پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی قانونی حیثیت

تحریر: محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی قانونی حیثیت پیچیدہ ہے، کیونکہ پاکستان نے 1951 کے بین الاقوامی پناہ گزین کنونشن پر دستخط نہیں کیے، جس کی وجہ سے یہاں مہاجرین کا زیادہ تر نظام ملکی قوانین اور وقتی حکومتی پالیسیوں کے تحت چلتا ہے۔
ذیل میں پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی موجودہ قانونی دستاویزات اور عالمی سطح پر پناہ گزینوں کے قوانین کی حالیہ خلاف ورزیوں کی تفصیل دی گئی ہے۔
1۔ پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی قانونی حیثیت
پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کو حکومتِ پاکستان اور یو این ایچ سی آر (UNHCR) کی طرف سے مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:
POR کارڈ ہولڈرز (Proof of Registration): یہ وہ افغان پناہ گزین ہیں جو باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں۔ حکومتِ پاکستان ان کارڈز کی مدت میں وقتاً فوقتاً توسیع کرتی رہتی ہے (جیسے حالیہ برسوں میں 2024 اور 2025 کے دوران ان کی مدت بڑھائی گئی)۔ یہ کارڈ ہولڈرز پاکستان میں قانونی طور پر قیام کر سکتے ہیں۔
ACC ہولڈرز (Afghan Citizen Card): یہ کارڈ 2017 میں ان افغان شہریوں کو جاری کیا گیا تھا جو پہلے رجسٹرڈ نہیں تھے۔ یہ بنیادی طور پر ایک افغان شہری کی دستاویز ہے، پناہ گزین کی نہیں۔
غیر دستاویزی یا غیر قانونی مقیم افغان: وہ افراد جن کے پاس کوئی قانونی ویزا، پاسپورٹ یا مذکورہ بالا کارڈز نہیں ہیں۔ حکومتِ پاکستان کے “Illegal Foreigners Repatriation Plan” (غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کا منصوبہ) کے تحت ایسے افراد کو ملک بدر کرنے یا رضاکارانہ طور پر واپس بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔
2۔ عالمی قوانین کی موجودہ دور میں خلاف ورزیاں
حالیہ برسوں میں (2024 سے 2026 تک) دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے بنیادی حقوق اور 1951 کے کنونشن کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جن کی بڑی مثالیں درج ذیل ہیں:
| ملک / خطہ | قانون کی خلاف ورزی کی نوعیت | اثرات |
|—|—|—|
| یورپی یونین (EU) اور یونان | Pushbacks (زبردستی واپسی): بحیرہ روم اور سرحدوں پر پناہ گزینوں کی کشتیوں کو بین الاقوامی پانیوں میں زبردستی واپس دھکیل دیا جاتا ہے، جو Non-Refoulement (زبردستی واپس نہ بھیجنے) کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ | کشتیوں کے الٹنے سے ہزاروں پناہ گزین ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| برطانیہ (UK) | روانڈا پلان اور پناہ کی سخت پالیسیاں: اگرچہ برطانیہ کا متنازعہ روانڈا پلان (پناہ گزینوں کو افریقہ بھیجنے کا منصوبہ) سیاسی تبدیلیوں کی نظر ہوا، لیکن تارکینِ وطن کو حراستی مراکز میں رکھنے اور سمندری راستے سے آنے والوں کو پناہ کا حق نہ دینے کی پالیسیاں برقرار رہیں۔ | پناہ حاصل کرنے کے قانونی حق کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ |
| امریکہ (USA) | سرحدی پابندیاں اور پناہ معطلی: میکسیکو سرحد پر پناہ کی درخواستوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں اور روزانہ کی بنیاد پر پناہ گزینوں کی ایک مخصوص تعداد کے بعد سرحد کو عارضی طور پر بند کرنے کے قوانین نافذ کیے گئے۔ | بین الاقوامی قانون کے تحت ہر انسان کو پناہ کی درخواست دینے کے حق سے محروم کیا گیا۔ |
