پاکستان:1947 سے 2026تک ملکیت کس کے ہاتھ گئی؟

پاکستان:1947 سے 2026تک ملکیت کس کے ہاتھ گئی؟

تحقیق : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ

“ملکیت کس کے ہاتھ گئی؟” کے زاویے سےدیکھتے ہیں لیکن ایک اہم احتیاط کے ساتھ: جہاں سرکاری ریکارڈ صرف خریدار/شیئر ہولڈر بتاتا ہے، اس لئے”آج کا ultimate beneficial owner” نہیں کہیں گے۔ کیونکہ الگ کمپنی/کارپوریٹ ریکارڈ سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان: ریاستی ملکیت سے نجی ملکیت تک — Ownership Chain

ایوب خان — 1958–1969

بنیادی ماڈل: نجی صنعت + ریاستی سرپرستی

اس دور میں بڑے صنعتی گھرانوں کا کردار بڑھا اور 1960ء کی دہائی میں معیشت میں نجی سرمایہ کاری اور صنعتی concentration نمایاں ہوئی۔ بعد میں یہی concentration 1972 کی نیشنلائزیشن کے پس منظر کا ایک اہم حصہ بنی۔

Ownership chain:

ریاستی سرپرستی / مراعات

↓

نجی صنعتی گروپس

↓

بڑے کاروباری خاندانوں میں ملکیت کا ارتکاز

↓

1972 میں متعدد بڑے صنعتی یونٹس ریاست کے پاس

یہاں ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایوب دور میں جو نجی ملکیت بڑھی، وہ بعد میں بھٹو دور میں مکمل یا جزوی طور پر ریاستی ملکیت میں منتقل ہوئی۔

بھٹو — 1971–1977

سب سے بڑا Ownership Transfer

یہ پاکستان کی ملکیتی تاریخ کا بنیادی turning point ہے۔

سرکاری Privatisation Commission کے مطابق 1972 میں 32 صنعتی یونٹس ریاست نے سنبھالے؛ 1973 میں مزید 26 صنعتی یونٹس قومیائے گئے، جن میں vegetable oil، life insurance، shipping اور petroleum companies شامل تھیں۔ 1974 میں بینک قومیائے گئے، اور بعد میں flour mills، rice husking اور cotton ginning تک نیشنلائزیشن پھیلی۔

Chain:

نجی صنعتی خاندان / سرمایہ کار

↓

Nationalization

↓

Government of Pakistan

↓

State-owned enterprises (SOEs)

اہم شعبے:

بینک

انشورنس

بڑی صنعت

سیمنٹ

ٹریکٹر

گاڑیاں

کیمیکل

پیٹروکیمیکل

شپنگ

تیل و گیس سے متعلق ادارے

اہم بات: یہ کہنا درست نہیں کہ بعد میں ہر ادارہ اسی پرانے مالک کو واپس کر دیا گیا۔ کئی اداروں کی ملکیت بعد میں نئے نجی خریداروں کو منتقل ہوئی۔

ضیاء الحق — 1977–1988

Nationalization → Denationalization

1978 کے Transfer of Managed Establishment Order کے بعد ڈی نیشنلائزیشن کی پالیسی شروع ہوئی۔ سرکاری Privatisation Commission کے مطابق بعض ادارے نجی شعبے کو منتقل ہوئے، جبکہ 1985 اور 1989 کی مزید کوششیں نسبتاً محدود کامیاب ہوئیں۔ 1988 میں حکومت نے PIA کے 10% حصص IPO کے ذریعے فروخت کیے۔

Chain:

بھٹو دور کے قومیائے گئے ادارے

↓

ریاستی ملکیت

↓

Denationalization

↓

کچھ ادارے/یونٹس دوبارہ نجی شعبے کو

لیکن یہاں ایک بہت اہم فرق:

