پاکستان میں اداروں کا انبار: محکمے ہیں تو ریگولیٹری ادارے، کارپوریشنیں اور نیم سرکاری ادارے کیوں؟
تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
بنیادی سوال یہ نہیں کہ ادارے کتنے ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کے ٹیکس سے چلنے والا ہر ادارہ کون سا کام کرتا ہے، اس کے نتائج کیا ہیں، اور اگر وہ کام نہیں کرتا تو اسے برقرار رکھنے کا جواز کیا ہے؟
یہ پاکستان کے ریاستی نظام کی ایک بنیادی کمزوری ہے۔ اسمبلیاں قانون بناتی ہیں، سینیٹ قانون سازی اور وفاقی نمائندگی کا کردار ادا کرتا ہے، حکومتیں پالیسیاں بناتی ہیں، وزارتیں اور محکمے ان پر عمل درآمد کرتے ہیں، پولیس امن و امان قائم رکھنے کے لیے موجود ہے، عدالتیں انصاف دینے کے لیے اور بلدیاتی ادارے شہری سہولتوں کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود مختلف ادوار میں مزید اتھارٹیز، بورڈز، کارپوریشنیں، کمیشن اور ریگولیٹری ادارے وجود میں آتے رہے ہیں۔
یہ صورتِ حال ایک اہم سوال پیدا کرتی ہے: کیا پاکستان میں ادارے عوامی مسائل حل کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں، یا بعض اوقات موجودہ اداروں کی ناکامی کا جواب ایک نیا ادارہ بنا کر دیا جاتا ہے؟
اس سوال کا جواب محض تمام ادارے بند کرنے میں نہیں، بلکہ ان کی ضرورت، کارکردگی، اخراجات، اختیارات اور جواب دہی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے میں ہے۔
ایک ہی ریاست میں اتنے مختلف اداروں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
اصولی طور پر ہر ادارے کا الگ کام ہونا چاہیے۔ تمام اداروں کو ایک ہی نوعیت کا کام نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ قانون نافذ کرنا، عوامی خدمات فراہم کرنا، نجی کمپنیوں کی نگرانی کرنا اور سرکاری کاروبار چلانا الگ الگ ذمہ داریاں ہیں۔
پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں
قانون سازی، بجٹ کی منظوری، حکومتی نگرانی اور عوامی نمائندگی۔ ان کا کام ہر سرکاری محکمے کا روزمرہ انتظام خود چلانا نہیں۔
وزارتیں اور سرکاری محکمے
حکومت کی منظور شدہ پالیسیوں پرعمل، سرکاری خدمات کی فراہمی، ملازمین کا انتظام اور قانون کے مطابق عوامی ذمہ داریاں پوری کرنا۔
ریگولیٹری ادارے
بجلی، ٹیلی مواصلات، مالیاتی خدمات یا دوسرے منضبط شعبوں میں قواعد کی پابندی، لائسنسنگ، نگرانی اور صارفین کے حقوق کا تحفظ۔ ان کا جواز تب مضبوط ہوتا ہے جب نگرانی کرنے والے ادارے کو اس کاروبار کے روزمرہ انتظام سے مناسب حد تک آزاد رکھنا ضروری ہو۔
سرکاری کارپوریشنیں اور کاروباری ادارے
بجلی، نقل و حمل، پیداوار یا دوسری خدمات اور کاروباری سرگرمیاں چلانا۔ یہ اس لیے قائم کیے جا سکتے ہیں کہ ان کے انتظام، مالیات اور عملی فیصلوں کے لیے عام وزارت کے طریقۂ کار سے مختلف نظام درکار ہو۔
کمیشن، اتھارٹیز اور نیم سرکاری ادارے
