ہزارہ کا کیا بنے گا ؟
باعث افتخارِ انجینئر افتخار چودھری
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو اگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
صوبہ ہزارہ کی تحریک کوئی آج کی پیداوار نہیں۔ یہ برسوں کی جدوجہد، سیاسی وعدوں، عوامی اجتماعات، قراردادوں اور ہزارہ کے لوگوں کے مسلسل مطالبے کا نتیجہ ہے۔ اس تحریک کے سفر میں بہت سے سیاسی کردار سامنے آئے، کچھ نے بھرپور ساتھ دیا، کچھ وقت کے ساتھ خاموش ہوگئے اور کچھ نے اپنے الفاظ بدل لیے۔ مگر مسلم لیگ ن سے ہزارہ کے لوگوں کی توقعات ہمیشہ زیادہ رہی ہیں، اس لیے اس جماعت کے موجودہ طرزِ عمل پر سوال بھی زیادہ شدت سے اٹھتا ہے۔
ہزارہ کے عوام نے اس مطالبے کو کبھی محض جذباتی نعرہ نہیں سمجھا۔ ان کے نزدیک یہ ایک انتظامی اور آئینی مسئلہ ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی مختلف ادوار میں صوبہ ہزارہ کے حق میں قراردادیں منظور ہو چکی ہیں اور حالیہ برسوں میں اس مطالبے کو دوبارہ قومی سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے ستمبر 2026 میں بھی صوبہ ہزارہ کے مطالبے کو آئینی اور جمہوری قرار دیتے ہوئے نئے صوبوں کی ضرورت پر زور دیا۔
مگر سوال یہ ہے کہ جب عوام کسی سیاسی جماعت سے برسوں ایک وعدہ سنتے رہیں اور پھر اچانک اسی مسئلے پر اس جماعت کے لہجے میں احتیاط، تاخیر اور خاموشی آ جائے تو اسے کیا کہا جائے؟
ہزارہ کے لوگ اسے سیاسی بے وفائی کہتے ہیں۔
مسلم لیگ ن اور صوبہ ہزارہ کا تعلق بھی اسی سوال کے گرد گھومتا ہے۔ ماضی میں مسلم لیگ ن کے متعدد رہنماؤں کی طرف سے ہزارہ کے مطالبے کے حق میں آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی اس معاملے پر نمایاں طور پر بات کرتے رہے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں، ہزارہ صوبہ بھی بننا چاہیے، لیکن ساتھ یہ شرط رکھتے ہیں کہ یہ ہزارہ کے لوگوں کی مرضی کے مطابق ہو اور باؤنڈری کا تعین عوام کریں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور مسلم لیگ ن کا موقف عطاء تارڑ، پرویز رشید، خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق سے لیا جائے۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے اس گھر کو اگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
یہاں ہزارہ کے لوگوں کا سوال بالکل جائز ہے: اگر صوبہ ہزارہ ایک جائز اور آئینی مطالبہ ہے تو سیاسی جماعت کا واضح موقف کہاں ہے؟
کیا برسوں تک اس مطالبے کے ساتھ کھڑے رہنے کے بعد اب معاملہ صرف ’’لوگوں کی مرضی‘‘ کہہ کر آگے بڑھا دیا جائے گا؟
اور اگر لوگوں کی مرضی ہی فیصلہ کن ہے تو پھر مسلم لیگ ن کھل کر ہزارہ کے عوام کے سامنے اپنا موقف کیوں نہیں رکھتی؟
رانا ثناء اللہ نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نئے صوبوں کے معاملے پر اپنا موقف مناسب فورم، بالخصوص پارلیمنٹ میں، پیش کرے گی اور ابھی پارٹی کا حتمی موقف سامنے نہیں آیا۔
لیکن یہی تو مسئلہ ہے۔
ہزارہ کے لوگ برسوں سے سن رہے ہیں کہ موقف آئے گا، وقت آنے پر فیصلہ ہوگا، مناسب فورم پر بات ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ وہ ’’مناسب وقت‘‘ کب آئے گا؟
صوبہ ہزارہ کے کارکنوں کو یہ خدشہ کیوں پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو بھی وقت کے ساتھ ٹھنڈا نہ کر دیں؟
کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی تحریکیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ سیاسی پشت پناہی سے بھی زندہ رہتی ہیں۔ جب سیاسی جماعتیں کسی مطالبے کو اپنے سیاسی منشور اور پارلیمانی جدوجہد کا حصہ بناتی ہیں تو وہ مطالبہ قومی سیاست میں زندہ رہتا ہے۔ لیکن جب وہی جماعتیں خاموش ہوجائیں تو تحریک کمزور پڑنے لگتی ہے۔
اور مجھے سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلم لیگ ن سے ہزارہ کے لوگوں نے ہمیشہ زیادہ امید رکھی۔
آج اگر مسلم لیگ ن یہ کہتی ہے کہ اس کا کوئی حتمی موقف نہیں، پارلیمنٹ میں آنے دیں، پھر دیکھیں گے، تو ہزارہ کے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اتنے برسوں کی سیاسی وابستگی اور وعدوں کا کیا بنا؟
یہاں لقمان شاہ جیسے نوجوان صحافی کا سوال بھی اہم ہو جاتا ہے۔ وہ سیاسی رہنماؤں کے سامنے مائیک رکھ کر ہزارہ کا سوال پوچھتے ہیں، مگر اب سوال یہ بھی ہے کہ لقمان شاہ ایمل ولی خان کو کیا منہ دکھائیں گے؟ کیونکہ سیاسی میدان میں صرف تقریریں نہیں، اپنے مؤقف کا حساب بھی دینا پڑتا ہے۔ ہزارہ کی صحافت اگر اس تحریک کو زندہ رکھنا چاہتی ہے تو اسے ہر جماعت سے یکساں سوال کرنا ہوگا۔
مسلم لیگ ن کے اندر بھی یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ کیا صوبہ ہزارہ صرف اس وقت تک ایک سیاسی نعرہ تھا جب تک اس سے ووٹ حاصل کیے جا سکتے تھے؟
اگر ایسا نہیں تو پھر واضح اعلان ہونا چاہیے۔
اگر مسلم لیگ ن صوبہ ہزارہ کے حق میں ہے تو پارلیمنٹ میں اس کے لیے آئینی راستہ اختیار کرے۔
اگر مسلم لیگ ن عوامی رائے کو فیصلہ کن سمجھتی ہے تو اس رائے کے حصول کا واضح طریقہ سامنے لائے۔
اور اگر جماعت ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکی تو ہزارہ کے عوام کو صاف صاف بتایا جائے کہ فیصلہ کیوں نہیں ہو رہا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نئے صوبوں کا مسئلہ صرف ہزارہ تک محدود نہیں۔ پاکستان میں بہاولپور، جنوبی پنجاب اور دوسرے علاقوں میں بھی نئے انتظامی یونٹس کی بحث جاری ہے۔ اسی لیے کسی ایک علاقے کے مطالبے کو محض سیاسی نعرہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مگر ہزارہ کا معاملہ اپنی تاریخ رکھتا ہے۔
یہ مطالبہ کئی سال سے موجود ہے، اس کے لیے عوامی جدوجہد ہوئی، اسمبلی میں قراردادیں آئیں اور سیاسی رہنماؤں نے اس کی حمایت کی۔ آج وفاقی وزیر سردار محمد یوسف بھی اسے آئینی اور جمہوری مطالبہ قرار دے رہے ہیں۔
تو پھر مسلم لیگ ن کے لیے سوال اور بھی سیدھا ہے:
آپ کہاں کھڑے ہیں؟
یہ سوال کسی ایک فرد کے خلاف نہیں۔ یہ ایک سیاسی جماعت سے اس کے ماضی کے وعدوں کا حساب مانگنے کا سوال ہے۔
اور اگر آج مسلم لیگ ن کے کچھ رہنما پیچھے ہٹ رہے ہیں، کچھ خاموش ہیں اور کچھ معاملے کو پارلیمنٹ تک مؤخر کر رہے ہیں تو ہزارہ کے لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں کہ آخر اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟
میرا اپنا سیاسی تجزیہ یہ ہے کہ تختِ لاہور کی سیاست میں مصلحتیں اکثر اصولوں پر غالب آ جاتی ہیں۔ کیپٹن صفدر کے حالیہ بیانات میں آنے والی تبدیلی کو بھی ہزارہ کے حلقے اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ میری رائے میں ان کی صاحبزادی کی شادی کے موقع پر تختِ لاہور سے انہیں جو سیاسی نصیحت ملی، اس کے بعد ان کے لہجے میں تبدیلی آئی۔ یہ ایک سیاسی تاثر اور تجزیہ ہے، کسی پس پردہ گفتگو کا ثابت شدہ دعویٰ نہیں۔