Denationalization ≠ ہمیشہ original owner کی واپسی

یعنی ہمیں ہر ادارے کا الگ title/ownership record دیکھنا پڑے گا۔

بے نظیر / نواز شریف — 1988–1999

باقاعدہ Privatization Architecture

22 جنوری 1991 کو Privatisation Commission قائم ہوئی۔ اس کے بعد نجکاری محض ad-hoc فیصلہ نہیں رہی بلکہ باقاعدہ سرکاری programme بن گئی۔

چند انتہائی اہم ownership transfers

ادارہ

ریاستی حصہ فروخت

خریدار

منتقلی

Allied Bank

51%

EMG

1991

Muslim Commercial Bank

75%

National Group

1991

Bankers Equity

51%

LTV Group

1996

Habib Credit & Exchange

70%

Sheikh Nahyan bin Mubarik Al-Nahyan

1997

یہ سب سرکاری Privatisation Commission کی completed-transactions فہرست میں درج ہیں۔

Ownership Chain

1974: نجی بینک

↓

ریاستی بینک

↓

1991 onward privatization

↓

نئے نجی گروپس / سرمایہ کار

مثلاً:

MCB

نجی ملکیت

→ 1974 قومی ملکیت

→ 1991: 75% National Group

→ بعد میں public/strategic shareholders کے ذریعے ملکیت کا ڈھانچہ مزید تبدیل ہوا۔

یہاں “نیشنلائزڈ → واپس نجی” کہنا کافی نہیں؛ کس کے ہاتھ، کتنے فیصد، کس قیمت پر، کس سال دیکھنا ضروری ہے۔

مشرف — 1999–2008

Ownership Transfer کی رفتار بہت تیز

سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1991–2008 کے درمیان 167 transactions سے تقریباً Rs476 billion حاصل ہوئے۔

یہاں چند بڑی chains انتہائی اہم ہیں:

UBL

ریاستی ملکیت

↓

2002: 51% فروخت

↓

Bestway + Abu Dhabi Group consortium

↓

بعد میں مزید shares کی market transactions

سرکاری record میں 2002 کی 51% sale Rs12.35 billion درج ہے۔

HBL

Nationalized bank

↓

2003: 51%

↓

Aga Khan Fund for Economic Development

↓

بعد میں مزید shares public/market transactions کے ذریعے

2003 کی 51% transaction سرکاری record میں Rs22.409 billion درج ہے۔

PTCL

یہ زیادہ پیچیدہ ownership chain ہے:

Government / state telecom

↓

Public share offerings

↓

2005: 26% strategic stake

↓

Etisalat UAE

اس کے بعد حکومت کے پاس باقی shares رہے، لہٰذا اسے مکمل “state → private” transfer کہنا درست نہیں؛ یہ partial privatization + strategic management/control arrangement کی نوعیت رکھتا ہے۔

2008–2018

Privatization کی رفتار کم، مگر ownership structure بدلتا رہا

سرکاری Privatisation Commission کے مطابق 2008 کے بعد تقریباً چھ سال کا وقفہ آیا، پھر 2013–18 میں programme دوبارہ فعال ہوا۔

2013–18 میں پانچ transactions مکمل ہوئیں، جن سے تقریباً Rs173 billion حاصل ہوئے۔

اس عرصے میں اہم چیز یہ ہے کہ ہر transfer مکمل sale نہیں تھا۔

کئی معاملات میں:

Government majority

↓

minority shares کی public offering

↓

strategic investors / institutional investors

مثلاً:

UBL

PPL

ABL

HBL

کے مزید shares market/strategic investors کو فروخت کیے گئے۔ سرکاری فہرست میں 2014–15 کے ان transactions کی تفصیلات موجود ہیں۔

2018–2022

ایک اہم تبدیلی: “نجکاری” سے زیادہ restructuring

2018 کے بعد حکومت نے SOEs کے بارے میں ایک نیا programme مرتب کیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 31 اکتوبر 2018 کو Cabinet Committee on Privatisation نے نئی privatisation plan کی منظوری دی، جسے اگلے روز کابینہ نے ratify کیا۔