کسی مخصوص کام، مثلاً احتساب، مسابقت، انتخابات، ترقیاتی منصوبہ بندی یا تکنیکی نگرانی کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ان کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان کے اختیارات واضح اور نتائج قابلِ پیمائش ہوں۔
اس تقسیم سے ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: اداروں کی مختلف اقسام بذاتِ خود خرابی نہیں؛ ایک ہی کام کے لیے متعدد اداروں کا ہونا، یا کسی ادارے کے پاس ذمہ داری تو ہونا مگر جواب دہی نہ ہونا، اصل خرابی ہے۔
کیا یہ واقعی عوام کے لیے مالی بوجھ ہے؟ پاکستان کے بارے میں شواہد کیا کہتے ہیں؟
اس سوال پر دستیاب سرکاری دستاویزات اور تحقیقی مطالعات آپ کی تشویش کو سنجیدہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
وفاقی اداروں کی تنظیمِ نو: حکومت کے ادارہ جاتی اصلاحات کے ایک سرکاری جائزے میں ذمہ داریوں کے تکرار، فرائض کی غیر واضح تقسیم، جواب دہی کی کمی اور ایسے اداروں کا ذکر کیا گیا جو اپنی اصل ضرورت کھو چکے تھے۔
ریگولیٹری اداروں کی تعداد اور دائرۂ کار: 19 جولائی 2025 کی ایک تحقیقاتی تحریر میں وفاقی سطح پر 122 سے زائد ریگولیٹری اتھارٹیز کا ذکر ہے۔ یہ تعداد مختلف تعریفوں اور اداروں کی درجہ بندی کے باعث ایک تخمینہ سمجھی جانی چاہیے، نہ کہ تمام اقسام کے سرکاری اداروں کی حتمی تعداد۔
وزارتوں اور ریگولیٹرز کے درمیان اختیارات: جنوری 2025 میں وفاقی منصوبہ بندی کی وزارت نے خود وزارتوں اور ریگولیٹری اداروں کے اختیارات میں واضح تفریق اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جائزے کی ہدایت دی تھی۔
سرکاری اداروں کے مالی نتائج: وزارتِ خزانہ کی مالی سال 2025 کی سرکاری اداروں سے متعلق مجموعی رپورٹ میں مالی کارکردگی، اخراجات کی وصولی، خطرات اور حکومتی مالی بوجھ کا جائزہ شامل ہے۔
ان شواہد سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہے کہ پاکستان میں ادارہ جاتی تکرار، انتظامی پیچیدگی اور جواب دہی کے مسائل حقیقی اصلاحاتی موضوعات ہیں۔ تاہم ہر اتھارٹی کو غیر ضروری یا ہر سرکاری ملازم کی تنخواہ کو ضیاع قرار دینے کے لیے ادارہ وار اعدادوشمار درکار ہیں۔
اصل مالی بوجھ صرف تنخواہیں نہیں۔ اس میں دفاتر کے کرائے، گاڑیاں، مراعات، بورڈز اور اجلاسوں کے اخراجات، ایک ہی کام کی متعدد منظوریوں سے پیدا ہونے والی تاخیر، سرکاری اداروں کے نقصانات اورغلط فیصلوں کی قیمت بھی شامل ہوتی ہے۔ دوسری طرف ایک مؤثر ریگولیٹر اربوں روپے کے عوامی نقصان، اجارہ داری یا ناقص خدمات سے بچا سکتا ہے۔ اس لیے کسی ادارے کو صرف اس کے بجٹ سے نہیں بلکہ اس کی مجموعی افادیت سے جانچنا چاہیے۔
اگر محکمہ کام نہیں کرتا تو کیا اسے بند کرکے نیا ادارہ بنا دیا جائے؟
پولیس والی مثال اسی مسئلے کا نہایت اہم اظہار ہے۔