لیکن اگر اس تاثر میں کچھ حقیقت ہے تو مسلم لیگ ن کے لیے یہ بہت بڑا سیاسی نقصان ہوگا کہ ایک پورا خطہ یہ محسوس کرے کہ اس کی برسوں کی جدوجہد کو سیاسی مصلحت کی نذر کر دیا گیا۔
اور اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو خطرہ یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے دوسرے رہنما بھی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔ آج ایک شخص خاموش ہوگا، کل دوسرا محتاط ہوجائے گا، پرسوں تیسرا کہے گا کہ پہلے عوام سے پوچھیں، اور یوں ایک ایسی تحریک جس نے برسوں ہزارہ کے لوگوں کو متحرک رکھا، رفتہ رفتہ ماضی کا قصہ بن سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست دانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ میں اپنے لیے کیا لکھوانا چاہتے ہیں۔
کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہزارہ کے لوگ کہیں کہ جب ہمیں سیاسی حمایت کی ضرورت تھی تو وعدے کیے گئے، لیکن جب فیصلہ کن وقت آیا تو سب خاموش ہوگئے؟
یا وہ یہ ثابت کریں گے کہ سیاسی وعدہ صرف جلسے کی تقریر نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر عملی جدوجہد کا نام ہے؟
مسلم لیگ ن کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا۔ پارلیمنٹ میں آنے سے پہلے سیاسی جماعتوں کے اندر موقف بنتا ہے، منشور بنتے ہیں، قراردادیں تیار ہوتی ہیں اور ارکان کو پالیسی دی جاتی ہے۔
ہزارہ کے لوگ اب تقریروں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔
وہ ریکارڈ دیکھیں گے۔
وہ دیکھیں گے کہ کون ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کون خاموش ہوجاتا ہے اور کون وقت کے ساتھ اپنا مؤقف تبدیل کرتا ہے۔
صوبہ ہزارہ کی تحریک کو اگر زندہ رکھنا ہے تو اسے کسی ایک سیاسی جماعت کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ ہزارہ کے صحافی، وکلا، دانشور، طلبہ، سیاسی کارکن اور عام شہری اس مطالبے کو آئینی اور جمہوری انداز میں زندہ رکھ سکتے ہیں۔
لیکن مسلم لیگ ن کے لیے بھی ابھی وقت ہے۔
اگر وہ واقعی سمجھتی ہے کہ صوبہ ہزارہ ایک جائز عوامی اور انتظامی مطالبہ ہے تو اسے واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔ اور اگر اس کے نزدیک معاملہ مختلف ہے تو وہ بھی صاف الفاظ میں عوام کو بتائے۔
خاموشی کبھی کبھی سب سے زیادہ بولتی ہے۔
اور ہزارہ کے لوگ اب اس خاموشی کو سن رہے ہیں۔
یہ تحریک کسی ایک کی جاگیر نہیں، کسی ایک جماعت کی میراث نہیں اور کسی ایک شخصیت کے نام سے وابستہ نہیں۔ یہ ایک خطے کے عوام کا مطالبہ ہے۔
مسلم لیگ ن اگر اس مطالبے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو اس کا ریکارڈ عوام کے سامنے ہوگا، اور اگر وہ پیچھے ہٹتی ہے تو وہ بھی تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہوگا۔
ہزارہ کے لوگ شاید بہت کچھ بھول جائیں، مگر سیاسی بے وفائی آسانی سے نہیں بھولتے۔
سوال آج بھی وہی ہے:
مسلم لیگ ن، صوبہ ہزارہ کے ساتھ تمہارا اصل موقف کیا ہے؟
اور اس سوال کا جواب اب تقریر نہیں، عمل مانگتا ہے۔