اس دور کو صرف “نجکاری کا دور” کہنا تاریخی طور پر سادہ کاری ہوگی۔

زیادہ درست chain:

ریاستی ادارے

↓

restructuring

↓

corporatization / financial reform

↓

ممکنہ privatization

↓

کچھ cases میں transaction مکمل نہ ہونا

یعنی ہر listed SOE لازماً نجی ہاتھ میں نہیں گیا۔

2022–2026

ایک نیا Ownership Map بن رہا ہے

یہ مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا، اس لیے یہاں سب سے زیادہ احتیاط ضروری ہے۔

حکومت کے 2024–29 Privatisation Programme میں aviation، financial، retail، industrial اور power sectors کے متعدد SOEs شامل ہیں۔

مثلاً:

Financial

State Life Insurance

Postal Life Insurance

HBFC

ZTBL

Retail

Utility Stores Corporation

Industrial

PECO

Sindh Engineering

Power

IESCO

FESCO

GEPCO

LESCO

MEPCO

HESCO

PESCO

SEPCO

GENCOs

وغیرہ۔

لیکن “Programme میں شامل” کا مطلب “نجی ملکیت میں منتقل ہو چکا” نہیں ہے۔

مثلاً 2026 میں HBFCL کے 51% حصص کی negotiated sale کا عمل ناکام/ختم کرنے کی سفارش کی گئی کیونکہ واحد bidder کی Rs4.2bn bid، Rs13.55bn reference price سے بہت کم تھی۔

یہ مثال بہت اہم ہے:

سرکاری ادارے کو نجی کرنا اور واقعی نجی ملکیت میں منتقل کر دینا دو مختلف واقعات ہیں۔

پورے 78 سال کی Ownership Chain ایک نظر میں

1947

│

├── ریاست + نجی کاروبار

│

▼

1958–69 ایوب

│

├── نجی صنعت کو فروغ

├── صنعتی ملکیت کا ارتکاز

│

▼

1972–74 بھٹو

│

├── بڑے صنعتی یونٹس قومیائے گئے

├── بینک قومیائے گئے

├── انشورنس قومیائی گئی

│

▼

ریاستی ملکیت

│

▼

1978–88 ضیاء

│

├── Denationalization

├── کچھ ادارے واپس نجی شعبے میں

│

▼

1991

│

└── Privatisation Commission

│

▼

1991–99

│

├── MCB → National Group

├── ABL → EMG

├── دیگر مالیاتی ادارے

│

▼

1999–2008 مشرف

│

├── UBL → Bestway/Abu Dhabi

├── HBL → Aga Khan Fund

├── PTCL → Etisalat (26%)

├── KESC → private ownership

│

▼

2008–13

│

└── رفتار میں کمی

│

▼

2013–18

│

├── مزید share divestments

├── banking

├── energy

├── PSE restructuring

│

▼

2018–22

│

└── restructuring + نئے privatization plans

│

▼

2022–26

│

├── PIA

├── airports

├── ZTBL

├── State Life

├── DISCOs

├── Utility Stores

├── power generation companies

└── دیگر SOEs

لیکن اصل “چونکا دینے والی” تحقیق ابھی باقی ہے

اس پورے نقشے سے ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے:

پاکستان میں ملکیت صرف “سرکاری بمقابلہ نجی” نہیں رہی۔

بلکہ کئی اداروں میں chain یہ بنی:

نجی خاندان → ریاست → نیا نجی گروپ → public shareholders → strategic investor → institutional investors

اور بعض میں:

ریاست → جزوی نجکاری → ریاستی minority/majority باقی

اور بعض میں:

ریاست → نجکاری کی کوشش → transaction ناکام → دوبارہ ریاستی ملکیت

اسی لیے اگلا مرحلہ سب سے زیادہ اہم ہوگا:

“1947 میں مالک کون تھا؟ 1972 میں کس سے لیا؟ 1991/2000/2005 میں کس کو دیا؟ کتنے میں دیا؟ آج shares کس کے پاس ہیں؟”