فرض کریں کسی شہر میں پولیس چوری، ڈکیتی، اغوا یا شہریوں کے تحفظ کے مسائل پر مؤثر کارروائی نہیں کرتی۔ حکومت ایک نئی اتھارٹی بنا دیتی ہے، پھر ایک خصوصی فورس، پھر ایک نیا شکایتی مرکز۔ لیکن اگر ان سب کے پاس الگ الگ اختیارات ہوں، معلومات مشترک نہ ہوں اور کسی ایک کو نتیجے کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جا سکے تو شہری کے لیے نظام مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
ادارہ جاتی ناکامی کا غلط اور درست جواب
غلط طریقہ
محکمہ ناکام → نیا ادارہ قائم → مزید ملازمین اور بجٹ → اختیارات کا تصادم → شہری بدستور پریشان
درست طریقہ
ناکامی کی تشخیص → ذمہ داری واضح → عملے اور وسائل کی اصلاح → کارکردگی کی پیمائش → ناکامی پر جواب دہی
لیکن ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: اگر پولیس کا محکمہ ناکام ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پولیس کی ضرورت ختم ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ تفتیش ناقص ہے، سیاسی مداخلت ہے، تربیت کمزور ہے، اہلکاروں کی تعیناتی غیرمؤثر ہے، مقدمات درج نہیں ہوتے، یا بدعنوانی اورنگرانی کے نظام میں خرابیاں ہیں۔
ایسی صورت میں پولیس کو فوراً ختم کرکے نئی فورس بنانا پرانے مسائل کو نئے نام سے دہرانے کا خطرہ رکھتا ہے۔
نیا ادارہ صرف تب بنایا جانا چاہیے جب ثابت ہو کہ موجودہ نظام میں مطلوبہ کام کے لیے قانونی اختیار، ضروری مہارت یا مناسب آزادی پیدا کرنا ممکن نہیں، اور نئی تنظیم کا فائدہ اس کی اضافی لاگت سے زیادہ ہوگا۔
ریگولیٹری ادارے ختم کیے جائیں یا محکموں میں ضم ہوں؟
اس معاملے میں ایک ہی اصول سب پر لاگو نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں 15 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے ریگولیٹری اداروں کی تنظیمِ نو کے لیے مطالعے کا فیصلہ کیا، جس میں اداروں کی آزادی، وزارتوں کے ساتھ اختیارات کے تداخل اور ان کی کارکردگی کا جائزہ شامل ہے۔
اصلاحات کے لیے درج ذیل چار راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
پہلا راستہ: ایک جیسے اداروں کا انضمام
اگر دو یا تین ادارے ایک ہی نوعیت کے معائنے، رجسٹریشن، اجازت نامے یا انتظامی خدمات انجام دے رہے ہیں تو ان کے مشترکہ نظام، ایک دفتر یا ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر غور کیا جائے۔
دوسرا راستہ: محکمے کو مضبوط کرنا
اگر کسی اتھارٹی کا کام عام محکمے میں قانونی اورانتظامی طور پر مؤثر انداز میں کیا جا سکتا ہے تو اس کی ذمہ داریاں، متعلقہ تربیت یافتہ عملہ اور وسائل محکمے میں منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
تیسرا راستہ: ضروری آزاد ادارہ برقرار رکھنا
جہاں حکومت خود کسی کاروبار کی مالک بھی ہو اور اسی کاروبار کی نگرانی بھی کرے، وہاں مفادات کے تصادم کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایسے شعبوں میں حقیقی طور پر آزاد اور جواب دہ ریگولیٹر ضروری ہو سکتا ہے۔
چوتھا راستہ: غیر ضروری ادارے کا خاتمہ
