آقا کے ثنا خواؤں میں پایا جاؤں

آقا کے ثنا خواؤں میں پایا جاؤں
یہ تمنا ہے کہ مدینے میں بلایا جاؤں
کاش دربارِ نبیؐ میں ملے مجھ کو حضوری
قدموں میں شافعِ محشر کے بٹھایا جاؤں
زندگی گزرے مدینے کی فضا میں یا رب
اور جب دنیا سے جاؤں تو وہیں سلایا جاؤ
جس نے چوما ہے مقدّس درِ خیرالورٰیؐ
آرزو ہے کہ اُسی خاک سے اُٹھایا جاؤں
یا الٰہی! میرے دل میں وہ محبت بھر دے
عشقِ سرکار میں ہر غم کو بھلاتا جاؤں
دید کی پیاس میں ہر شب جو تڑپنا ٹھہرا
کیا عجب صبحِ مدینہ میں سکوں پا جاؤں
یا نبیؐ! خواب میں اک بار زیارت ہو جائے
آپ کے قدموں سے لپٹوں اور فنا ہو جاؤں
روزِ محشر ہو کرم سایۂ دامانِ نبیؐ
نامۂ اعمال میں بخشش کا پتا پا جاؤں
حوضِ کوثر پہ ہو ساقیِ کوثر کا کرم
اور میں جامِ شفاعت سے نوازا جاؤں
میری بخشش کا سبب بس یہی ہو اے مولا
نامِ سرکار لبوں پر جو سجاتا جاؤں
یا نبیؐ! لطف ہو رحمت کی گھٹائیں برسیں
میں بھی خالی نہ رہوں فیض میں نہایا جاؤں
مجھ کو درکار ہے محسن وہی نقشِ کفِ پائے رسولؐ
راہِ طیبہ میں میں پلکوں کو بچھاتا جاؤں
محمد محسن اقبال