اس کے لیے ہمیں اداروں کے نام وار Ownership Ledger بنانا چاہیے، مثلاً پہلے 20 بڑے ادارے:

MCB، HBL، UBL، ABL، PTCL، KESC/K-Electric، PIA، Pakistan Steel Mills، Heavy Electrical Complex، Kot Addu Power، Mari Petroleum، PPL، OGDC، State Life، ZTBL، Utility Stores، PECO، NIT، شپنگ اور تعلیمی ادارے۔

ہر ادارے کے سامنے 1947 → نیشنلائزیشن → ریاستی ملکیت → نجکاری → خریدار → subsequent shareholders → 2026 status نکالیں گے۔ اس سے “ملکیت کس کے ہاتھ گئی؟” محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ دستاویزی Ownership Audit بن جائے گا۔

ذیل میں “پاکستان Ownership Audit — 1947 تا 2026” کا باقاعدہ Master Ledger تیار کر دیاگیا ہے۔ جس میں جہاں ممکن ہو سرکاری Privatisation Commission، متعلقہ کمپنی کے موجودہ disclosures اور SECP کے ownership framework کو بنیاد بنایا ہے۔ خاص احتیاط یہ رکھی ہے کہ خریدار، موجودہ controlling shareholder اور ultimate beneficial owner کو ایک ہی چیز نہ سمجھا جائے۔ SECP خود direct، indirect اور beneficial ownership میں فرق کرتا ہے۔

پاکستان Ownership Audit

1947 → 2026: ملکیت کس کے ہاتھ گئی؟

کل تاریخی پیمانہ

1991 سے جون 2024 تک Privatisation Commission کے مطابق 182 transactions مکمل ہوئیں اور مجموعی proceeds Rs651.283 billion رہیں۔ ان transactions میں مکمل اداروں کی فروخت کے ساتھ IPO، SPO، GDR اور جزوی حصص کی فروخت بھی شامل ہے۔

Master Ownership Ledger —

ادارہ

نیشنلائزیشن/ریاستی مرحلہ

نجکاری/Divestment

خریدار یا منتقل شدہ حصہ

موجودہ ownership کی نوعیت

نتیجہ

MCB

1974 قومیایا گیا

1991

National Group، 75%، Rs2.42bn

نجی listed bank

ریاست سے نجی شعبہ

ABL

1974 قومیایا گیا

1991

EMG، 51%، Rs972m

Ibrahim Holdings + market shareholders

نجی controlling ownership

UBL

1974 قومیایا گیا

2002

Bestway + Abu Dhabi Group، 51%، Rs12.35bn

strategic + public/institutional

ownership مزید منتشر

HBL

1974 قومیایا گیا

2003

Aga Khan Fund، 51%، Rs22.409bn

strategic + public/institutional

نجی controlling ownership

PTCL

ریاستی ادارہ

1994/2005

26% strategic stake → Etisalat

ریاستی حصہ بھی باقی

جزوی نجکاری

K-Electric

ریاستی KESC

2005

73% → Hassan Associates

بعد میں KES Power consortium

ریاستی اکثریت ختم، مگر حکومت کا حصہ باقی

OGDCL

ریاستی

IPO/GDR/SPO

عوام، ادارے، foreign investors

حکومت 67.48%

جزوی divestment

PPL

ریاستی اکثریت

IPO/SPO

public + market investors

حکومت کی اکثریت برقرار

جزوی divestment

Millat Tractors

ریاستی/قومیائی گئی ownership structure

1992

EMG، Rs306m

listed private company

نجی corporate ownership

PIA

ریاستی

2025–26

Arif Habib-led consortium

First Closing کے بعد private management/control

transition مکمل ہونے کے مرحلے میں

MCB، ABL، UBL اور HBL کے اصل transaction سال، حصص، قیمت اور خریدار Privatisation Commission کی completed-transactions list میں درج ہیں۔