اگر ادارے کا قانونی مقصد ختم ہو چکا ہے، کام کہیں اور منتقل ہو گیا ہے، یا جائزے سے ثابت ہو کہ اس کی افادیت اس کی لاگت اور متبادل انتظام سے کم ہے تو قانونی طریقۂ کار کے تحت اسے ختم کیا جائے۔
اصل مسئلہ: ادارے کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟
پاکستان میں ایک بڑا انتظامی مسئلہ یہ بھی ہے کہ شہری کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی شکایت کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ محکمہ کسی اتھارٹی کی طرف بھیجتا ہے، اتھارٹی وزارت کا حوالہ دیتی ہے اور وزارت متعلقہ ادارے سے جواب طلب کرنے کی بات کرتی ہے۔ یوں ذمہ داری ایک دفتر سے دوسرے دفتر منتقل ہوتی رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر ادارے کے لیے تین سوال لازمی ہونے چاہییں:
آپ کو کس مسئلے کے حل کے لیے قائم کیا گیا تھا؟
آپ نے گزشتہ سال کتنے مسائل حل کیے، کتنی رقم خرچ کی اور عوام کو کیا فائدہ پہنچایا؟
اگر آپ اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر سکے تو آپ کے سربراہ اور متعلقہ نگران وزارت سے کیا جواب طلب کیا گیا؟
آڈیٹر جنرل پاکستان کا آئینی کردار سرکاری حسابات کا آڈٹ اور مالی شفافیت کو تقویت دینا ہے؛ اس کے ساتھ اسمبلیوں کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کے ذریعے آڈٹ اعتراضات پر مؤثر کارروائی بھی ضروری ہے۔
مالی آڈٹ کے ساتھ کارکردگی کا آڈٹ بھی ہونا چاہیے۔ صرف یہ معلوم کرنا کافی نہیں کہ رقم کہاں خرچ ہوئی؛ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خرچ کے نتیجے میں عوام کو کیا ملا۔
ایک عملی مثال: پولیس، شکایات اور احتساب
پولیس کی مثال میں نظام کچھ اس طرح ہونا چاہیے:
| ذمہ داری | بنیادی ادارہ یا طریقۂ کار |
| ————————————- | ——————————————————- |
| جرم کی روک تھام اور تفتیش | پولیس |
| مقدمے کی قانونی پیروی | استغاثہ |
| پولیس کی بدعنوانی یا بدسلوکی کی شکایت | مؤثر، قابلِ رسائی اور جہاں ضروری ہو آزاد نگرانی کا نظام |
| مقدمے کا عدالتی فیصلہ | عدالت |
| بجٹ اور انتظامی کارکردگی کا جائزہ | متعلقہ حکومت اور قانون کے مطابق نگرانی کرنے والے ادارے |
یہ تقسیم اس لیے اہم ہے کہ پولیس، استغاثہ اور عدالت ایک دوسرے کے متبادل نہیں۔ قومی پولیس بیورو بھی واضح کرتا ہے کہ فوجداری انصاف کے نظام میں پولیس، استغاثہ اور جیلوں سمیت متعلقہ ادارے باہم مربوط ہیں؛ صرف ایک حصے کی اصلاح سے پورے نظام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔
لہٰذا پولیس کو ختم کرکے نئی پولیس بنانا بنیادی اصلاح نہیں۔ زیادہ مؤثر اصلاح یہ ہوگی کہ مقدمہ درج کرنے سے لے کر تفتیش، گرفتاری، استغاثہ اور عدالتی فیصلے تک ہر مرحلے کی کارکردگی اور ذمہ داری واضح ہو۔ جہاں کسی خصوصی فورس کی ضرورت ہو، اس کا دائرۂ اختیار بھی تحریری اور محدود ہو تاکہ عام پولیس کے اختیارات سے تصادم نہ ہو۔
پاکستان کے لیے مجوزہ ادارہ جاتی اصلاحاتی منصوبہ
