تحریر: محمد اجمل خان یوسف زئی سینئر جرنلسٹ
زندگی ہمیشہ قہقہوں کا نام نہیں۔
کبھی دل کا سکون بھی خوشی ہوتا ہے، کبھی تنہائی میں اترنے والی روشنی، کبھی آنکھوں میں ٹھہری ہوئی نمی، اور کبھی کسی خاموش لمحے میں اپنے آپ سے ہونے والی گفتگو بھی زندگی کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔
ہم عمر بھر دوسروں کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، مگر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب انسان کو دنیا سے زیادہ خود سے بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
خاموشی میں بیٹھ کر اپنے دل کو سنو۔
شاید وہ بہت عرصے سے تمہیں کچھ کہنا چاہ رہا ہو۔
یہ بلاگ انہی ان کہی باتوں کا مجموعہ ہے۔
یہاں محبت ہے، مگر صرف وصال کی محبت نہیں؛ جدائی بھی ہے، انتظار بھی، خاموشی بھی اور خودداری بھی۔
یہاں رشتے ہیں، مگر صرف قریب آنے کے نہیں؛ کچھ فاصلے بھی ہیں جنہیں قبول کرنا انسان کی پختگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
یہاں زندگی ہے، مگر اس کے ساتھ موت کا احساس بھی ہے۔
کیونکہ شاید زندگی کی خوبصورتی اسی حقیقت سے پیدا ہوتی ہے کہ یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں۔
زندگی اور سکون
1۔ خوشی صرف قہقہہ نہیں
قہقہوں کی شرط مت باندھو۔
خوشی کی تعریف صرف ہنسنے تک محدود نہیں۔
کبھی دل کا سکون بھی خوشی ہوتا ہے،
کبھی تنہائی کا نور،
کبھی کسی بے غرض انسان کی موجودگی،
اور کبھی آنکھوں کی نمی بھی زندگی کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔
ہر مسکراتا ہوا چہرہ خوش نہیں ہوتا،
اور ہر نم آنکھ اداس نہیں ہوتی۔
کچھ آنسو دل کا بوجھ اتارتے ہیں،
اور کچھ خاموشیاں انسان کو اپنے قریب لے آتی ہیں۔
2۔ خود سے گفتگو
کبھی کبھی انسان کو دنیا سے نہیں،
خود سے بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
خاموشی میں بیٹھ کر اپنے دل کو سنو۔
شاید وہ بہت عرصے سے تمہیں کچھ کہنا چاہ رہا ہو۔
دنیا کی آوازیں اتنی بلند ہوتی ہیں کہ انسان اکثر اپنے اندر کی آواز سن ہی نہیں پاتا۔
پھر ایک دن خاموشی آتی ہے،
اور انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ جس جواب کے لیے وہ برسوں بھٹکتا رہا،
وہ اس کے اپنے اندر موجود تھا۔
3۔ دوسروں کی تھالی
دوسروں کی تھالی میں جھانکتے رہو گے
تو اپنی روٹی ٹھنڈی ہو جائے گی۔
جو ملا ہے،
اس میں شکر اور سکون تلاش کرنا سیکھو۔
زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو اس وقت دیکھتا ہے جب وہ کسی اور کے پاس دکھائی دینے لگتی ہیں۔
انسان، تعلق اور فاصلہ
4۔ پختگی
ایک وقت آتا ہے جب انسان پختہ ہو جاتا ہے۔
پھر وہ عارضی تعلقات،
سرد مہری پر مبنی دوستی،
بے مقصد بحث،
اور جھوٹے لوگوں سے وابستگی کو رد کر دیتا ہے۔
یہ تکبر نہیں ہوتا۔
یہ اپنی روح کی حفاظت ہوتی ہے۔
ہر شخص کو اپنی زندگی میں جگہ دینا ضروری نہیں۔
کچھ لوگوں کے لیے دروازہ بند کرنا بھی کبھی کبھی اپنے اندر ایک کھڑکی کھول دیتا ہے۔
5۔ ہماری دسترس سے باہر لوگ
کچھ لوگ ہماری دسترس میں نہیں ہوتے،
مگر ہمارے لیے سب کچھ ہوتے ہیں۔
حتیٰ کہ زندگی بھی۔
وہ ہمارے ساتھ نہ ہوں تو بھی ہماری یادوں، دعاؤں اور احساسات میں موجود رہتے ہیں۔
شاید محبت کا سب سے مشکل مرحلہ یہی ہے کہ کبھی کبھی انسان کسی کو چاہتا بہت ہے، مگر پا نہیں سکتا۔
6۔ نظر کا فرق
ہم کسی کے لیے یکساں نہیں ہوتے۔
کسی کے لیے مغرور،
کسی کے لیے مہربان۔
کسی کے لیے اجنبی،
کسی کے لیے پوری دنیا۔
فرق شاید ہمارے اندر کم اور دیکھنے والی آنکھ میں زیادہ ہوتا ہے۔
محبت
7۔ محبت کیا ہے؟
کیا پیار واقعی اندھا ہوتا ہے؟
شاید محبت اندھی نہیں ہوتی،
بس وہ اُن چیزوں کو بھی دیکھ لیتی ہے جنہیں عقل نظرانداز کر دیتی ہے۔
جب دل کسی شخص پر ٹھہر جائے تو ذہن ہر دوسرے شخص کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہتا۔
محبت انتخاب نہیں رہتی،
احساس بن جاتی ہے۔
