نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے دھرنا احتجاج میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ ربیع الاول میں خاتم الانبیاء، محسنِ انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حُرمت و ناموس پر پہرہ دینا ہی میلادالنبی (ص) کا حق ادا کرنا ہے. آئین کا آرٹیکل 295-سی اہلِ ایمان کی ریڈلائن ہے. سیکولر، دین بےزار، قادیانیت کے پرچارک ختمِ نبوت (ص) کے خلاف شرارت اور سازشوں کی حکمت عملی پر کاربند ہیں. قانونِ ناموسِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا. اسلام آباد میں دہشت گرد، قوم پرست اور مقدسات کی توہین کرنے والے ٹولے نے مِلّتِ اسلامیہ کے دینی اور ایمانی جذبوں کو چیلنج کیا ہے، حکومت اِس ٹولے کے خلاف کارروائی کرے، انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا جائے تاکہ فرقہ پرست عناصر مِلی وحدت اور قومی سلامتی کو نقصان نہ پہنچاسکیں.
لیاقت بلوچ نے سینئر سیاست دان، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے جماعتِ اسلامی کے پٹرول لیوی بھتہ کے خلاف دسویں روز جاری دھرنے کے متعلق مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکمران عوامی جذبات، عوامی مسائل اور غریب محنت کش کے دکھ درد کو ہمیشہ نظرانداز کرتے ہیں اور انہیں تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں، اِْسی وجہ سے حکومت کی رِٹ نہیں، عوام میں کوئی ساکھ نہیں. عوام دھرنا مطالبات کے ساتھ ہیں. لاہور، کراچی، پشاور اور بلوچستان میں عوامی دھرنے کامیابی سے جاری ہیں، پُرامن سیاسی، جمہوری مزاحمت کی تاریخ رقم ہورہی ہے. حکومت عوام کو مشتعل کرکے پُرامن اختجاج کو پُرتشدد بنانا چاہتی ہے لیکن جماعتِ اسلامی عوام کے خلاف حکومتی بےحسّی، رعونت، عوام کی توہین کی مذمت کرتے ہیں اور ھمارا اعلان ہے کہ عوام احتجاجی دھرنوں کو ہر قیمت پر پُرامن رکھیں گے اور حکومت کو پٹرول لیوی بھتہ کا خاتمہ کرنا ہوگا.
لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمنٹ میں متحدہ کردار کا خیرمقدم کرتے ہیں، اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں مؤثر کردار کے لئے مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہوتا ہے، فارم 47 اور فارم 45 والی اپوزیشن فارم 47 اور فارم 45 والی حکومت کے خلاف صف آراء ہوگی، نتائج کا اللہ ہی حافظ ہوگا. سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طاقت سیاسی جمہوری قیادت اور جماعتوں کے بےسمت اور بڑے مقاصد سے عاری کردار ہے. اتحادوں کا بننا ہمیشہ اچھا اقدام گردانا جاتا ہے لیکن اُس کا پھل ہمیشہ عوام اور ملک کےلئے کڑوا ثابت ہوتا ہے. ملک کو بحرانوں سے نکالنے اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے کہ قومی سیاسی جمہوری قیادت قومی ترجیحات کا تعین کرے، کم از کم قومی ایجنڈا پر اتفاق کیا جائے، عملدرآمد ہو اور مفاداتی انحراف سے اجتناب کیا جائے. قومی ایجنڈا پر عملدرآمد کےلئے قومی ایجنڈا پر اتفاق کرنے والی جماعتیں اپنے پلیٹ فارم سے پُرامن سیاسی جمہوری مزاحمتی پروگرام کریں.