| مشرقِ وسطیٰ (غزہ اور لبنان بحران) | داخلی اور خارجی ناکہ بندی: حالیہ جنگی تنازعات میں لاکھوں لوگوں کو جان بچانے کے لیے محفوظ راستے (Safe Passages) فراہم نہیں کیے گئے اور جنگ زدہ علاقوں سے نکلنے پر پابندیاں دیکھنی پڑیں۔ | لاکھوں افراد شدید بمباری کے سائے میں محصور ہو کر رہ گئے۔ |
پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے تعلیمی اور کاروباری حقوق ان کی قانونی دستاویزات (جیسے POR کارڈ) سے مشروط ہیں، جبکہ یو این ایچ سی آر (UNHCR) پاکستان سے رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس جانے والے رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو نقد مالی امداد فراہم کرتا ہے۔
موجودہ صورتحال کی تفصیلی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے:
1۔ تعلیم اور کاروبار کے حقوق
پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کو حاصل حقوق مستقل قوانین کے بجائے حکومتی پالیسیوں اور بین الاقوامی امداد پر منحصر ہوتے ہیں۔
( الف) تعلیم کے حقوق
پرائمری اور سیکنڈری تعلیم: رجسٹرڈ پناہ گزینوں (POR کارڈ ہولڈرز) کے بچوں کو پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ UNHCR کے تعاون سے مہاجر کیمپوں میں مخصوص اسکول (Refugee Village Schools) بھی کام کر رہے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم (یونیورسٹیز): حکومتِ پاکستان نے افغان طلبہ کے لیے کوٹہ سسٹم اور مخصوص اسکالرشپ پروگرامز (جیسے علامہ اقبال اسکالرشپ) متعارف کروائے ہیں۔ تاہم، جن کے پاس POR کارڈ نہیں ہے، انہیں پاکستانی جامعات میں داخلے اور ڈگری کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
( ب) کاروبار اور معاشی حقوق
بینک اکاؤنٹس کی سہولت: حکومت نے POR کارڈ ہولڈرز کو پاکستان میں قانونی بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی ہوئی ہے، جس سے ان کے لیے کاروبار کرنا آسان ہوا ہے۔
کاروبار اور جائیداد: افغان پناہ گزین پاکستان میں اپنے نام پر مستقل جائیداد (زمین یا مکان) نہیں خرید سکتے۔ وہ عام طور پر کسی پاکستانی شہری کے نام پر یا شراکت داری (Partnership) کے تحت دکانیں اور کاروبار چلاتے ہیں۔
ملازمتیں: پناہ گزینوں کو سرکاری ملازمتوں کا حق حاصل نہیں ہے۔ وہ زیادہ تر غیر رسمی شعبے (Informal Sector) جیسے مزدوری، کپڑے کا کاروبار، قالین بافی، اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہیں۔
2۔ یو این ایچ سی آر (UNHCR) کا رضاکارانہ واپسی پروگرام اور مالی امداد
یو این ایچ سی آر (UNHCR) حکومتِ پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر “Voluntary Repatriation” (رضاکارانہ واپسی) کا پروگرام چلاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت صرف وہی افغان باشندے مالی امداد کے حقدار ہوتے ہیں جن کے پاس POR کارڈ موجود ہو۔
(الف) نقد مالی امداد (Cash Grant)
امداد کی رقم: افغانستان واپس جانے والے فی کس (Per Person) رجسٹرڈ پناہ گزین کو یو این ایچ سی آر کی طرف سے عام طور پر 700 امریکی ڈالر (یا اس کے مساوی رقم) کا یکمشت نقد گرانٹ دیا جاتا ہے۔ (نوٹ: یہ رقم سفری اخراجات اور افغانستان پہنچ کر ابتدائی آباد کاری کے لیے ہوتی ہے، اور وقت کے ساتھ اس میں معمولی ردوبدل ہوتا رہتا ہے)۔
اضافی امداد: معذور افراد، بیوہ خواتین، یا شدید ضرورت مند خاندانوں کو اضافی مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
( ب) واپسی کا طریقہ کار اور مراکز
ویریفیکیشن سینٹرز (VRC): پاکستان میں واپسی سے پہلے پناہ گزینوں کو یو این ایچ سی آر کے مخصوص مراکز (جیسے خیبر پختونخوا میں اضاخیل اور بلوچستان میں بلیلی مرکز) جا کر اپنی رجسٹریشن کی تصدیق کروانی ہوتی ہے۔
