تحریر انجنیئر افتخارِ چودھری
کچھ تحریریں صرف پڑھی نہیں جاتیں، دل میں اتر جاتی ہیں اور ضمیر سے سوال کرتی ہیں۔ ایک ایسی ہی تحریر میری نظر سے گزری جس میں ستر سالہ ماں لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہے جہاں کبھی تین لوگ ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے؛ ابا، امی اور بیٹا۔ بیٹا سترہ سال پہلے امریکہ گیا۔ پہلے تعلیم کے لیے، پھر نوکری ملی، گرین کارڈ ملا، شادی ہوئی، بچے ہوئے اور پھر زندگی اتنی تیز ہوگئی کہ ماں کے لیے وقت کم ہوتا گیا۔
شروع میں ماں روز فون کرتی تھی۔ ’’کھانا وقت پر کھا لینا، برف میں باہر نہ نکلا کرو، اپنی بیوی کو میرا سلام کہنا۔‘‘ پھر آہستہ آہستہ فون کم ہوگئے۔ شاید اس لیے کہ بوڑھے والدین ایک عمر کے بعد اپنی محبت بھی دھیمی کردیتے ہیں تاکہ اولاد کو بوجھ محسوس نہ ہو۔
بیٹا ہر ہفتے ویڈیو کال کرتا اور ماں کہتی، ’’میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا، بس خوش رہا کرو۔‘‘ بیٹا مطمئن ہوجاتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ’’میں ٹھیک ہوں‘‘ کہہ دینے سے ایک بوڑھی ماں واقعی ٹھیک ہوجاتی ہے؟
ایک دن بیٹا کام کے سلسلے میں گلف گیا تو پاکستان آنے کا فیصلہ بھی کرلیا۔ ماں کو نہیں بتایا، سوچا اچانک پہنچ کر حیران کرے گا۔ رات تقریباً گیارہ بجے گھر پہنچا۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی آواز آئی۔ دروازہ کھلا تو ماں سامنے کھڑی تھی۔
وہ چند لمحے بیٹے کو دیکھتی رہی، پھر کانپتے ہاتھ سے اس کا چہرہ چھوا اور بولی:
’’سچ میں تم ہو؟‘‘
سترہ سال کے انتظار کا شاید اس سے بڑا خلاصہ ممکن نہیں۔
گھر میں وہی فرنیچر تھا، وہی پردے، ابا کی پرانی کرسی بھی وہیں تھی، مگر گھر میں زندگی کم ہوچکی تھی۔ ماں فوراً کچن میں گئی اور بیٹے کے لیے چائے بنائی۔ دو کپ۔ بالکل ویسے جیسے ابا کے زمانے میں بنایا کرتی تھی۔
بیٹے نے گھر کو غور سے دیکھا۔ دیوار پر بچپن کی تصویریں تھیں، کمرے کے دروازے پر اس کا نام آج بھی لگا تھا اور کیلنڈر پر لاہور اور امریکہ کے اوقات درج تھے۔
ماں نے اپنی زندگی دو ٹائم زون میں بانٹ رکھی تھی؛ ایک اپنے لیے اور ایک اپنے بیٹے کے لیے۔
چائے پیتے ہوئے ماں نے کہا، ’’میں کبھی کبھی رات کو تمہارے کمرے کی لائٹ جلا دیتی ہوں۔ پہلے تم دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔ اب کبھی کبھی لگتا ہے شاید تم لوگ اچانک واپس آجاؤ گے۔‘‘
یہ جملہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔
آخر ہم نے ترقی کا مطلب کیا سمجھ لیا ہے؟
بیرون ملک جانا، اچھی نوکری، بڑا گھر، اچھی گاڑی اور بینک بیلنس اپنی جگہ، مگر اگر ان سب کی قیمت یہ ہو کہ بوڑھی ماں اپنے گھر میں اکیلی بیٹھ کر اولاد کی راہ دیکھتی رہے تو پھر کامیابی کے اس تصور پر سوال اٹھنا چاہیے۔
مجھے اپنے ایک پٹھان دوست کا واقعہ یاد آتا ہے۔ وہ جدہ میں ایک اچھی کمپنی میں اچھی ملازمت کرتا تھا۔ ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اس کی ماں بیمار ہے۔ اس نے یہ نہیں سوچا کہ کمپنی کیا کہے گی، چھٹی کیسے ملے گی یا ملازمت کا کیا ہوگا۔ وہ جدہ سے پشاور پہنچ گیا۔
اس نے ماں کو یہ نہیں کہا کہ ’’امی، پیسے بھیج دیتا ہوں، علاج کرا لیجیے۔‘‘
اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ ’’امی، ویڈیو کال کرلیتے ہیں۔‘‘
وہ خود پہنچ گیا۔
کیونکہ اس کے نزدیک ماں کی بیماری کے وقت اس کے پاس موجود ہونا ضروری تھا۔
یہی اصل فرق ہے۔
ایک شخص جدہ کی اچھی ملازمت چھوڑ کر بیمار ماں کے پاس پشاور پہنچ سکتا ہے تو ہم اپنی ترجیحات کا جائزہ کیوں نہیں لے سکتے؟
