جماعتِ اسلامی کا دھرنا عوامی مسائل کے حل کےلیے

نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے جماعتِ اسلامی کے ساتویں روز جاری دھرنے میں محنت کشوں وکلاء، علماء کرام پر مشتمل احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظام مملکت کی ناکامی 79 سال سے آئین، قرآن و سُنت، جمہوری اقدار، عدل و انصاف کی آزادی، قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم سے انحراف کا نتیجہ ہے. مقتدر طبقے طاقت کے عروج پر ہیں، اُنہیں عوام اور ملک کے بگڑتے حالات کی کوئی پرواہ نہیں. جماعتِ اسلامی کا دھرنا عوامی مسائل کے حل کےلئے ہے کہ تیل، بجلی، گیس سستی ہوگی تو معاشی پہیہ چلے گا، عوام سُکھی ہونگے، عام آدمی کو روزگار ملے گا. پیداواری لاگت کے مسلسل بڑھنے سے صنعت، تجارت اور لین دین کا نظام ٹھپ ہوگیا ہے. پٹرول، ڈیزل کی عالمی منڈی سے خریداری کی بنیاد پر انتظامی اخراجات کے ساتھ حقیقی قیمت وصول کی جائے، اضافی ظالمانہ ٹیکسز اور لیوی بھتہ ختم کئے جائیں. کم و بیش مختلف حالات میں فی لٹر 145 روپے کا اضافی بوجھ عوام پر ظلم اور ناقابلِ برداشت ہے. حکمران ضِد چھوڑدیں، پٹرول، ڈیزل لیوی بھتہ ختم کریں، عوام کو جینے دیں. عوامی مسائل پر دھرنا احتجاج پرحکومت نے کان نہ دھرے تو ستمبر کا مہینہ حکومت کےلئے ستمگر بنے گا.
لیاقت بلوچ نے مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مزدور کی محنت مشقت قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے. وفاقی، صوبائی حکومتیں، لیبر لاز، سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی اور لیبر ویلفیئر جیسے ادارے نظام کو تباہ کرچکے ہیں. مزدور کے حق اور وسائل پر کرپشن اور ڈاکہ زنی بڑا المیہ ہے. لیاقت بلوچ نے وکلاء کے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رُول آف لاء، جمہوری اداروں کے تحفظ اور عوام کو معاشی بحرانوں سے نجات دلانے کےلئے فیصلہ کُن کردار ادا کرنا ہوگا.
لیاقت بلوچ نے احتجاجی دھرنا میں علماء و مشائخ کی آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی اسلامی نظریاتی بنیاد اور مخلوق کے حقوق کے تحفظ کےلئے علماء کرام کا کردار اور ممبر و محراب سے طاقتور ابلاغ بےپناہ اہمیت کا حامل ہے. شریعت، آئینِ پاکستان سے انحراف کا نظام ڈوب رہا ہے، اسلامی معاشرہ میں اسلامی تہذیب کی حفاظت کےلئے مساجد کے مینار تلوار اور گنبد ڈھال کی طاقت رکھتے ہیں. عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ اور قومی معیشت کو پٹرول لیوی بھتہ خوری اور آئی پی پیز کی حرام خوری سے نجات دِلانے کےلئے منبر و محراب سے عوام کو باخبر اور متحد کیا جائے.
اس موقع پر محمد جاوید قصوری، ڈاکٹر طارق سلیم، ضیاءالدین انصاری، شمس الرحمن سواتی، مختارالدین سواتی، قاری وقار چترالی، اسد منظور بٹ، نعمان عتیق، نصراللہ اولکھ، اظہر بلال اور قائم مقام سیکریٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن، رُسل خان بابر، احمد سلمان بلوچ، جبران بٹ، خالد بٹ، عامر نثار خان نے بھی خطاب کیا