MCB — ملکیت کی مکمل chain

نجی بینک

↓ 1974

ریاستی ملکیت

↓ 1991

National Group — 75%

Sale price: Rs2.42 billion

↓ بعد کے سال

listed company / market shareholders

نتیجہ

یہ اصل نجی مالک کو سیدھی واپسی کی سادہ مثال نہیں بلکہ:

Private → State → New Private Group → Public/Institutional Ownership

کی مثال ہے۔

Allied Bank — ABL

نجی بینک

↓ 1974

ریاست

↓ 1991

EMG — 51%

Rs972 million

↓ بعد میں

Ibrahim Holdings + دیگر shareholders

ABL خود Ibrahim Holdings کو اپنا parent company بتاتا ہے۔

یعنی یہاں بھی:

1974 کا مالک ≠ 1991 کا خریدار ≠ لازماً 2026 کا controlling structure

یہی Ownership Audit کا بنیادی نکتہ ہے۔

UBL

نجی بینک

↓ 1974

ریاست

↓ 2002

Bestway + Abu Dhabi Group consortium

51%

Rs12.35bn

↓ 2005

مزید 4.2% IPO

↓ 2007

25% GDR

↓ 2014

19.6% مزید shares

یعنی ownership ایک دفعہ نہیں بدلی؛ 2002 کے strategic sale کے بعد بھی ownership مسلسل market transactions سے بدلتی رہی۔

HBL

نجی بینک

↓ 1974

ریاست

↓ 2003

Aga Khan Fund for Economic Development

51%

Rs22.409bn

↓ 2007

7.5% IPO

↓ 2015

609.3m shares کی مزید فروخت

یہ بھی:

Nationalized → Strategic investor → Public market

کا model ہے۔

PTCL

یہاں ایک عام غلط فہمی درست کرنا ضروری ہے۔

Chain:

ریاست

↓ 1994

2% public

↓ 1994

مزید 10%

↓ 2005

26% → Etisalat UAE

Sale value تقریباً Rs155.992bn

اس لیے PTCL کو “مکمل طور پر Etisalat کو بیچ دیا گیا” کہنا درست نہیں۔

یہ partial strategic privatization تھی۔

KESC → K-Electric

Chain:

Government-owned KESC

↓

2005 — 73% stake

↓

Hassan Associates

↓

بعد کے corporate ownership changes

↓

KES Power consortium

K-Electric کی موجودہ disclosures کے مطابق حکومت پاکستان کے پاس اب بھی 24.36% حصہ ہے، جبکہ KES Power تقریباً 66.4% رکھتی ہے؛ KES Power میں Al-Jomaih Power، National Industries Group اور KE Holdings شامل ہیں۔

یہ ایک غیر معمولی مثال ہے:

ریاست → پاکستانی نجی خریدار → بعد میں بین الاقوامی consortium

OGDCL

یہ مکمل نجکاری نہیں ہوئی۔

Chain:

Government of Pakistan

↓

2003 — 5% IPO

↓

2006 — 9.1% GDR

↓

2007 — مزید shares

↓

public + institutional investors

30 جون 2025:

Government of Pakistan: 67.48%

Employees Empowerment Trust: 10.05%

Privatisation Commission: 7.50%

باقی public/institutional/foreign investors۔

نتیجہ

OGDCL کو کہنا:

“نجی کر دیا گیا”

غلط ہوگا۔

زیادہ درست:

ریاستی majority + market-based minority ownership

PPL

یہ بھی اسی طرح کا case ہے:

ریاستی اکثریت

↓

IPO

↓

public shares

↓

مزید SPO/divestments

↓

حکومت کی substantial majority برقرار

یعنی:

جزوی نجکاری، مکمل نجکاری نہیں۔

Privatisation Commission کے historical record میں PPL کا 15% IPO، پھر 5% مزید shares کی sale درج ہے۔

Millat Tractors

یہ Ownership Audit کا خاص case ہے۔

ریاستی ownership

↓

1992 privatisation

↓

EMG

Rs306m

↓

نجی corporate management

↓

آج listed company

Privatisation Commission کے historical record میں 1992 کی transaction درج ہے۔

یعنی یہاں ownership transition:

State → Private corporate ownership → Listed company

PIA — 2026 کی تازہ ترین بڑی chain

یہاں تاریخ ابھی جاری ہے۔

Government of Pakistan

2025 bidding

↓

Arif Habib Corporation-led consortium

↓

First Financial Closing

↓

Management control investor consortium کو منتقل

سرکاری ریکارڈ کے مطابق consortium کی کل investment commitment Rs180bn ہے:

Rs55bn — حکومت کو sale proceeds

Rs125bn — PIACL میں fresh equity

First Closing میں:

Rs10bn حکومت کو

Rs80bn PIACL میں fresh equity

دیا گیا۔

مزید 25% shares کے لیے Second Closing/Call Option بھی موجود ہے۔

انتہائی اہم فرق

Sale proceeds ≠ company میں investment

Rs55bn حکومت کو ملنا اور Rs125bn کمپنی میں ڈالنا دو الگ financial flows ہیں۔

وہ ادارے جن کی نجکاری ابھی “ہوئی” نہیں، بلکہ programme میں ہیں

2024–29 کے سرکاری Privatisation Programme میں شامل اداروں کی فہرست بہت اہم ہے:

Financial

State Life

Postal Life

HBFC

ZTBL

Pakistan Re-Insurance

Retail

Utility Stores

Industrial

PECO

Sindh Engineering

Power

GENCO-I

GENCO-II

GENCO-III

GENCO-IV

IESCO

FESCO

GEPCO

LESCO

MEPCO

HAZECO

HESCO

PESCO

SEPCO

اور دیگر ادارے۔

اہم: Programme میں شامل ہونا ownership transfer مکمل ہونے کے برابر نہیں۔

سب سے اہم Ownership Map

اب پورے عمل کو پانچ categories میں رکھیں:

Category A — مکمل یا بنیادی نجی ownership

مثلاً:

MCB، ABL، UBL، HBL، Millat Tractors

ریاست

→ نجی strategic owner

→ بعد میں public/institutional shareholders

Category B — جزوی نجکاری

مثلاً:

PTCL، OGDCL، PPL

ریاست

→ minority/strategic shares فروخت

→ ریاست اب بھی اہم shareholder

Category C — ریاست + نجی consortium

مثلاً:

K-Electric

ریاست

→ نجی controlling group

→ international consortium

→ حکومت minority shareholder

Category D — نجکاری کی کوشش/Programme

مثلاً:

ZTBL، State Life، Utility Stores، DISCOs

ریاست

→ privatisation programme

→ ابھی مکمل transfer نہیں

Category E — پیچیدہ/مختلف corporate structure

مثلاً:

PIA

ریاست

→ restructuring

→ strategic private consortium

→ First Closing

→ Second Closing ابھی transaction structure کا حصہ

اصل “چونکا دینے والا” نتیجہ

اگر ہم صرف یہ کہیں:

“فلاں حکومت نے ادارہ نجی کر دیا”

تو تاریخی تصویر ادھوری رہتی ہے۔

صحیح سوال یہ ہے:

ملکیت کتنی مرتبہ بدلی؟

مثلاً:

UBL

نجی

→ ریاست

→ Bestway/Abu Dhabi

→ public/institutional shareholders

KESC

ریاست

→ Hassan Associates

→ بعد کا corporate restructuring

→ KES Power consortium

→ حکومت minority shareholder

OGDCL

ریاست

→ IPO/GDR/public investors

→ مگر 2025 میں بھی حکومت 67.48%

PTCL

ریاست

→ public shareholders

→ Etisalat strategic stake

→ حکومت کا باقی حصہ

یہی وجہ ہے کہ “نجکاری” ایک single event نہیں بلکہ ownership chain ہے۔

سب سے اہم تحقیقی خلا: 1947 کا “اصل مالک”

یہاں ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔

کسی ادارے کے بارے میں:

