سائبر منڈیاں، ورچوئل سکے اور نیلام ہوتی انسانی حرمت

سائبر منڈیاں، ورچوئل سکے اور نیلام ہوتی انسانی حرمت

بقلم: علینہ خان (ٹوکیو ۔ جاپان)
تاریخ شاہد ہے کہ اقوام کی تباہی کا باقاعدہ آغاز اس وقت نہیں ہوتا جب کوئی بیرونی فوج ان کی سرحدوں پر حملہ آور ہوتی ہے بلکہ حقیقی زوال اس لمحے سے جنم لیتا ہے جب معاشرے کے اندر اخلاقی قدروں کی شکست و ریخت شروع ہوتی ہے۔ جب شرم و حیا اور خودداری جیسے بنیادی انسانی اوصاف کا سودا چند ناپائیدار سکوں کے عوض ہونے لگے تو پھر کسی قوم کی اجتماعی تباہی کے لیے کسی حادثے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آج ہمارا معاشرہ جس خطرناک موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے وہاں جدت اور ڈیجیٹل مواصلات کے خوشنما پردے کے پیچھے ایک ایسا المیہ جنم لے چکا ہے جو ہماری علمی اور اخلاقی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
گزشتہ دنوں ایک لائیو ڈیجیٹل سٹریمنگ کے دوران ایک ایسا روح فرسا منظر نظر سے گزرا جس نے لمحہ بھر کے لیے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا ہم بحیثیت قوم اپنی تمام تر روایات گنوا چکے ہیں؟ اسکرین کے ایک طرف ناظرین کا غیر مرئی ہجوم تھا اور دوسری جانب ایک خاتون۔ ہر آنے والے “ورچوئل تحفے” کی قیمت کے بدلے ایک نیا اخلاق باختہ مطالبہ داغ دیا جاتا۔ چادر اتارنے کی فرمائش سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ قدم بقدم شرمناک مطالبات کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ ہر نئے گفٹ کی صورت میں مطالبے کی نوعیت مزید واہیات ہوتی چلی گئی۔ اس منظر نے دل کو اس حد تک دہلا دیا کہ انسان سوچنے لگتا ہے کہ کیا ہم واقعی اسی معاشرے کے باشندے ہیں جس کی بنیادیں عزت وقار اور حرمت پر استوار تھیں؟
حقائق کی تہہ تک پہنچنے پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ واقعہ کوئی اتفاقی حادثہ یا استثنائی مثال نہیں تھا بلکہ ہمارے اردگرد ایسی بے شمار ڈیجیٹل منڈیاں قائم ہو چکی ہیں جہاں انسانی وجود اور حیا کو محض تفریح کے سامان کے طور پر نیلام کیا جا رہا ہے۔ اگر اس پورے سلسلے کا تادیبی و فکری جائزہ لیا جائے تو ایک باقاعدہ سائنسی پیٹرن نمایاں ہوتا ہے۔ کھیل کا آغاز ایک لائیو سیشن سے ہوتا ہے ناظرین کو اکٹھا کیا جاتا ہے پھر مالی مفاد کا لالچ دے کر اخلاقی حدیں توڑنے پر اکسایا جاتا ہے۔ اصول بڑا سادہ اور لرزہ خیز ہے: جتنی بڑی اخلاقی حد پامال کی جائے گی مالی انعام کی مقدار اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔
“یہ محض تفریح یا لائیو سٹریمنگ کا مشغلہ نہیں رہا بلکہ یہ بے حیائی کی ایک باقاعدہ ‘ڈیجیٹل مونوٹائزیشن’ ہے جہاں عزت کو بولی میں بدل کر معاشی مفادات حاصل کیے جا رہے ہیں۔”
اس تجارتی چکر کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے ٹک ٹاک کے ورچوئل گفٹنگ سسٹم کی کارکردگی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ صارف حقیقی کرنسی کے بدلے سکے خریدتا ہے اور انہیں مختلف علامتی تحائف کی صورت میں سٹریمرز کی طرف منتقل کرتا ہے جو بعد میں نقد رقم کی شکل میں تبدیل ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس تکنیکی نظام میں کوئی قباحت نہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس سہولت کو سستی شہرت اور مال کمانے کے لیے بے حیائی کا ایک باقاعدہ بزنس ماڈل بنا دیا گیا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب لوگ اپنے قریبی رشتوں اور اہل خانہ کو اس لائیو شو میں شامل کر کے نیلامی کے اس کاروبار کا حصہ بن رہے ہیں جہاں نہ تو خاندانی پاسداری باقی بچی ہے اور نہ ہی ادب و احترام۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر لوگ اس حد تک گرنے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں؟ صرف پیسے کی لالچ یا چند لمحاتی ویوز اور شہرت کا بھوت؟ حقیقت یہ ہے کہ اس زوال کے ذمہ دار صرف وہ کرئیٹرز نہیں بلکہ بطور ناظر ہم خود بھی ہیں۔ جب ہم تجسس یا تفریح کی خاطر ایسی ویڈیوز پر کلک کرتے ہیں انہیں پسند کرتے ہیں شیئر کرتے ہیں یا تبصرے کرتے ہیں تو ہم دراصل اس الگورتھم کی مالی و معنوی آبیاری کر رہے ہوتے ہیں جو اس غلاظت کو وائرل کرتا ہے۔ ہم نادانستہ طور پر اس ناپاک منڈی کے خریدار اور سہولت کار بن جاتے ہیں۔
تاہم اس ابتر صورتحال میں تمام کرئیٹرز یا ناظرین کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا ناانصافی ہوگی۔ اصل جرم اس وقت وجود میں آتا ہے جب گفٹ کا لالچ دے کر کسی فرد کو غیر قانونی غیر اخلاقی اور ناگفتہ بہ حرکات پر مجبور کیا جاتا ہے یا اس کے ذریعے کسی منظم گروہ کے مالی مفادات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ جب معاملہ اس نہج پر پہنچ جائے تو یہ محض سوشل میڈیا کی تفریح نہیں رہتی بلکہ سائبر کرائم کی حدود میں داخل ہو جاتی ہے جہاں ریاست اور اس کے نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری کا آغاز ہوتا ہے۔
پاکستان میں سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے باقاعدہ قوانین بااختیار ادارے اور ریگولیٹری باڈیز موجود ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان تمام تر آئینی و انتظامی اختیارات کی موجودگی میں یہ گھناؤنا کھیل اتنی بے باکی سے کیسے جاری ہے؟
• کیا ایسے نامناسب سیشنز چلانے والے اکاؤنٹس کو فوری طور پر ٹریک اور بلیک لسٹ نہیں کیا جا سکتا؟
• جو افراد ان لائیو شوز پر اندھا دھند رقم بہا رہے ہیں کیا ان کے ذرائع آمدن کی چھان بین نہیں ہونی چاہیے؟
• کیا اس بات کا سراغ لگانا ضروری نہیں کہ آیا اس گفٹنگ کے پیچھے منی لانڈرنگ یا بلیک میلنگ کا کوئی منظم نیٹ ورک تو کام نہیں کر رہا؟
اکثر یہ شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ “سوشل میڈیا نے نئی نسل کو بگاڑ دیا ہے”۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ بحیثیت سرپرست ہم نے اپنے بچوں کو کیا تربیت دی؟ ہم نے ان کے ہاتھوں میں بغیر کسی پابندی اور رہنمائی کے سمارٹ فون اور ان لمیٹیڈ انٹرنیٹ تھما دیا اور پھر ان سے خود بخود اخلاقی معیار قائم رکھنے کی امید لگا بیٹھتے ہیں۔ والدین کو سمجھنا ہوگا کہ بچوں کو ڈیجیٹل لٹریسی دیے بغیر صرف آلاتِ مواصلات فراہم کر دینا انہیں اخلاقی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
حکومت اور ریگولیٹرز کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کسی ایپ پر مکمل پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ ایک پلیٹ فارم بند ہوگا تو دوسرا سامنے آ جائے گا۔ پائیدار حل صرف اس بات میں ہے کہ مانیٹرنگ کے نظام کو جدید بنایا جائے فوری قانونی کارروائی کی جائے اور سائبر فرانزک آڈٹ کو یقینی بنایا جائے۔
آج بطور قوم ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو سائنس، ادب، ہنر اور تحقیق کی روشنی دینا چاہتے ہیں یا پھر انہیں وائرل ویڈیوز اور فیملی ولاگنگ کی اس ارزاں دنیا میں ضائع ہونے دینا چاہتے ہیں؟ اگر ہم نے آج بحیثیت معاشرہ اور ریاست اس اخلاقی گراوٹ کا راستہ نہ روکا تو کل تاریخ کے صفحات میں ہماری اس خاموشی کو جرمِ عظیم کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