جماعتِ اسلامی کو 85واں یومِ تاسیس مبارک۔

جماعتِ اسلامی سے میرا تعلق — ایک عمر کی فکری رفاقت
تحریر انجینئر افتخار چودھری

26 اگست 1941ء کو قائم ہونے والی جماعتِ اسلامی آج اپنے قیام کے 85 سال مکمل کر رہی ہے۔ میں پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھتا ہوں، لیکن یہ بات پوری دیانت داری سے تسلیم کرتا ہوں کہ میری فکری اور عملی تربیت میں اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعتِ اسلامی کا بہت بڑا حصہ ہے۔ میں نے زندگی میں جو کچھ سیکھا، اس میں جمعیت اور جماعت کا کردار ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔

میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ایک سرگرم رکن تھا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے تو مجھے ایک خاص قلبی محبت تھی۔ 1970ء کی انتخابی مہم کے زمانے میں گوجرانوالہ سے ان کے جلسوں میں جایا کرتا تھا۔ مولانا مودودیؒ مجھے نام سے بھی جانتے تھے اور کبھی مسکرا کر کہا کرتے تھے: زمانہ میں ہماری گلی میں پیپلز پارٹی کے بے شمار جھنڈے لٹکے ہوئے ہوتے تھے سرفراز بٹ یونس بٹ اور تیسرا گھر میرا تھا جہاں پہ جماعت اسلامی کا جھنڈا لگا ہوتا تھا اور میرے گھر کے سامنے بہت بڑا بینر بھی چوہدری اسلم صاحب کے لیے لٹکا رہتا تھا

”گوجرانوالہ سے میرا دوست ننّو افتخار آ گیا ہے۔“

یہ جملہ آج بھی میری زندگی کی قیمتی یادوں میں شامل ہے۔

ایک مرتبہ میں مولانا مودودیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عصر کی نماز کے بعد درسِ قرآن تھا۔ درس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے نوجوانی کے جوش میں پوچھ لیا، مولانا! آپ نے اخبار میں غلام غوث ہزاروی کا یہ بیان تو پڑھا ہوگا کہ وہ آپ سے کشتی کرنا چاہتے ہیں، آپ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے؟

محفل میں موجود لوگ ہنسنے لگے۔ مولانا مودودیؒ نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور پھر اپنے دارالمطالعہ میں لے گئے۔ وہاں انہوں نے بڑی شفقت سے بتایا کہ وہ صبح سویرے نماز کے بعد کس طرح اپنے علمی کام کا آغاز کرتے ہیں، قرآنِ مجید پر غور و فکر کیسے کرتے ہیں اور اپنا وقت مطالعہ و تصنیف میں کس طرح صرف کرتے ہیں۔

وہ اس زمانے میں تفہیم القرآن کے کام میں مصروف تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ قرآنِ مجید کی آیات لکھنے اور ترجمے پر کام کرنے میں مصروف تھے۔ میں خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔ اس ملاقات نے میرے ذہن پر ایسا نقش چھوڑا جو آج بھی قائم ہے۔

میں نے ان سے کہا تھا، مولانا! آپ اپنا کام جاری رکھیں، میں اپنا کام کرتا ہوں اور میرے محلے کے لڑکے بھی اپنا کام کریں گے۔ شاید اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں تاریخ کے ایک بڑے مفکر کے سامنے بیٹھا ہوں، مگر آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ چند لمحے میری زندگی کے قیمتی ترین لمحات میں شمار ہوتے ہیں۔

بعد میں مولانا مودودیؒ کا ایک جلسہ بھی دیکھا۔ جلسہ گاہ میں پن ڈراپ سائلنس تھا۔ ہزاروں لوگ موجود تھے لیکن ہر شخص ان کی گفتگو سننے کے لیے پوری طرح متوجہ تھا۔ مجھے وہ منظر آج بھی یاد ہے۔

مولانا مودودیؒ شاید وہ سیاسی انقلاب نہ لا سکے جس کا خواب ان کے پیش نظر تھا، لیکن انہوں نے پاکستان کی فکری سمت ضرور متعین کر دی۔ انہوں نے پاکستان کے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی ذمہ داری بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اسلام کے تصور کو سیاست، معاشرت، تعلیم اور ریاست کے مباحث میں زندہ رکھنے میں جماعتِ اسلامی اور مولانا مودودیؒ کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج میرا سیاسی راستہ پاکستان تحریکِ انصاف ہے۔ میں اس جماعت کا کارکن ہوں، مگر اپنے ماضی کو مٹانا میرے لیے ممکن نہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعتِ اسلامی نے مجھے جو کچھ دیا، میں اسے زندگی بھر کا اثاثہ سمجھتا ہوں۔

سیاسی اختلاف اپنی جگہ، نظریاتی بحث اپنی جگہ، لیکن کسی انسان یا جماعت کے مثبت کردار کو تسلیم کرنا دیانت داری ہے۔

