ایئرپورٹ ہاؤزنگ سوسائٹی راولپنڈی بگڑا ہوا پاکستان

انجینئر افتخار چودھری

پاکستان کو سمجھنا ہو تو ہمیشہ اسلام آباد کے ایوانوں، لاہور کے بڑے دفاتر یا کراچی کے کاروباری مراکز کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ کبھی راولپنڈی کی ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں چند دن گزار کر دیکھ لیجیے۔ یہاں آپ کو پاکستان کا ایک ایسا چھوٹا سا نقشہ نظر آئے گا جہاں اختیار ہے مگر جواب دہی نہیں، دفتر ہے مگر شکایت سننے والا نہیں، انتظامیہ ہے مگر انتظام نہیں، اور عوام ہیں مگر ان کی سننے والا کوئی نہیں۔
میں تقریباً 28 برس سے اس سوسائٹی میں رہ رہا ہوں۔ اس طویل عرصے میں بہت کچھ بدلتے دیکھا، لوگ بدلتے دیکھے، انتظامیہ بدلتی دیکھی، انتخابات ہوتے دیکھے، تنازعات عدالتوں تک جاتے دیکھے، مگر ایک چیز نہیں بدلی: عام رہائشی کے مسائل۔
یہ سوسائٹی پرانے ایئرپورٹ کے قریب، گلزارِ قائد کے عقب میں واقع ہے۔ یہاں ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ آ کر آباد ہوئے۔ کوئی گوجرانوالہ کا ہے، کوئی پشاور کا، کوئی ایبٹ آباد کا اور کوئی کسی دوسرے شہر سے آیا۔ بہت سے لوگ ایئرپورٹ سے وابستہ رہے اور اپنی زندگی بھر کی کمائی لگا کر یہاں گھر بنائے۔ ان کا خواب بڑا معمولی تھا: ایک گھر ہو، صاف پانی ہو، بجلی ہو، سڑکیں ہوں، بچوں کے لیے محفوظ ماحول ہو اور بڑھاپا سکون سے گزرے۔
مگر آج سوال یہ ہے کہ کیا وہ خواب پورا ہوا؟
میرا جواب ہے: نہیں۔
یہ سوسائٹی آج میرے لیے صرف ایک رہائشی آبادی نہیں بلکہ پاکستان کے بگڑے ہوئے انتظامی نظام کا ایک چھوٹا سا آئینہ ہے۔
یہاں برسوں سے یہ شکایت چلی آ رہی ہے کہ انتظامی عہدے خدمت کے بجائے طاقت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جو لوگ کل تک عام ملازمتیں کرتے تھے، وہ وقت کے ساتھ زمین اور پراپرٹی کے معاملات میں اتنے بااثر ہو گئے کہ عام آدمی ان کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرنے لگا۔
میں کسی فرد پر بغیر ثبوت الزام نہیں لگاتا، مگر سوال ضرور کرتا ہوں کہ اگر کسی سوسائٹی کے رہائشی برسوں سے یہ شکایت کر رہے ہوں کہ انتظامیہ شفاف نہیں، فیصلے غیر واضح ہیں، حساب کتاب سامنے نہیں آتا اور ہر معاملے میں طاقتور لوگ غالب رہتے ہیں تو پھر متعلقہ اداروں کو اس کا نوٹس کیوں نہیں لینا چاہیے؟
قرآن مجید ہمیں حکم دیتا ہے:
“إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا”
اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کے سپرد کرو۔
(النساء: 58)
سوسائٹی کی انتظامیہ بھی ایک امانت ہے۔ رہائشیوں کے ووٹ بھی امانت ہیں۔ ان کے واجبات، ترقیاتی فنڈز اور اجتماعی وسائل بھی امانت ہیں۔ اگر کوئی ان چیزوں کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے تو وہ صرف سوسائٹی کو نہیں، اجتماعی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
