اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینیئر نصراللہ رندھاوا نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو درپیش بحرانی نوعیت کے مسائل کا واحد اور پائیدار حل فوری بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اور شہری حکومت کی بحالی ہے۔منتشر اختیارات دارالحکومت کی تباہی کا باعث رہے ہیں۔ نیا نظام لانے کی بات کرنے والوں کو چاہیے کہ پہلے اسلام آباد کو منتخب نمائندوں کا نظام دیں۔ سی ڈی اے، آئی سی ٹی انتظامیہ اور ایم سی آئی ایک شخص کے ہاتھوں بیڈ گورننس کا شکار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی ڈی اے اب ایک “ہاتھی” بن چکا ہے اور بیڈ گورننس اسلام آباد کا بنیادی مسئلہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں منعقدہ “اسلام آباد گورننس کنونشن 2026” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کنونشن میں مسلم لیگ (ن) کے طارق فضل چوہدری اور انجم عقیل، پیپلز پارٹی کے سید نیئر حسین بخاری سمیت بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات اور بار ایسوسی ایشنز کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں شہری سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ شہر کو پانی کی روزانہ ضرورت 283 ملین گیلن ہے جبکہ صرف 62 ملین گیلن پانی میسر ہے، شہر کے تقریباً پچاس فیصد علاقے بغیر کسی منصوبہ بندی کے غیر منظم آبادیوں پر مشتمل ہیں، جبکہ پورے پاکستان اور اسلام آباد کے مریضوں کے لیے عملاً صرف ایک سرکاری ہسپتال دستیاب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرینج اور سیوریج کا نظام شدید بحران کا شکار ہے اور زمینوں کے ریکارڈ کے لیے آج بھی فرسودہ پٹوار سسٹم رائج ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ ضرور بنائیں لیکن اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کریں۔ جب تک شہری حکومت بحال نہیں ہوتی، اختیارات منتقل نہیں ہوتے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن فعال نہیں ہوتا۔
امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں فوری بلدیاتی الیکشن کروائے جائیں، سی ڈی اے کے اندر ادارہ جاتی اصلاحات لا کر اسے مالی طور پر خودمختار بنایا جائے، اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم نچلی سطح تک یقینی بنائی جائے اور ڈیجیٹلائزیشن، ڈیموکریسی اور ڈویلپمنٹ کے تین نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ اسلام آباد کو تھری ڈی ماڈل پر لانا ہوگا۔مالی طور پر خود مختار بنا کر اختیارات کو نیچے تک منتقل کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ طویل المیعاد منصوبوں پر کام کرکے پاکستان کے دارالحکومت کو دنیا کے ماڈل شہروں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