تکنیکی اسکریننگ: مرکز پر پناہ گزینوں کی آنکھوں کی اسکریننگ (Iris Scanning) کی جاتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی شخص دوبارہ امداد لینے کے لیے یہ عمل تو نہیں دہرا رہا۔
افغانستان میں وصولی: نقد رقم عام طور پر پاکستان سے نکلتے وقت یا افغانستان داخل ہونے کے بعد یو این ایچ سی آر کے انٹیگریشن مراکز (جیسے جلال آباد یا قندھار) میں دی جاتی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے غیر قانونی اور غیر دستاویزی غیر ملکیوں (بشمول ایسے افغان شہری جن کے پاس POR یا ACC کارڈ نہیں ہیں اور جن کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے) کے خلاف “Illegal Foreigners Repatriation Plan” (IFRP) کے تحت سخت ترین ضوابط نافذ کر رکھے ہیں۔
حالیہ حکومتی فیصلوں اور نافذ العمل ضوابط کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ فوری گرفتاری اور ملک بدری (Arrest and Deportation Directive)
ویزہ کے بغیر قیام پر کریک ڈاؤن: وفاقی وزارتِ داخلہ کی حالیہ ہدایات کے مطابق، ایسے تمام افغان شہری جو بغیر ویزہ یا زائد المیعاد ویزہ (Expired Visa) پر مقیم ہیں، انہیں فوری طور پر گرفتار کر کے ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
روزانہ کی رپورٹنگ: چاروں صوبوں کی پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر گرفتار اور ڈیپورٹ ہونے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی رپورٹ وزارتِ داخلہ کو جمع کروائیں۔
2۔ ہولڈنگ اور ٹرانزٹ سینٹرز کا قیام (Holding and Transit Centers)
مخصوص مراکز: غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو براہِ راست عام جیلوں میں رکھنے کے بجائے حکومت نے ملک بھر میں مخصوص ٹرانزٹ اور ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے ہیں (جیسے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں)۔
بائیومیٹرک اور تصدیق: ان مراکز میں لائے جانے والے افراد کا بائیومیٹرک ڈیٹا ریکارڈ کیا جاتا ہے اور سفری دستاویزات (Exit Documents) کی تیاری کے بعد انہیں سرکاری نگرانی میں بارڈر تک پہنچایا جاتا ہے۔
3۔ سہولت کاروں اور جائیداد مالکان کے لیے سخت قوانین
رہائش دینے پر پابندی: پاکستانی شہریوں، جائیداد کے مالکان اور رینٹل ایجنسیوں کے لیے غیر قانونی مقیم افراد کو مکان یا دکان کرائے پر دینا جرم قرار دیا گیا ہے۔
سخت جرمانے اور سزائیں: کسی بھی غیر قانونی غیر ملکی کو پناہ دینے، ان کا کاروبار اپنے نام پر چلانے یا شناختی دستاویزات چھپانے میں مدد کرنے والے مقامی افراد کے خلاف قانونی کارروائی، جرمانے اور جائیداد سیل کرنے جیسے ضوابط نافذ ہیں۔
4۔ سرحدوں کی یکطرفہ بندش اور منتقلی کے راستے
مقررہ تجارتی و سرحدی راستے: غیر قانونی افراد کی واپسی کے لیے زیادہ تر طورخم (خیبر پختونخوا) اور [چمن (بلوچستان)]کے سرحدی راستوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
سخت بارڈر مینجمنٹ: اب کسی بھی افغان شہری کو بغیر پاسپورٹ اور درست ویزہ کے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، اور پرانے روایتی یا قبائلی کارڈز پر آمد و رفت مکمل طور پر بند ہے۔
پاکستان میں مقیم افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کی قانونی حیثیت اور حکومت کی ملک بدری کی پالیسیوں پر عالمی ردِعمل اس وقت بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ترین موضوع بنا ہوا ہے۔
ان دونوں پہلوؤں کی تفصیلی صورتحال درج ذیل ہے:
1۔ افغان سٹیزن کارڈ (ACC) ہولڈرز کی موجودہ حیثیت
افغان سٹیزن کارڈ (ACC) حکومتِ پاکستان نے 2017 میں ان افغان شہریوں کو جاری کیا تھا جن کے پاس پہلے سے کوئی دستاویزی ثبوت (جیسے POR کارڈ) موجود نہیں تھا۔
قانونی حیثیت: یہ کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کو حکومتِ پاکستان پناہ گزین (Refugee) تسلیم نہیں کرتی، بلکہ انہیں “دستاویزی افغان شہری” مانا جاتا ہے۔ یہ کارڈ انہیں عارضی طور پر پاکستان میں قیام اور نقل و حرکت کی آزادی دیتا ہے لیکن انہیں POR کارڈ ہولڈرز کی طرح بینک اکاؤنٹس یا دیگر مستقل سہولیات حاصل نہیں ہیں۔
ملک بدری کے منصوبے کا دوسرا مرحلہ (Phase 2): حکومتِ پاکستان کے غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کے منصوبے (IFRP) کے تحت، پہلے مرحلے میں مکمل طور پر غیر دستاویزی افراد کو نکالا گیا۔ اب دوسرے مرحلے میں ACC کارڈ ہولڈرز کی واپس افغانستان منتقلی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کارڈز کی قانونی حیثیت اب مزید تحفظ فراہم نہیں کر پا رہی۔
ڈیٹا کی منتقلی: حکومت اس کارڈ کے حامل افراد کا ڈیٹا افغان عبوری حکومت کے ساتھ شیئر کر رہی ہے تاکہ ان کی وطن واپسی کے عمل کو منظم کیا جا سکے۔
2۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ (UN) کے تحفظات
ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International)، ہیومن رائٹس واچ (HRW)، اور اقوامِ متحدہ کے اداروں (بشمول UNHCR) نے پاکستان کی طرف سے افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے:
Non-Refoulement کے اصول کی خلاف ورزی: اقوامِ متحدہ کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ افغانستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اور خواتین کے حقوق پر پابندیوں کے باوجود لوگوں کو وہاں زبردستی واپس بھیجا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی کو بھی ایسے ماحول میں زبردستی نہیں دھکیلا جا سکتا جہاں اس کی جان خطرے میں ہو۔
کمزور طبقات کا تحفظ: ہیومن رائٹس واچ نے خاص طور پر نشان دہی کی ہے کہ واپس بھیجے جانے والے افغان شہریوں میں بڑی تعداد خواتین، بچوں، سابقہ افغان حکومت کے اہلکاروں، صحافیوں اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس کی ہے، جنہیں افغانستان پہنچ کر طالبان حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جبری ہراساں کیے جانے کی رپورٹس: انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے قانونی دستاویزات (جیسے ACC یا حتیٰ کہ بعض اوقات POR کارڈز) رکھنے والے افراد کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، ان کے مکانات کے کرائے کے معاہدے منسوخ کیے جا رہے ہیں، اور انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری سے اپیل: اقوامِ متحدہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرد موسم اور افغانستان کے شدید معاشی بحران کے پیشِ نظر جبری ملک بدریوں کا سلسلہ فوری طور پر روکے اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان پر بوجھ کم کرنے کے لیے پناہ گزینوں کی دوسرے ممالک میں منتقلی (Resettlement) کے عمل کو تیز کرے۔ حکومتِ پاکستان کے “Illegal Foreigners Repatriation Plan” (غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کا منصوبہ) کے خلاف سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس (خصوصاً اسلام آباد اور پشاور ہائی کورٹ) میں متعدد درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