“1947 میں فلاں خاندان کا تھا”

کہنے کے لیے ہمیں اس مخصوص ادارے کا historical incorporation record، share register، acquisition record یا متعلقہ archival source چاہیے۔

اسی طرح:

“آج فلاں شخص اصل مالک ہے”

کہنے کے لیے صرف کمپنی کا نام کافی نہیں۔ SECP کے مطابق indirect ownership بھی calculate کی جاتی ہے، اور beneficial owner لازماً وہی نہیں ہوتا جو corporate registry میں براہِ راست shareholder نظر آ رہا ہو۔

2025 میں SECP نے مرکزی UBO Registry قائم کرنے کے لیے regulatory amendments بھی متعارف کرائیں؛ مالی سال جو 30 جون 2025 یا اس کے بعد ختم ہوتے ہیں ان کے لیے UBO information جمع کرنے کا framework بنایا گیا۔

حتمی Audit میں “مالک” کے چار الگ خانے ہوں گے

اصطلاح

مطلب

Legal Owner

قانونی طور پر shares/assets کس کے نام ہیں

Controlling Shareholder

فیصلہ کن voting/control کس کے پاس ہے

Strategic Investor

کس investor نے management/strategic stake لی

Ultimate Beneficial Owner (UBO)

آخرکار حقیقی قدرتی شخص/اشخاص جو ownership/control یا benefit رکھتے ہیں

یہ چاروں ایک شخص/ادارہ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ضروری نہیں۔

16۔ 1947–2026 کا مختصر Ownership Formula

1947

ریاست + نجی کاروبار

↓

1958–69

نجی صنعتی ارتکاز + ریاستی سرپرستی

↓

1972–74

بڑی نیشنلائزیشن

↓

ریاستی ملکیت

↓

1978–88

ڈی نیشنلائزیشن

↓

1991

Privatisation Commission

↓

1990s

بینک + صنعت + گھی + سیمنٹ وغیرہ

↓

2000s

بینک + PTCL + KESC + توانائی

↓

2008–18

جزوی divestments + public markets

↓

2018–22

restructuring + نئے privatization plans

↓

2022–26

PIA + airports + DISCOs + ZTBL

+ State Life + دیگر SOEs

آخری اہم عدد

1991 سے جون 2024 تک:

182 transactions = Rs651.283 billion

لیکن اس کا مطلب 182 مکمل سرکاری ادارے فروخت نہیں ہیں ، کیونکہ اس مجموعے میں shares، IPOs، GDRs، SPOs اور partial stakes بھی شامل ہیں۔ سرکاری Year Book خود sector-wise یہ distinction دکھاتی ہے۔

تحقیق کا اگلا تحقیقی باب

اب سب سے زیادہ معنی خیز کام “20 ادارے” نہیں بلکہ 20 اداروں کے اندر ہر major ownership change کی دستاویزی chain بنانا ہے۔ اس میں قیمت کو آج کی قدر میں inflation-adjusted بھی کیا جا سکتا ہے، اور ساتھ یہ بھی دکھایا جا سکتا ہے کہ:

ریاست نے کتنے میں لیا → کتنے عرصے چلایا → کتنے میں بیچا → خریدار نے بعد میں کیا کیا → آج asset/enterprise کی estimated market position کیا ہے۔

یہ وہ جدول ہوگا جس سے پہلی بار “نجکاری سے خزانے کو کیا ملا، ادارے کو کیا ملا، ملازمین کو کیا ملا، اور ownership آخر کہاں پہنچی؟” کو ایک ہی فریم میں دیکھا جا سکے گا۔پچھلے باب کے تسلسل میں اگلا تحقیقی باب اس بنیادی سوال کو مرکز بناتا ہے:ریاست نے جو ادارے کبھی اپنے قبضے میں لیے، پھر جنہیں نجی شعبے کے حوالے کیا—آخر ملکیت کہاں گئی، کن مراحل سے گزری، اور آج اصل کنٹرول کس کے پاس ہے؟