والدین کو صرف پیسے نہیں چاہئیں۔ انہیں اولاد کا وقت چاہیے، ساتھ چاہیے، یہ یقین چاہیے کہ ضرورت کے وقت کوئی اپنا موجود ہوگا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم بچے تھے تو ہماری ماں ہماری ایک آواز پر رات کو اٹھ جاتی تھی۔ بخار میں پوری رات جاگتی تھی، ہماری پسند کا کھانا بناتی تھی، اسکول کے لیے ہم سے پہلے اٹھتی تھی۔
پھر وہی ماں بوڑھی ہوئی تو ہم نے اسے اپنی مصروفیات کے درمیان جگہ کم دے دی۔
’’امی، بہت مصروف ہوں۔‘‘
’’امی، ابھی میٹنگ ہے۔‘‘
’’امی، بچوں کا اسکول ہے۔‘‘
’’امی، اگلے سال ضرور آؤں گا۔‘‘
اور ماں ہر بار کہتی رہی:
’’کوئی بات نہیں بیٹا، اپنا خیال رکھو۔‘‘
یاد رکھیے، ماں کا ’’کوئی بات نہیں‘‘ ہمیشہ بے فکری نہیں ہوتا۔ کبھی اس کے پیچھے وہ درد ہوتا ہے جو ماں اپنی اولاد کو بتانا نہیں چاہتی۔
اسی کہانی کا سب سے دردناک منظر اُس وقت آتا ہے جب بیٹا واپس امریکہ جانے کے لیے ایئرپورٹ روانہ ہوتا ہے۔ راستے میں اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ وہ ڈرائیور سے کہتا ہے، ’’گاڑی واپس موڑ لو۔‘‘
گھر پہنچ کر ڈرائیور کو رخصت کرتا ہے، بیگ ایک طرف رکھتا ہے اور خاموشی سے ماں کے کمرے میں جاتا ہے۔ ماں کروٹ لے کر لیٹی ہوئی ہے اور ہچکیوں سے رو رہی ہے۔
بیٹا آہستہ سے اس کے پاؤں پر ہاتھ رکھتا ہے۔
ماں گھبرا کر اٹھ بیٹھتی ہے:
’’تم گئے نہیں؟ فلائٹ نکل جائے گی!‘‘
بیٹا کہتا ہے:
’’کہیں نہیں جا رہا۔ فلائٹ نکل جانے دیں۔‘‘
یہ شاید اس کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ تھا۔
اس نے سمجھ لیا تھا کہ پیسہ دوبارہ کمایا جاسکتا ہے، نوکری دوبارہ مل سکتی ہے، کاروبار دوبارہ شروع ہوسکتا ہے، مگر ماں کے ساتھ گزر جانے والا وقت واپس نہیں آتا۔
بیرون ملک جانا غلط نہیں۔ تعلیم، روزگار، کاروبار اور بچوں کا مستقبل سب اہم ہیں۔ مگر والدین کو صرف اس لیے تنہا چھوڑ دینا کہ ’’زندگی بہت مصروف ہے‘‘ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب انسان کو ایک دن اپنے ضمیر کو دینا پڑتا ہے۔
اگر حالات ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دیتے تو والدین کی مضبوط دیکھ بھال کا انتظام کیجیے، باقاعدگی سے ان سے ملیے، ان کی بیماری میں پہنچنے کی کوشش کیجیے اور انہیں یہ احساس نہ ہونے دیجیے کہ اولاد نے انہیں ان کے بڑھاپے کے حوالے کردیا ہے۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے:
والدین پر ان کی زندگی میں خرچ کیجیے، ان کے ساتھ وقت گزاریے، ان کی ضروریات پوری کیجیے، ان کے دل کو خوش کیجیے۔ ان کے پاس بیٹھ کر ان کی باتیں سنیے، چاہے وہی بات کئی مرتبہ کیوں نہ سنا چکے ہوں۔
والدین کے دنیا سے چلے جانے کے بعد صدقات، خیرات اور ایصالِ ثواب اپنی جگہ نیک اعمال ہیں، مگر وہ وقت واپس نہیں لاسکتے جب ماں زندہ تھی اور اسے اپنے بیٹے کی ضرورت تھی۔
ماں زندہ ہے تو اس کے پاس جائیے۔
اس کا ہاتھ پکڑیے۔
اس کے ساتھ چائے پیجیے۔
اسے بتائیے کہ وہ آپ کے لیے بوجھ نہیں، نعمت ہے۔
کیونکہ ایک دن گھر وہی ہوگا، پردے وہی ہوں گے، ابا کی کرسی وہی ہوگی، ماں کا کمرہ بھی وہی ہوگا، مگر ماں نہیں ہوگی۔
اور پھر دنیا کی کوئی دولت، کوئی عہدہ، کوئی بینک بیلنس آپ کے دل سے وہ ایک سوال نہیں نکال سکے گا:
جب میری ماں کو میری ضرورت تھی، میں کہاں تھا؟
ماں کے لیے وقت نکالیے، صرف رقم نہیں۔ اسے اپنی موجودگی دیجیے، صرف فون نہیں۔ کیونکہ ماں کے جانے کے بعد بہت کچھ کیا جاسکتا ہے، مگر اس کے ساتھ بیٹھ کر ایک کپ چائے دوبارہ نہیں پی جاسکتی۔
