تحریر: انجینئر افتخار چودھری
صبح نماز پڑھ کر اٹھا تو معمول کے مطابق موبائل پر نظر پڑی۔ ایچ جے چینل دیکھ رہا تھا۔ گوجرانوالہ سے میرے بہت پیارے بھائی جعفری صاحب کا تعلق ہے۔ اسی دوران چوہدری صلاح الدین صاحب کی ایک تحریر نظر سے گزری۔ چند ہی سطریں تھیں، مگر ایسی کہ آدمی انہیں ایک مرتبہ پڑھ کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ میں نے دوبارہ پڑھا اور پھر کچھ دیر سوچتا رہا کہ واقعی زندگی کے بڑے بڑے تجربات بعض اوقات چند لفظوں میں سمٹ آتے ہیں۔
چوہدری صلاح الدین صاحب نے لکھا:
“تم نے دنیا دیکھی ہے اور بہت سی کتابیں پڑھی ہیں، لیکن یہ حقیقت سن لو کہ سانپ اپنی کھال بدل سکتا ہے، اپنی ذات نہیں۔”
یہ بات بظاہر بہت سادہ ہے، لیکن انسانی فطرت کے بارے میں اس میں بڑی گہرائی ہے۔ انسان دنیا دیکھتا ہے، کتابیں پڑھتا ہے، تجربات حاصل کرتا ہے، مختلف لوگوں سے ملتا ہے اور وقت کے ساتھ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ مگر ان سب کے باوجود ایک سوال اپنی جگہ رہتا ہے کہ کیا انسان واقعی اندر سے بھی بدلتا ہے یا صرف اس کا ظاہری روپ بدلتا ہے؟
زندگی میں ہمیں ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں جو وقت کے ساتھ اپنا انداز بدل لیتے ہیں۔ لباس بدل جاتا ہے، گفتگو بدل جاتی ہے، نشست و برخاست بدل جاتی ہے، دوست بدل جاتے ہیں، محفلیں بدل جاتی ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات وہ اپنے سابقہ خیالات اور تعلقات سے بھی مکمل لاتعلقی اختیار کر لیتے ہیں۔ بظاہر دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان بالکل بدل گیا ہے، لیکن وقت گزرنے کے بعد کبھی کوئی ایسا موقع آتا ہے جب اس کی اصل فطرت پھر سامنے آ جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو سمجھ آتی ہے کہ ظاہری تبدیلی اور حقیقی تبدیلی میں بہت فرق ہوتا ہے۔
سانپ کی مثال ہمارے معاشرے میں صدیوں سے دی جاتی رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سانپ اپنی کھال بدل لیتا ہے، لیکن سانپ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح ایک مشہور محاوراتی بات ہے کہ سانپ کو دودھ پلایا جائے تو بھی موقع ملنے پر ڈس سکتا ہے۔ اس مثال کا مقصد سائنسی حقیقت بیان کرنا نہیں بلکہ انسانی رویوں کو سمجھانا ہے کہ صرف مہربانی، قربت یا ظاہری نرمی کسی کی بنیادی فطرت کو لازماً تبدیل نہیں کر دیتی۔
ہماری زندگی میں بھی ایسے تجربات ہوتے ہیں۔
آپ کسی شخص کے مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کی مدد کرتے ہیں، اس کے لیے اپنا وقت نکالتے ہیں، اس کے کام آتے ہیں، اس کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتے ہیں۔ آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تعلق اب مضبوط ہو چکا ہے اور سامنے والا بھی اس خلوص کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔
لیکن وقت گزرتا ہے، حالات بدلتے ہیں، مفادات بدلتے ہیں اور کبھی وہی شخص کسی ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے آپ کی ضرورت نہیں رہتی۔ پھر اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔
تب انسان سوچتا ہے کہ آخر یہ کیا ہوا؟
حقیقت شاید یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص بدلا نہیں، بلکہ اس کا اصل کردار ہمارے سامنے آ گیا۔
انسان کی اصل پہچان اس وقت نہیں ہوتی جب وہ آپ کے سامنے بیٹھ کر اچھی اچھی باتیں کر رہا ہو۔ اصل پہچان اس وقت ہوتی ہے جب اسے آپ سے کوئی فائدہ نہ ہو۔ دیکھنا چاہیے کہ وہ اس وقت بھی آپ کی عزت کرتا ہے یا نہیں۔
کسی انسان کو پہچاننا ہو تو اسے اختیار دے کر دیکھیں۔ طاقت ملنے کے بعد اس کا رویہ بتائے گا کہ وہ اندر سے کیا ہے۔ کمزور کے ساتھ اس کا سلوک دیکھیں۔ اپنے سے چھوٹے آدمی کے ساتھ اس کا رویہ دیکھیں۔ اپنے پرانے دوستوں کے بارے میں اس کی گفتگو سنیں۔ جس شخص سے اسے اب کوئی فائدہ نہیں، اس کے بارے میں وہ کیا کہتا ہے، یہ اس کے کردار کا بہت بڑا آئینہ ہے۔
اسی طرح مشکل وقت بھی انسان کا اصل تعارف کراتا ہے۔
خوشی کے موقع پر تو ہر شخص مبارک باد دینے آ جاتا ہے، لیکن پریشانی کے وقت کون کھڑا رہتا ہے، یہی اصل سوال ہے۔ بیماری، نقصان، تنہائی یا مشکل میں جو شخص آپ کا ہاتھ پکڑ لے، وہ شاید بڑے دعوے نہ کرتا ہو، مگر اس کا کردار خود بول رہا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس بعض لوگ الفاظ میں بہت بڑے اصول پسند ہوتے ہیں۔ وفاداری کی بات کرتے ہیں، دوستی کے قصے سناتے ہیں، اخلاقیات کے درس دیتے ہیں، مگر جب ان کے اپنے مفاد کا معاملہ سامنے آتا ہے تو سارے اصول بدل جاتے ہیں۔
