جماعتِ اسلامی کا احتجاج، دھرنا، عوام پر مسلّط معاشی عذاب سے نجات کےلئے

نائب امیر جماعتِ اسلامی، صدر مجلسِ قائمہ سیاسی قومی اُمور لیاقت بلوچ نے جامع مسجد منصورہ میں خطابِ جمعہ، جلسہ گاہ لاہور میں صحافیوں سے گفتگو اور اسلام آباد سُپر مارچ کی تیاریوں کےلئے لاہور میں عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اگر پُرامن، باوقار، بامقصد، عوامی فلاح کے احتجاج سے گھبراجائیں تو یہ حکومتی زوال کی بڑی نشانی ہوتی ہے۔ جماعتِ اسلامی کا احتجاج، دھرنا، اسلام آباد سُپر مارچ ذاتی، پارٹی اور گروہی مفادات کے تحفظ کےلئے نہیں بلکہ عوام پر مسلّط معاشی عذاب سے نجات کےلئے ہے۔ آئی پی پیز قومی خزانہ ہڑپ کررہی ہیں، ان سے نجات کےلئے حکومت، وزارتِ پاور ڈویژن اپنے کام کو کم از کم وقت میں مکمل کرے۔ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے خاتمہ کےلئے وزیراعظم میاں شہباز شریف وطن واپسی پر ترجیحی بنیادوں پر اجلاس بلائیں اور جماعتِ اسلامی کی تجاویز پر عمل کرکے عوام کو ریلیف دیں، قومی معاشی پہیہ کو چلنے دیں تاکہ عوام کو روزگار ملے، تجارت، زراعت، صنعت، گھریلو صنعت اور صارفین کے گھر کا چولہا جلے۔ لاہور میں تمام رُکاوٹوں، پولیس گردی سے اشتعال پیدا کرنے کی ہر واردات کو ناکام بناتے جماعتِ اسلامی کا پُرامن جلسہ عام، ہزاروں مرد و خواتین، پُرجوش نوجوانوں کی شرکت نے پُرامن سیاسی آئینی جمہوری مزاحمت کو طاقت ور بنادیا ہے۔ کراچی سے ملتان تک اسلام آباد سُپر مارچ کامیابی سے چلا، اِس وقت ملتان میں پڑاؤ ہے، وزیراعظم اور حکومتی کارپردازوں نے تاخیری حربے اور ٹال مٹول سے کام لیا تو اسلام آباد سُپر مارچ ملتان سے اسلام آباد کےلئے روانہ ہوگا۔ حکمران اپنے رویئے، عیاشیوں، قومی خزانہ پر لُوٹ مار، عوام کی مشکلات کو ختم کرنے کےلئے تیار نہیں، اپنی ناکام، کرپٹ، نااہل طرزِ حکمرانی کو محفوظ بنانے کےلئے اسلام آباد کو بند کرنے کا ہی سوچتے ہیں۔ حکومت کا ایسا آمرانہ رویہ عوام چکنا چُور کردیں گے۔ پُرامن عوامی احتجاج کے قافلے حکومت کو عوام کے دُکھ ختم کرنے پر مجبور کردیں گے یا پھر جعلی حکمرانی کا بوریا بستر گول ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ مؤخر کردیا ہے، یہ پی ٹی آئی کا اپنا فیصلہ ہے اور ایسے فیصلے کا اُنہیں حق حاصل ہے۔ پی ٹی آئی لانگ مارچ کے مؤخر ہونے کے بعد پی ٹی آئی افلاطون ترجمان اور سوشل میڈیا پر گند پھیلانے والے سرگرم افراد اپنے شدّتِ جذبات سے رُجوع کریں گے؟ سیاست کے میدان میں عدم برداشت، اختلافی رائے سے چِڑ اور بےلگام شدّت و انتہاپسندی بڑے نقصان کا باعث بنتی ہے۔ سیاست، جمہوریت اور آئین کی فرمانروائی کی جدوجہد جمہوری رویوں سے کامیاب ہوتی ہے اور آمر رُخصت ہوتے ہیں۔ شدّتِ جذبات اور ہر ایک کے خلاف نفرت و تضحیک کا عمران خان ڈاکٹرائین مفید ثابت نہیں ہوا۔