8۔ دیدار
تیری دیدار کی کس قدر لت لگ گئی ہے۔
باتیں کرتے رہو تو دل نہیں بھرتا،
نہ کرو تو دل نہیں لگتا۔
کچھ لوگوں کی موجودگی عادت نہیں بنتی،
ضرورت بن جاتی ہے۔
اور کچھ لوگوں کی کمی شور نہیں کرتی،
بس اندر ایک خاموش جگہ بنا دیتی ہے۔
9۔ قدر
ہم وہی محبت قبول کرتے ہیں
جس کے ہم خود کو قابل سمجھتے ہیں۔
اس لیے اپنے بارے میں اپنی رائے بہت اہم ہے۔
جو شخص خود کو بے قدر سمجھتا رہے،
وہ کبھی کبھی محبت میں بھی وہی سلوک قبول کرتا ہے جس کا وہ مستحق نہیں۔
محبت صرف کسی کو چاہنے کا نام نہیں،
اپنی عزت کے ساتھ چاہے جانے کا نام بھی ہے۔
شادی اور رفاقت
10۔ شادی کا اصل سوال
شادی کرتے وقت انسان کو خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے:
کیا میں اس انسان سے بڑھاپے تک نرمی اور محبت سے بات کر سکوں گا؟
شادی کی بہت سی چیزیں وقت کے ساتھ بدل جاتی ہیں۔
گھر بدل سکتا ہے،
حالات بدل سکتے ہیں،
آمدنی کم یا زیادہ ہو سکتی ہے،
صحت بھی بدل سکتی ہے۔
مگر بات چیت، احترام اور رویہ روزانہ کا امتحان رہتے ہیں۔
ایک کامیاب رفاقت شاید اس شخص کے ساتھ نہیں جس کے ساتھ زندگی ہمیشہ آسان ہو،
بلکہ اس کے ساتھ ہوتی ہے جس کے ساتھ مشکل زندگی بھی عزت اور نرمی سے گزاری جا سکے۔
11۔ عورت اور احترام
کسی بھی سوشل پلیٹ فارم پر موجود عورت کسی کے تفریحی استعمال کے لیے موجود نہیں۔
اس کی موجودگی کو دعوت سمجھنا،
اس کی تصویر کو اجازت سمجھنا،
اور اس کے آن لائن ہونے کو دستیابی سمجھ لینا
ایک غلط سماجی رویہ ہے۔
احترام کا مطلب صرف اپنی بہن، بیٹی یا بیوی کا احترام نہیں۔
احترام کا اصل امتحان اُس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جس سے ہمارا کوئی ذاتی تعلق نہ ہو۔
وقت، موت اور زندگی
12۔ گزر جانے کا فن
ایک مدت سے اجڑتے ہی چلے آئے ہیں،
ایک لمحے میں کہاں ہم نے سنور جانا ہے۔
جس طرح رات کٹی،
دن بھی گیا ہاتھوں سے،
اس طرح ہم نے بھی
ایک شام گزر جانا ہے۔
زندگی شاید ٹھہرنے کا نام نہیں۔
یہ مسلسل گزرنے کا نام ہے۔
اسی لیے جو لمحہ ہمارے پاس ہے،
شاید وہی ہمارا اصل سرمایہ ہے۔
طنز، مزاح اور روزمرہ زندگی
13۔ موبائل یا ایک کروڑ؟
اگر آپ کو ایک کروڑ روپے ملیں،
لیکن موبائل ہمیشہ کے لیے چھوڑنا پڑے،
تو کیا آپ قبول کریں گے؟
یہ سوال سننے میں مذاق لگتا ہے،
مگر شاید ہماری ترجیحات کا ایک دلچسپ آئینہ بھی ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ موبائل کو چھوڑنے کے تصور سے بے چین ہو جاتے ہیں،
مگر اپنے سکون، وقت اور توجہ کے ضائع ہونے پر اتنے پریشان نہیں ہوتے۔
14۔ گھر کی صبح
آج بہت سی مشینوں نے مشین لگائی ہوگی۔
ادھر گھر میں بلی کو صبح صبح شدید بھوک لگی ہے۔
دو دو کیلے مانگ رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے:
اس کی بھوک کون مٹائے گا؟
زندگی کبھی کبھی بڑے فلسفیانہ سوالوں کے درمیان ایسے چھوٹے سوال بھی رکھ دیتی ہے جن کا جواب صرف باورچی خانے میں ملتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا
ہم سب کے اندر کوئی نہ کوئی کہانی چھپی ہوئی ہے۔
کسی کی کہانی محبت کی ہے،
کسی کی جدائی کی،
کسی کی خاموش جدوجہد کی،
اور کسی کی اس جنگ کی جس کے بارے میں دنیا کچھ نہیں جانتی۔
اس لیے لوگوں کو صرف ان کے چہروں سے مت پڑھو۔
کسی کی خاموشی کے پیچھے ایک پوری داستان ہو سکتی ہے۔
کسی کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک طویل سفر۔
اور کسی کی آنکھوں میں وہ سوال جس کا جواب شاید خود اسے بھی معلوم نہ ہو۔
زندگی مختصر ہے۔
لوگ عارضی ہیں۔
وقت واپس نہیں آتا۔
اس لیے جہاں محبت ملے، اسے عزت دو؛
جہاں سکون ملے، اسے سنبھالو؛
جہاں سچ ملے، اسے پہچانو؛
اور جہاں تمہاری قدر نہ ہو، وہاں خود کو گم نہ کرو۔
کیونکہ آخرکار انسان کے پاس
دوسروں کی دی ہوئی تعریفیں نہیں،
اپنے دل کے سامنے کھڑا ہونے کی حقیقت رہ جاتی ہے۔
اور شاید زندگی کا سب سے خوبصورت سفر،
خود تک پہنچنے کا سفر ہے۔
