پردے کے پیچھے بچھتی بساط

تحریر: محمد محسن اقبال
خلیج کی صورتِ حال گزشتہ کچھ عرصے میں بتدریج زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے، اور اس کے ساتھ یہ احساس بھی گہرا ہو رہا ہے کہ اسرائیل اور اس کا سب سے بڑا سرپرست امریکہ، اپنے وسیع تر مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک سعودی عرب کو بالآخر اپنے ساتھ کھڑا نہ کر لیں۔ ریاض کو براہِ راست آمادہ کرنے کی کوششیں، خصوصاً ابراہیمی معاہدوں کو تسلیم کرنے کے معاملے میں، جب کامیاب نہ ہو سکیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں طاقتوں نے زیادہ پیچیدہ اور بالواسطہ راستہ اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جو منظر کبھی محض علاقائی کشیدگی اور باہمی تنازعات کا ایک الجھا ہوا سلسلہ دکھائی دیتا تھا، اب اس میں ایک ایسی دانستہ حکمتِ عملی کے خد و خال نمایاں ہونے لگے ہیں جس کا مقصد مملکت کو بتدریج تنہا کرنا اور اس کی پالیسی کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور کرنا معلوم ہوتا ہے۔
باب المندب آبنائے کے گرد رونما ہونے والے واقعات بھی محض اتفاقات کا مجموعہ نہیں تھے۔ ان کا اصل مقصد سعودی عرب کو مختلف سمتوں سے گھیرنا اور بیک وقت اس پر دباؤ کے کئی دروازے کھولنا معلوم ہوتا ہے۔ اب یہ بات زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ دباؤ ایک مربوط امریکی اور اسرائیلی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مملکت کو ابراہیمی معاہدوں کی طرف اس انداز سے دھکیلنا ہے کہ اس کی موجودہ آزادانہ خارجہ پالیسی برقرار رکھنا روز بروز زیادہ مشکل اور مہنگا ہوتا جائے۔
ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق حوثیوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے درخواست کی ہے کہ واشنگٹن ان کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کرے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ باب المندب سے امریکی، اسرائیلی، فرانسیسی اور دیگر غیر ملکی جہازوں کی آمدورفت جاری رہے گی، تاہم ایک نمایاں استثنا موجود ہوگا: سعودی عرب سے وابستہ بحری جہاز۔ یہ امتیازی پابندی خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کا وار براہِ راست سعودی عرب کے تجارتی اور تزویراتی مفادات پر پڑتا ہے، جبکہ ان طاقتوں کے مفادات محفوظ رہتے ہیں جو خود ریاض کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو ہوئی اور ریاض نے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مداخلت کی درخواست کی تھی۔ تاہم واشنگٹن نے اپنی فوج میدان میں اتارنے سے گریز کیا اور اس کے بجائے صرف انٹیلی جنس معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ براہِ راست کارروائی سے انکار اور ساتھ ہی خاطر خواہ فوجی مدد فراہم نہ کرنے کی پالیسی سعودی عرب کو بڑھتے ہوئے خطرات کا بڑی حد تک تنہا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
اگر پورے منظرنامے کو قدرے قریب سے دیکھا جائے تو تصویر کے بکھرے ہوئے ٹکڑے ایک دوسرے سے جڑتے محسوس ہوتے ہیں۔ آبنائے ہرمز مسلسل دباؤ کا شکار ہے، باب المندب بھی محدود اور غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے، جبکہ سعودی عرب کی مشرق و مغرب کو ملانے والی تیل کی پائپ لائن پہلے ہی دشمنانہ کارروائی کا نشانہ بن چکی ہے۔ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون مسلسل ان زمینی اور بحری راستوں پر خطرے کی شدت بڑھا رہے ہیں جو سعودی معیشت کے لیے زندگی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ امریکہ اب بھی براہِ راست فوجی کارروائی اور حتیٰ کہ خاطر خواہ فوجی امداد فراہم کرنے سے گریزاں ہے۔ کیا اتنے سارے واقعات کا ایک ہی وقت میں رونما ہونا محض اتفاق قرار دیا جا سکتا ہے؟ بظاہر ایسا سمجھنا مشکل ہے۔
زیادہ قرینِ قیاس یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقصد سعودی عرب کے موجودہ سیاسی مؤقف کی قیمت بتدریج بڑھانا ہے، یہاں تک کہ اسے برقرار رکھنا روز بروز مشکل تر ہو جائے۔ پھر کسی مناسب موقع پر واشنگٹن یہ تاثر دے سکتا ہے کہ اس کے پاس اس دباؤ کو کم کرنے کے ذرائع موجود ہیں، لیکن اس کے لیے پہلے ابراہیمی معاہدوں کی گتھی سلجھانا ہوگی۔ یوں مملکت کے سامنے بظاہر ایک دوٹوک انتخاب رکھ دیا جائے گا: مسلسل تنہائی اور عدمِ تحفظ یا پھر امریکی اور اسرائیلی سرپرستی میں سفارتی صف بندی کی تبدیلی۔
