تبدیلی کی حقیقی بنیاد

ایک سوال جو ریاست سے بھی ہے اور قوم سے بھی ؟ تحریر : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
جس پاکستان میں شہریوں کو دن کے چوبیس گھنٹوں میں چند گھنٹے وقفوں کے ساتھ سوئی گیس ملے، جہاں بجلی کا ایک یونٹ تمام ٹیکسوں اور سرچارجز سمیت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جائے، جہاں مہنگائی گھر کے چولہے سے لے کر بچوں کی تعلیم تک ہر ضرورت کو آزمائش بنا دے، اور جہاں روزگار کے دروازے میرٹ کے بجائے سفارش، طاقت اور تعلقات سے کھلتے ہوں، وہاں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ریاست آخر کس کے لیے ہے؟
ایک طرف عام آدمی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بجلی، گیس، پانی، خوراک، علاج، تعلیم اور سفری اخراجات پر خرچ کرنے کے باوجود بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے؛ دوسری طرف حکمران طبقے کی مراعات، سرکاری سہولتیں، بیرونی دورے، پروٹوکول اور مراعات کا نظام مسلسل قائم رہتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ عوام غریب ہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی وسائل کی تقسیم میں انصاف کہاں ہے؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، پورے نظام سے ہے۔
پاکستان 1947ء میں ایک عظیم تاریخی خواب کے ساتھ وجود میں آیا تھا۔ لاکھوں انسانوں نے ہجرت کی، بے شمار خاندان اجڑے، جانیں گئیں اور ایک نئی ریاست کے قیام کی قیمت عام لوگوں نے اپنے خون اور گھر بار سے ادا کی۔ مگر 1971ء میں یہی ریاست اپنے آدھے جغرافیے سے محروم ہوگئی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی محض ایک فوجی شکست نہیں تھی؛ یہ سیاسی، معاشی، انتظامی اور اخلاقی ناکامیوں کا مجموعہ بھی تھی۔
تاریخ کا سب سے خطرناک سبق یہ ہے کہ ریاستیں صرف بیرونی دشمنوں سے نہیں ٹوٹتیں۔ کبھی ریاست کے اندر پیدا ہونے والی ناانصافی، سیاسی محرومی، معاشی عدم مساوات، طاقت کا ارتکاز اور عوامی آواز کو مسلسل نظرانداز کرنا بھی ریاستی وحدت کو کمزور کر دیتا ہے۔
اس لیے 1971ء کو صرف ’’غداروں‘‘ یا ’’بیرونی سازش‘‘ کے ایک جملے میں بند کر دینا تاریخ کو آسان بنانا ہے، سمجھنا نہیں۔
پھر آج کیا بدلا؟
آج بھی پاکستان کے سامنے وہی بنیادی سوال مختلف شکلوں میں موجود ہیں:
کیا شہری کو ریاست میں برابر کا حصہ حاصل ہے؟
کیا ملازمت واقعی میرٹ پر ملتی ہے؟
کیا قانون طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں ہے؟
کیا انتخابات کا مینڈیٹ محفوظ رہتا ہے؟
کیا پارلیمان واقعی پالیسی بناتی ہے؟
کیا عدالتوں کے فیصلوں پر بلاامتیاز عمل ہوتا ہے؟
کیا قومی دولت کا بوجھ اور اس کے ثمرات منصفانہ طور پر تقسیم ہوتے ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر:
کیا ریاست اپنے شہری کو عزت، تحفظ، انصاف اور معاشی مستقبل فراہم کر رہی ہے؟
اگر ان سوالات کے جواب مسلسل منفی ہوتے جائیں تو مسئلہ صرف مہنگائی یا گیس کی بندش کا نہیں رہتا۔ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
قوم کیوں نہیں اٹھتی؟
یہ کہنا آسان ہے کہ ’’قوم سو رہی ہے‘‘، لیکن تاریخ زیادہ پیچیدہ جواب دیتی ہے۔
ایک ایسا شخص جو روزانہ روزگار، راشن، بجلی کے بل، بچوں کی فیس، علاج، کرائے اور قرض کے درمیان پھنسا ہو، اس کے پاس سیاسی مزاحمت کے لیے وقت، وسائل اور تحفظ کم رہ جاتا ہے۔
جب خوف، معاشی مجبوری اور سیاسی بے یقینی طویل عرصے تک قائم رہیں تو معاشرہ لازماً خاموش نہیں ہوتا؛ وہ اکثر بقا کی جنگ میں مصروف ہو جاتا ہے۔