آج جماعتِ اسلامی کے یومِ تاسیس پر مجھے اپنے ان تمام دوستوں کی یاد آ رہی ہے جن کے ساتھ میری فکری اور عملی رفاقت رہی۔ فرید احمد پراچہ صاحب، سید احسان اللہ صاحب، عباس حمید الدین صاحب، سلیم منصور خالد صاحب اور جماعت کے بہت سے دوسرے پرانے ساتھی—جب بھی ملاقات ہوتی ہے، پرانی یادوں کی محفل خود بخود جم جاتی ہے۔

سعودی عرب میں میرے ہمسائے اور مخلص دوست محمد ریاض فاروق ساہی صاحب بھی جماعتِ اسلامی کے سچے اور مخلص کارکن تھے۔ ان کے ساتھ گزرا ہوا وقت بھی میرے لیے اسی فکری رفاقت کا ایک خوبصورت باب ہے۔ آج میں انہیں بھی خصوصی طور پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

جماعتِ اسلامی کی ایک بڑی خوبی یہ رہی کہ اس نے قیادت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے کارکن کو صرف نعرہ لگانے والا نہیں بنایا بلکہ اسے پڑھنے، سوچنے، سوال کرنے، دلیل دینے، تنظیم بنانے اور قیادت کرنے کی تربیت دی۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جماعت نے پاکستان میں ایسے سیاسی رہنما پیدا کیے جنہوں نے مختلف ادوار میں اپنی صلاحیت اور کردار کا اظہار کیا۔ قاضی حسین احمدؒ ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے جماعتِ اسلامی کو عوامی سطح پر ایک مضبوط آواز دی۔

”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا إله إلا الله“—یہ تصور ہماری قومی اور فکری تاریخ کا حصہ ہے، اور اس تصور کو سیاسی اور اجتماعی زندگی میں زندہ رکھنے کی جدوجہد میں جماعتِ اسلامی کا کردار نمایاں رہا ہے۔ عمران خان نے بھی قاضی حسین احمدؒ سے بہت کچھ سیکھا اور ان کے ساتھ ان کا فکری رابطہ اس بات کی علامت تھا کہ مختلف سیاسی راستوں پر چلنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔

آج بھی کبھی کوئی چھوٹی سی بات ہو تو میں سراج الحق صاحب سے رابطہ کرتا ہوں اور اکثر جواب بھی آ جاتا ہے۔ یہ تعلق کسی سیاسی ضرورت کا نہیں بلکہ پرانی رفاقت، احترام اور انسانی تعلق کا ہے۔

قرآنِ مجید کا فرمان ہے:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ

”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔“
(المائدہ: 2)

میرے نزدیک جماعتِ اسلامی کے 85 سالہ سفر کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ کسی جماعت میں خامیاں نہ ہوں، یہ ممکن نہیں۔ کارکن اور قیادت دونوں انسان ہوتے ہیں، اس لیے غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن سالگرہ اور یومِ تاسیس کا دن کسی جماعت کی غلطیوں کی فہرست بنانے کے بجائے اس کے مثبت کردار کو یاد کرنے کا دن ہے۔ تنقید کے لیے پورا سال پڑا ہے۔

آج کا دن ان لوگوں کو سلام پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کسی ذاتی مفاد کے بغیر ایک نظریے، ایک مقصد اور ایک بہتر معاشرے کے لیے وقف کیا۔

اس لیے میں پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے کے باوجود آج جماعتِ اسلامی کے تمام کارکنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

فرید احمد پراچہ صاحب، سید احسان اللہ صاحب، عباس حمید الدین صاحب، سلیم منصور خالد صاحب، محمد ریاض فاروق ساہی صاحب اور جماعتِ اسلامی کے تمام پرانے اور نئے ساتھیوں کو میری طرف سے 85واں یومِ تاسیس بہت بہت مبارک ہو۔

یہ صرف ایک جماعت کی سالگرہ نہیں، بلکہ ان لوگوں کی یاد کا دن بھی ہے جنہوں نے پاکستان کی فکری اور اخلاقی زندگی میں اپنا حصہ ڈالا۔

میرا سیاسی راستہ آج پاکستان تحریکِ انصاف ہے، لیکن میری فکری تربیت کے جن راستوں میں اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعتِ اسلامی شامل ہیں، میں ان راستوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

جس دروازے سے انسان نے علم، کردار اور شعور حاصل کیا ہو، عمر گزر جانے کے بعد بھی وہ دروازہ اس کے دل میں بند نہیں ہوتا۔

جماعتِ اسلامی کے تمام کارکنوں، سابقین، متفقین اور دنیا بھر میں اس فکر سے وابستہ لوگوں کو میری طرف سے یومِ تاسیس مبارک۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو ایسا ملک بنائے جہاں سیاست اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ ہو، اختلاف دشمنی نہ بنے، اور دین محض نعرہ نہیں بلکہ کردار بن کر سامنے آئے۔

جماعتِ اسلامی کو 85واں یومِ تاسیس مبارک۔