اس معاملے کے حوالے سے دیگر قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں، جن میں بعض بظاہر مفاداتی عناصر سے متاثر دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم پردے کے پیچھے کون سا کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کا فیصلہ بہرحال وقت ہی کرے گا۔
اس کے باوجود اسرائیل اور امریکہ کی یہ حکمتِ عملی ایک اہم رکاوٹ سے دوچار ہے، اور وہ ہے مکہ معاہدہ، جبکہ دوسری جانب علاقائی اور عالمی سطح پر ترکی کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بھی اس منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ مکہ معاہدے کا مقصد اجتماعی سلامتی اور مذہبی یکجہتی کے معاملات میں مسلم ریاستوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ اتحاد اور تعاون کو فروغ دینا تھا۔ مختلف حلقوں میں اس کی مزاحمت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ابراہیمی معاہدوں کے مقابلے میں تعاون اور یکجہتی کا ایک متبادل فریم ورک پیش کرتا ہے۔
ترکی کا بڑھتا ہوا سفارتی اور عسکری کردار بھی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ریاض کے لیے ایسے متبادل ذرائع اور ممکنہ شراکت دار موجود رہتے ہیں جو مغربی دباؤ کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ یوں جو کچھ آج خطے میں رونما ہو رہا ہے، اسے اسرائیل کی جانب سے اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو وسیع کرنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، جس کے لیے نئے راستے اور بالواسطہ دباؤ کے ذرائع اختیار کیے جا رہے ہیں۔ حوثیوں اور عراق کے بعض ڈرون گروہوں جیسے غیر ریاستی عناصر اس مقصد کے لیے ایسے واسطوں کا کردار ادا کر سکتے ہیں جن کے ذریعے براہِ راست ذمہ داری سے گریز بھی ممکن رہتا ہے اور سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ ہونے کا احساس بھی مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مقدس مساجد کے قرب و جوار میں حالیہ ڈرون حملے خاص طور پر تشویش ناک ہیں اور ان پر غیر معمولی توجہ کی ضرورت ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت کو لاحق کوئی بھی خطرہ، خواہ وہ کتنا ہی دور یا محدود کیوں نہ ہو، سعودی عرب کی مسلم دنیا میں مذہبی اور سیاسی حیثیت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایسے واقعات کا وقت بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مقدس سرزمین کے سائے میں ہونے والی معمولی سی لغزش بھی اپنے اندر غیر معمولی معنویت رکھتی ہے۔
دوسری طرف ہر تیل پیدا کرنے والی ریاست کو عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ، علاقائی عدمِ تحفظ اور بیرونی دباؤ جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ حتیٰ کہ وہ مسلم ممالک بھی جو تیل پیدا نہیں کرتے، پاکستان سمیت، ایسے حالات سے گزر رہے ہیں جو کئی حوالوں سے مغرب کو درپیش مشکلات سے بھی زیادہ آزمائش طلب ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال مزید حساس ہے، کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات محض سفارتی مفادات تک محدود نہیں بلکہ تاریخ، ایمان اور باہمی اعتماد کے گہرے رشتوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کو اپنے داخلی معاشی دباؤ سے لے کر مغربی طاقتوں اور برادر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنے تک کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اپنی سلامتی اور اصولی مؤقف پر سمجھوتا کیے بغیر ان بڑھتے ہوئے چیلنجز کا کس طرح مقابلہ کرے گا، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب وقت کے ساتھ مزید اہم ہوتا جائے گا۔
مختصراً، سعودی عرب پر مختلف سمتوں سے بڑھتا ہوا دباؤ—اہم بحری گزرگاہوں کی بندش سے لے کر اس کے بنیادی ڈھانچے کو مخصوص انداز میں نشانہ بنانے اور اس کے روایتی اتحادیوں کی محتاط پسپائی تک—بظاہر اس کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے ترتیب دیا گیا محسوس ہوتا ہے۔ آیا مکہ معاہدہ اور خطے میں ترکی کا ابھرتا ہوا کردار اس حکمتِ عملی کے مقابلے میں کوئی مؤثر متبادل قوت ثابت ہوں گے یا نہیں، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ تاہم اب اس کھیل کے خدوخال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ واضح دکھائی دیتے ہیں۔ پردہ ابھی مکمل طور پر نہیں اٹھا، مگر اس کے پیچھے حرکت کرتی ہوئی قوتوں کے سائے اب چھپے نہیں رہے۔