بہت اپنا، بہت مانوس اور بہت خوبصورت لگنے لگتا ہے۔
اب اس کے واپس جانے کا وقت قریب آ رہا ہے تو دل پر عجب سی کیفیت طاری ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنی بچی کو ایک بار پھر رخصت کر رہے ہیں۔
شاید بیٹیاں ہوتی ہی ایسی ہیں…
کتنی ہی بڑی ہو جائیں، خود بچوں کی مائیں بن جائیں، مگر اپنے ماں باپ کے لیے ہمیشہ وہی ننھی سی بچیاں رہتی ہیں جن کی ہنسی سے گھر آباد اور جن کی جدائی سے آنگن کچھ خالی خالی سا ہو جاتا ہے۔
بیٹیاں ماں باپ کا مان ہوتی ہیں، ان کے آنگن کی خوشبو اور دل کا وہ نرم گوشہ، جسے وقت کبھی بوڑھا نہیں ہونے دیتا۔
ایک دن یہی بیٹی اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں، اپنے کمرے، اپنی گلی، اپنے محلے، رشتہ داروں اور برسوں کی مانوس دنیا کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ صرف ایک رشتے، ایک عہد اور ایک وعدے کو نبھانے کے لیے ایک نسبتاً اجنبی ماحول میں قدم رکھتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسی اجنبیت کو اپنا گھر، اپنے لوگ اور اپنی دنیا بنا لیتی ہے۔
ذرا سوچیں تو نظامِ زندگی میں اس بچی کا کردار کتنا عظیم ہے۔
وہ صرف کسی کی بیوی نہیں بنتی؛ وہ ایک گھر کی بہو، پھر ماں، اور وقت کے سفر میں اسی خاندان کی آنے والی نسلوں کی دادی یا نانی بن جاتی ہے۔
اپنی محبت، خلوص، برداشت اور حسنِ کردار سے وہ ایک خاندان کی تاریخ میں اپنا مقام بناتی ہے، اور یہی خوبصورت کردار اسے اپنے شوہر اور اس کے خاندان میں عزت، محبت اور توقیر عطا کرتا ہے۔
مگر یہ سفر صرف عورت کی ذمہ داری نہیں۔
مرد کے کندھوں پر بھی اتنی ہی بڑی ذمہ داری آتی ہے۔ اسے اپنی شریکِ حیات کا ہاتھ تھام کر ایسا اعتماد دینا ہوتا ہے کہ جس لڑکی نے اس کی خاطر اپنی ایک پوری دنیا پیچھے چھوڑی ہے، اسے کبھی یہ احساس نہ ہو کہ وہ کسی اجنبی گھر میں آ گئی ہے۔
دراصل ایک خوبصورت معاشرے کی پہلی اینٹ یہی دو انسان رکھتے ہیں۔ میاں بیوی کا باہمی اتفاق، اعتبار، محبت اور احترام اس گھر کی بنیاد بنتا ہے۔ اسی مضبوط بنیاد پر رشتوں کی دیواریں اٹھتی ہیں، بزرگوں کی دعائیں اس کی چھت بنتی ہیں، اور بچوں کی ہنسی اس آنگن میں جھلملاتے ستاروں کی مانند روشن ہوتی ہے۔
تب کہیں اینٹوں اور دیواروں سے بنا ایک مکان، محبت سے بھرا گھروندہ بنتا ہے۔
اس جھلمل ستاروں والے آنگن کو آباد رکھنے کے لیے میاں بیوی دونوں کو اپنا اپنا کردار محبت، صبر، وفا اور درگزر کے ساتھ نبھاتے رہنا چاہیے۔ کبھی ایک دوسرے کی کمزوری کو سہارا دیں، کبھی خاموشی کو سمجھیں، کبھی غلطی کو معاف کریں اور کبھی صرف ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر یہ احساس دلائیں کہ:
زندگی جیسی بھی ہو، ہم اسے مل کر گزاریں گے۔
بیٹی جب اپنے سسرال کو اپنا گھر بناتی ہے تو اس گھر کی عزت، وقار اور راز بھی اس کے لیے ایک امانت بن جاتے ہیں۔ وہاں کی ہر بات کو امانت سمجھ کر اپنے دل میں محفوظ رکھنا اور بلا ضرورت میکے یا دوسروں تک نہ پہنچانا اس کے کردار کی پختگی اور رشتوں سے وفاداری کی علامت ہے۔ امانت صرف مال کی نہیں ہوتی، گھر کی بات، گھر کا بھرم اور اپنوں کی عزت بھی امانت ہوتی ہے۔
اسی طرح اپنے شوہر کی عزت اور وقار کا خیال رکھنا بھی ازدواجی رشتے کی خوبصورتی ہے۔ جس شخص کے ساتھ اس نے زندگی گزارنے کا عہد کیا ہے، اس کی عزت کو اپنی عزت سمجھنا اور خوشی و مشکل دونوں میں اس کا وقار قائم رکھنا محبت اور رفاقت کا تقاضا ہے۔ اور یہی ذمہ داری شوہر پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کی عزت، اعتماد اور مقام کی پوری حفاظت کرے۔
بیٹی اپنے ساس سسر کی جس محبت، خدمت اور احترام کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتی ہے، اسے اپنے دل میں یہ احساس بھی رکھنا چاہیے کہ کل یہی محبت اور احترام وہ اپنے بھائی کی شریکِ حیات سے اپنے والدین کے لیے چاہے گی۔ جو رویہ ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں، وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرنا رشتوں میں انصاف کی سب سے خوبصورت صورت ہے۔
یوں ایک بیٹی جب دو خاندانوں کے درمیان محبت، راز داری، احترام اور اعتماد کا پل بن جاتی ہے تو وہ صرف ایک گھر نہیں بساتی، بلکہ ایک پوری نسل کے رشتوں کی بنیاد مضبوط کرتی ہے۔
پھر ایسے گھر پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی اترتی ہیں، برکتیں بھی آتی ہیں اور محبت بھی نسل در نسل سفر کرتی ہے۔
اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس گھر کے آنگن میں اللہ کی رحمتوں کا رم جھم برستا ساون برس رہا ہو۔
آج اپنی بیٹی کو بچوں سمیت واپس جاتے دیکھنے کا خیال آتا ہے تو دل یہی کہتا ہے:
بیٹیاں حقیقت میں کبھی رخصت نہیں ہوتیں…
وہ صرف ایک آنگن سے دوسرے آنگن میں اپنی خوشبو بکھیرنے چلی جاتی ہیں۔
ان کا کمرہ شاید خالی ہو جائے، مگر ماں باپ کے دل میں ان کی جگہ ہمیشہ آباد رہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر بیٹی کے نصیب میں محبت، عزت، سکون اور آباد گھر لکھے، اور ہر ماں باپ کے آنگن کو اپنی بیٹیوں کی خوشیوں سے ہمیشہ مہکائے۔ آمین