طاقت کا عدم توازن بھی اسی خاموشی کو بڑھاتا ہے۔
ریاست کے پاس قانون، ادارے، وسائل، انتظامیہ، پولیس اور اسلحہ ہوتا ہے؛ عام شہری کے پاس عموماً صرف اس کا ووٹ، آواز اور اجتماعی قوت ہوتی ہے۔ جب شہری کی اجتماعی قوت منتشر ہو جائے تو وہ طاقتور اداروں کے مقابلے میں بے اثر محسوس کرنے لگتا ہے۔
لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بندوق ہر مسئلے کا حل نہیں۔
بندوق طاقت کا مقابلہ کر سکتی ہے، مگر پائیدار ریاست قانون، آئین، عوامی رضامندی، ادارہ جاتی احتساب اور منصفانہ معاشی نظام سے بنتی ہے۔
خدا قوم کی حالت کب بدلتا ہے؟
قرآن کا اصول ہے:
’’إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ‘‘
یعنی اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔
اس آیت کو محض سیاسی نعرہ بنا دینا بھی درست نہیں۔ اس کا ایک گہرا اخلاقی اور اجتماعی مفہوم ہے: دعا کے ساتھ عمل، خواہش کے ساتھ ذمہ داری، اور شکایت کے ساتھ اصلاح ضروری ہے۔
اگر قوم ظلم کو ظلم کہنے سے ڈرے، نااہلی کو قبول کرے، میرٹ کی جگہ سفارش لے، بدعنوانی کو معمول سمجھے، ووٹ کو فروخت کرے، قانون شکنی کو اپنے مفاد میں درست قرار دے اور پھر صرف آسمانی مدد کا انتظار کرے تو اجتماعی تبدیلی مشکل ہو جاتی ہے۔
لیکن اس کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے:
قوم کو بدلنے کا مطلب یہ نہیں کہ مظلوم ہی ظلم کا ذمہ دار ہے۔
ریاستی جبر، بدعنوانی، سیاسی انجینئرنگ، معاشی استحصال، قانون کی غیر مساوی عمل داری اور ادارہ جاتی زیادتی کی ذمہ داری ان لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو اختیار رکھتے ہیں۔
اصل سوال
پاکستان کا اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ گیس کتنے گھنٹے آتی ہے یا بجلی کا یونٹ کتنے روپے کا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ:
اس ریاست کے فیصلے کون کرتا ہے، وسائل کس کے لیے استعمال ہوتے ہیں، قانون کس پر لاگو ہوتا ہے، اقتدار کس طرح منتقل ہوتا ہے، اور عام شہری کی زندگی بہتر بنانے کی ذمہ داری آخر کس کی ہے؟
اگر 1947ء میں ایک قوم نے آزادی کے لیے قربانیاں دی تھیں تو 2026ء میں اس آزادی کا امتحان صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ انصاف، میرٹ، آئین، روزگار، تعلیم، صحت، توانائی اور شہری وقار کے میدان میں بھی ہو رہا ہے۔
قوموں کی تباہی صرف اس وقت نہیں ہوتی جب ان کے شہر جلتے ہیں۔
کبھی کبھی قومیں اس وقت بھی اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں جب ان کے نوجوان مستقبل کی امید چھوڑ دیں، جب میرٹ پر یقین ختم ہو جائے، جب قانون طاقتور کے سامنے کمزور پڑ جائے، جب عوام اپنے ہی ملک میں بے اختیار محسوس کرنے لگیں اور جب ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا آخری پل بھی کمزور ہو جائے۔
اس لیے آج پاکستان کو صرف ایک نئی حکومت نہیں، بلکہ ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔
ایسا معاہدہ جس میں ریاست شہری سے وفاداری مانگے تو شہری کو بھی ریاست سے انصاف ملے؛ ریاست ٹیکس مانگے تو بدلے میں بنیادی سہولت دے؛ ریاست قانون کی پابندی چاہے تو خود بھی قانون کی پابند ہو؛ ریاست قربانی مانگے تو قربانی کا بوجھ صرف غریب پر نہ ڈالے۔
کیونکہ آخرکار ریاست بندوق سے نہیں، عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔
اور جس دن ایک قوم اپنے بنیادی حقوق، اپنی ذمہ داریوں، اپنے آئین اور اپنے مستقبل کو سمجھ کر پُرامن، منظم اور مسلسل جدوجہد شروع کر دے، اسی دن تبدیلی کی حقیقی بنیاد پڑتی ہے۔