حالیہ عدالتی فیصلوں اور ریمارکس کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ اصولی پناہ گزینوں اور مخصوص طبقات کو ریلیف (محدود حکمِ امتناع)
پاکستانی عدالتوں نے ان افغان شہریوں کو عارضی ریلیف فراہم کیا ہے جن کی جانوں کو افغانستان واپسی پر حقیقی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا جو خاندانی بنیادوں پر جڑے ہیں:
صحافیوں اور حساس عہدوں پر فائز افراد کا تحفظ: اگست 2026 میں پشاور ہائی کورٹ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دو افغان صحافیوں اور ان کے خاندانوں کو ڈیپورٹ کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے ان کے کیسز وفاقی حکومت کو بھیجتے ہوئے ہدایت کی کہ “Non-Refoulement” (زبردستی واپس نہ بھیجنے) کے بین الاقوامی اصول کے تحت ان کی عارضی رہائش یا سیاسی پناہ (Asylum) کا فیصلہ کیا جائے۔
پاکستانی شہریوں سے شادی شدہ افغان خواتین: جولائی 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک عبوری حکم نامے کے ذریعے وفاقی حکام کو ان افغان خواتین کو ڈیپورٹ کرنے سے روک دیا جنہوں نے پاکستانی شہریوں سے شادیاں کی ہیں اور وہ شہریت کی درخواست گزار ہیں۔
ثقافتی اور کمیونٹی گروپس: پشاور ہائی کورٹ نے حالیہ مہینوں میں افغان فنکاروں، ٹرانسجینڈر افراد اور خطرے کا شکار سول سوسائٹی کے ارکان کی دائر کردہ لگ بھگ 140 پٹیشنز پر فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو ان کی گرفتاری یا فوری ملک بدری سے عارضی طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے۔
2۔ غیر قانونی مقیم افراد کی درخواستیں مسترد (سخت عدالتی مؤقف)
جہاں ایک طرف کمزور طبقات کو ریلیف ملا، وہیں عدالتوں نے واضح کیا ہے کہ بغیر کسی قانونی دستاویز کے پاکستان میں رہنے کا کوئی مستقل حق حاصل نہیں ہے:
پشاور ہائی کورٹ کا حالیہ بڑا فیصلہ (اگست 2026): عدالتِ عالیہ نے ایک سابق افغان جج اور دو سابق فوجی جرنیلوں کی درخواستیں مسترد کر دیں جنہوں نے یو این ایچ سی آر (UNHCR) کے پاس پناہ کی درخواست زیرِ التوا ہونے کی بنیاد پر ملک بدری کے خلاف امتناع مانگا تھا۔
عدالتی اصول: بنچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ محض UNHCR کے پاس رجسٹریشن یا کسی تیسرے ملک (جیسے امریکہ یا سوئٹزرلینڈ) میں منتقلی کا کیس زیرِ التوا ہونا کسی غیر ملکی کو پاکستان میں رہنے کا قانونی یا قابلِ نفاذ حق نہیں دیتا، جب تک ملکی قوانین کے تحت مجاز اتھارٹی اسے تسلیم نہ کرے۔ عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت حاصل دائرہ اختیار کو صرف کسی “قانون حق” کی موجودگی میں ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
3۔ سپریم کورٹ کے مشاہدات اور حکومتی یقین دہانیاں
بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری: سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران معزز جج صاحبان (بشمول جسٹس عائشہ ملک) نے ریمارکس دیے ہیں کہ پاکستان ان تمام عالمی کنونشنز اور انسانی حقوق کے اصولوں کا پابند ہے جو پناہ گزینوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، چاہے پاکستان نے 1951 کے معاہدے پر دستخط نہ بھی کیے ہوں۔
حکومتی یقین دہانی: وفاقی حکومت نے ماضی میں عدالتِ عظمیٰ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسے افغان پناہ گزین جو کسی بھی قانونی طریقے سے رجسٹرڈ ہیں (جیسے درست ویزہ، POR یا فی الحال برقرار کارڈز) انہیں ہراساں یا گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ تاہم حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائی کا اپنا حق برقرار رکھا ہے۔