حالیہ انتخابات نے بھی بہت سے سوالات کھڑے کیے۔ ایک انتظامیہ کامیاب ہوئی، پھر نااہلی اور ڈس کوالیفکیشن کے معاملات سامنے آئے، فیصلوں پر سوالات اٹھے اور معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا۔ عام رہائشی آج بھی یہی پوچھ رہا ہے کہ آخر ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کا انتخاب بھی ایسا معاملہ کیوں بن جاتا ہے جس پر لوگوں کا اعتماد متزلزل ہو جائے؟
میں عدالتوں یا وکلا پر عمومی الزام لگانے کے حق میں نہیں۔ پاکستان میں بے شمار جج اور وکیل دیانت داری سے کام کر رہے ہیں۔ مگر جہاں عوام کے ذہن میں کسی فیصلے کے بارے میں سوال پیدا ہو وہاں شفافیت ضروری ہے۔ فیصلے قانون کے مطابق ہوں اور لوگوں کو معلوم ہو کہ کس بنیاد پر فیصلہ ہوا۔
لیکن جناب! سوسائٹی کا سب سے بڑا عذاب آج بجلی ہے۔پانی ہے سیکورٹی کے مسائل ہیں ۔ٹینکر مافیا ہے یہ کاکروچوں کی طرح سوسائٹی کی سڑکوں پر چلتے پھرتے نظر اتے ہیں۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ جب سے واپڈا کا دفتر سوسائٹی کے اندر قائم ہوا ہے، رہائشیوں کے مطابق مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔
کبھی رات کو ذرا تیز ہوا چلی، کوئی معمولی تکنیکی خرابی ہوئی، کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ پیدا ہوا اور بجلی بند۔
پھر صاحب دفتر سے نکلے، گھر گئے اور پوری رات سوسائٹی کے لوگ اندھیرے اور گرمی میں تڑپتے رہے۔
صبح ساڑھے آٹھ یا پونے نو بجے دفتر کھلا، سوئچ آن ہوا اور بجلی بحال!
یہ کون سا نظام ہے؟
اگر بجلی کا مسئلہ رات کو پیدا ہو جائے تو کیا خرابی بھی دفتری اوقات دیکھ کر پیدا ہوگی؟
اور سب سے بڑا سوال: شکایت کس سے کی جائے؟
رہائشی فون کرتے ہیں، فون نہیں اٹھایا جاتا۔ سوسائٹی انتظامیہ سے رابطہ کریں تو وہاں بھی خاموشی۔ کسی ایک صاحب کا نمبر دیا جاتا ہے، دوسرے نمبر پر فون کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا نمبر بلاک ہے۔
یعنی عوام کا کام صرف بل دینا ہے، سوال کرنا نہیں!
گرمی میں گھروں کے اندر بچے چیخ رہے ہوں، بزرگ پریشان ہوں، خواتین بے حال ہوں، بیمار افراد تکلیف میں ہوں اور دوسری طرف ذمہ دار لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے ہوں تو اسے انتظامیہ نہیں کہا جا سکتا۔
یہاں ایک باقاعدہ 24 گھنٹے شکایت مرکز ہونا چاہیے، جہاں فون اٹھایا جائے، شکایت درج ہو، شکایت نمبر دیا جائے اور معلوم ہو کہ خرابی کب دور ہوئی۔
یہ بھی ریکارڈ ہونا چاہیے کہ بجلی کب بند ہوئی، کیوں بند ہوئی، کس نے بند کی اور کس نے بحال کی۔
اگر کوئی اہلکار واقعی مجبوری کے تحت بجلی بند کرتا ہے تو اس کی وجہ ریکارڈ میں آنی چاہیے۔ اگر کوئی دانستہ طور پر بجلی بند کرکے گھر چلا جاتا ہے تو پھر محکمانہ کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ عوام پر احسان نہیں، سرکاری ذمہ داری ہے۔
پانی کا مسئلہ بھی برسوں پرانا ہے۔ کبھی گدلا پانی، کبھی ناقص پانی، کبھی پانی کی کمی۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کی جمع پونجی لگا کر یہاں گھر بناتے ہیں، انہیں پینے کا صاف پانی فراہم کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟
پھر سوسائٹی کے دفتر اور انتظامیہ کا معاملہ ہے۔ رہائشی سوال کرتے ہیں کہ رجسٹرار کے دفتر سے باقاعدہ رابطہ کیوں نہیں؟ متعلقہ اداروں سے جواب دہی کیوں نہیں؟ حساب کتاب کہاں ہے؟ فیصلوں کی تفصیل کہاں ہے؟
اگر انتظامیہ درست ہے تو حساب دینے میں کیا حرج ہے؟
اگر سب کچھ قانون کے مطابق ہے تو شفافیت سے خوف کیوں؟
مسئلہ صرف ایک سوسائٹی کا نہیں۔ مسئلہ اس سوچ کا ہے جس نے پاکستان کے بے شمار اداروں کو اندر سے کھوکھلا کیا ہے: میرا عہدہ، میرا اختیار، میری مرضی۔
یہی تو بگڑا ہوا پاکستان ہے۔
ہم بڑے بڑے منصوبوں کی بات کرتے ہیں، اربوں روپے کے بجٹ پیش کرتے ہیں، ترقی کے دعوے کرتے ہیں، مگر ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے لوگوں کو صاف پانی، بجلی اور شکایت کا جواب نہیں دے سکتے۔
ہم جمہوریت کے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر ایک سوسائٹی کے انتخابات شفاف طریقے سے کرانے میں ناکام رہتے ہیں۔
ہم قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں مگر عام آدمی کو یہ یقین نہیں دلا پاتے کہ اس کی شکایت واقعی سنی جائے گی۔
میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملات کا نوٹس لیا جائے۔
کسی ایک فریق کی حمایت نہ کی جائے، بلکہ غیر جانب دار انکوائری کرائی جائے۔
سوسائٹی کے مالی معاملات کا آزادانہ آڈٹ ہو۔
انتظامی فیصلوں کی جانچ ہو۔
حالیہ انتخابات اور ان کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔
واپڈا کے مقامی دفتر کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔
رات کے وقت بجلی کی بندش اور شکایات نہ سننے کے معاملے کی تحقیقات ہوں۔
اور سب سے بڑھ کر رہائشیوں کے لیے ایک مؤثر، فعال اور 24 گھنٹے دستیاب شکایت مرکز قائم کیا جائے۔
میں وزیراعلیٰ صاحبہ سے یہ نہیں کہتا کہ کسی کو بغیر ثبوت سزا دیں۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ جس کی ذمہ داری ہے اسے جواب دینا چاہیے۔
اگر کوئی بے قصور ہے تو تحقیقات اسے بے قصور ثابت کر دیں گی۔
اگر کوئی قصوروار ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
یہی انصاف ہے، یہی شفافیت ہے اور یہی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے۔ وہ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔ وہ بجلی کا بل دیتے ہیں، پانی کے اخراجات دیتے ہیں، سوسائٹی کے واجبات ادا کرتے ہیں اور اپنی زندگی کی جمع پونجی یہاں لگا چکے ہیں۔
انہیں صرف یہ چاہیے کہ ان کے بچوں کو گرمی میں رات بھر بجلی کے بغیر نہ تڑپنا پڑے۔
ان کے گھروں میں صاف پانی آئے۔
ان کی شکایت سنی جائے۔
ان کے ووٹ کی عزت ہو۔
ان کے پیسے کا حساب ہو۔
اور ان کے منتخب نمائندے ان کے سامنے جواب دہ ہوں۔
آخر میں ایک بات بہت واضح ہے:
ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی ایک بگڑا ہوا پاکستان ہے۔
اس آئینے کو توڑنے کی ضرورت نہیں۔
اس میں اپنا چہرہ دیکھنے اور اسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