یہاں پھر وہی بات یاد آتی ہے کہ سانپ کھال بدل سکتا ہے، اپنی ذات نہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر انسان کے بارے میں یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ وہ کبھی بدل ہی نہیں سکتا۔
انسان واقعی بدل سکتا ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہے، اپنے رویے کی اصلاح کرتا ہے، تکبر چھوڑ کر عاجزی اختیار کرتا ہے، ظلم چھوڑ کر انصاف کی طرف آتا ہے، جھوٹ چھوڑ کر سچ بولتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے لگتا ہے تو یہ حقیقی تبدیلی ہے۔
حقیقی تبدیلی صرف الفاظ سے ثابت نہیں ہوتی، اسے وقت ثابت کرتا ہے۔
ایک دن کی اچھی بات انسان کو اچھا ثابت نہیں کرتی، لیکن برسوں کا مسلسل اچھا کردار انسان کی گواہی بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایک غلطی کسی شخص کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتی، لیکن ایک ہی غلط رویہ بار بار دہرایا جائے تو وہ عادت اور پھر فطرت کا حصہ بن سکتا ہے۔
اسی لیے کسی انسان کو سمجھنے کے لیے جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ وقت کو موقع دینا چاہیے۔ لوگ اپنے الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے مسلسل عمل سے پہچانے جاتے ہیں۔
میں نے زندگی میں بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے۔ کچھ لوگ پہلی ملاقات میں بہت متاثر کرتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ کچھ لوگ پہلی نظر میں بہت سادہ دکھائی دیتے ہیں، مگر جب زندگی امتحان لیتی ہے تو وہ ایسے کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ آدمی عمر بھر ان کی عزت کرتا ہے۔
اصل دولت یہی ہے۔
انسان کے پاس دولت ہو یا نہ ہو، عہدہ ہو یا نہ ہو، شہرت ہو یا نہ ہو، اگر اس کا کردار مضبوط ہے تو وہ اپنے پیچھے ایک اچھی یاد چھوڑ جاتا ہے۔
اور اگر کردار کمزور ہو تو بڑے سے بڑا عہدہ بھی انسان کو ہمیشہ عزت نہیں دے سکتا۔
چوہدری صلاح الدین صاحب کی تحریر پڑھ کر مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ ہم اکثر دوسروں کے کردار کو پرکھنے میں بہت مصروف رہتے ہیں۔ ہمیں فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں شخص بدل گیا، فلاں نے اپنا رنگ بدل لیا، فلاں نے وفاداری نہیں نبھائی، فلاں نے احسان بھلا دیا۔
لیکن شاید ایک سوال ہمیں اپنے آپ سے بھی کرنا چاہیے۔
کیا ہم خود وہی ہیں جو چند سال پہلے تھے؟
کیا ہمارے اندر بھی کوئی تبدیلی آئی ہے؟
کیا ہم پہلے سے زیادہ عاجز ہیں؟
کیا ہم اپنے دوستوں کے لیے پہلے سے زیادہ مخلص ہیں؟
کیا ہم کسی کی مدد کرکے اسے یاد بھی رکھتے ہیں یا احسان جتاتے ہیں؟
کیا ہم اپنے سے کمزور انسان کی عزت کرتے ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
یہ سوال دوسروں کے لیے نہیں، اپنے لیے ہیں۔
دوسروں کے کردار کو پہچاننا عقل مندی ہے، لیکن اپنے کردار کو پہچاننا دانائی ہے۔
ہمیں نہ ہر شخص سے بدگمان ہونا چاہیے اور نہ ہر شخص کے ظاہری روپ سے دھوکا کھانا چاہیے۔ لوگوں کو وقت دیں، ان کے عمل دیکھیں، ان کے مشکل وقت کے رویے دیکھیں اور پھر ان کے کردار کے بارے میں رائے قائم کریں۔
زندگی نے مجھے یہی سکھایا ہے کہ چہرے بہت کچھ چھپا سکتے ہیں، الفاظ بہت کچھ بدل سکتے ہیں، مگر وقت آخرکار حقیقت سامنے لے آتا ہے۔
صبح نماز کے بعد چوہدری صلاح الدین صاحب کی وہ چند سطریں پڑھ کر میرے ذہن میں ایک ہی بات گردش کرتی رہی:
سانپ اپنی کھال بدل سکتا ہے، اپنی ذات نہیں۔
اور شاید اس جملے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ظاہری تبدیلی کو حقیقی تبدیلی سمجھنے سے پہلے انسان کو کردار دیکھنا چاہیے۔
پھر آخر میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر اپنے آپ کو بھی دیکھنا چاہیے۔
کیونکہ دوسروں کی حقیقت پہچان لینا آسان ہے، لیکن اپنے اندر کی حقیقت کو پہچاننا مشکل۔آپ سمجھ تو گئے ہوں میرا اشارہ کس سانپ کی جانب ہے۔اب بھی نہیں سمجھے تو پھر آپ کا اللہ ہی ،،حافظ،،
اللہ تعالیٰ ہمیں لوگوں کو ان کے ظاہر سے نہیں بلکہ ان کے کردار سے پہچاننے کی سمجھ دے، اور اس سے بھی بڑھ کر ہمیں اپنے کردار کی اصلاح کی توفیق دے۔ آمین۔