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک جامع قومی جائزۂ ادارہ جات اور عوامی اخراجات پروگرام شروع کرنا چاہیے۔ اس کے بنیادی اجزا یہ ہوں:
تمام اداروں کی مکمل فہرست: وزارت، محکمہ، اتھارٹی، کارپوریشن، بورڈ، کمیشن اور نیم سرکاری ادارے؛ ہر ادارے کے قانون، بجٹ، ملازمین، اثاثوں اور اختیارات سمیت۔
کام کی یکسانیت کا جائزہ: ہر ادارے کے فرائض کا دوسرے اداروں سے موازنہ کیا جائے اور تکرار کی نشان دہی کی جائے۔
تین سالہ کارکردگی کا ریکارڈ: اخراجات، آمدن، عوامی شکایات، حل شدہ مسائل، خدمات کے معیار اور مقررہ اہداف کا جائزہ۔
ہر ادارے کے مستقبل کا فیصلہ: برقرار رکھنا، اصلاح کرنا، دوسرے ادارے میں ضم کرنا، وزارت میں منتقل کرنا یا قانونی طور پر ختم کرنا۔
پارلیمانی نگرانی: متعلقہ اسمبلی کی کمیٹی نتائج کا جائزہ لے، وجوہات پوچھے اور اصلاحات کے نفاذ کی نگرانی کرے۔
ملازمین اور شہری خدمات کا تحفظ: ادارہ ختم ہونے کی صورت میں ضروری کام، ریکارڈ اور مہارت محفوظ رکھی جائے؛ ملازمین کے معاملات قانون کے مطابق طے ہوں اور عوامی خدمت میں تعطل نہ آئے۔
سالانہ عوامی رپورٹ: حکومت ہر سال بتائے کہ کتنے اداروں کا جائزہ لیا گیا، کتنے ضم ہوئے، کتنے ختم ہوئے، کتنی حقیقی بچت ہوئی اور عوام کو کیا فائدہ پہنچا۔
اس پروگرام میں محض اداروں کی تعداد گھٹانا کامیابی کا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ اگر دس اداروں کو ضم کرکے ایک ایسا ادارہ بنا دیا جائے جو پہلے سے زیادہ غیر مؤثر ہو تو یہ اصلاح نہیں۔ اصل کامیابی کم لاگت پر بہتر خدمات، واضح ذمہ داری اور عوامی اعتماد ہے۔
ریاست عوام کے لیے ہے، ادارے اپنے لیے نہیں
پاکستان کو نہ ہر حال میں نئے ادارے بنانے کی ضرورت ہے اور نہ ہر ادارہ ختم کرنے کی۔ ضرورت اس اصول کو نافذ کرنے کی ہے کہ ہر ادارہ اپنے وجود کا جواز ثابت کرے، اپنے اخراجات کا حساب دے اور اپنی کارکردگی کے نتائج عوام کے سامنے رکھے۔
اگر کوئی محکمہ اپنا کام نہیں کرتا تو پہلے اس کی ناکامی کی وجہ معلوم کی جائے۔ اگر وجہ بدعنوانی ہے تو احتساب ہو؛ اگر وسائل کی کمی ہے تو مناسب وسائل فراہم کیے جائیں؛ اگر اختیارات کی الجھن ہے تو ان کی تقسیم واضح کی جائے؛ اگر سیاسی مداخلت ہے تو پیشہ ورانہ آزادی اور قانونی تحفظ دیا جائے۔ اور اگر تمام اصلاحات کے باوجود ادارہ غیر ضروری ثابت ہو تو اسے برقرار رکھنے کے بجائے ختم یا ضم کیا جائے۔
اسی طرح، اگر کوئی نئی اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز آئے تو حکومت سے پوچھا جائے کہ موجودہ محکمہ یہ کام کیوں نہیں کر سکتا، نئی اتھارٹی پر کتنا خرچ ہوگا، اس کی کامیابی کیسے ناپی جائے گی اور ناکامی کی صورت میں جواب دہ کون ہوگا۔
ریاست کی مضبوطی سرکاری عمارتوں، سربراہوں، گاڑیوں اور اداروں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ عام شہری کو انصاف، تحفظ، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتیں کتنی آسانی سے ملتی ہیں۔
عوام کے ٹیکس سے چلنے والے ہر ادارے کا پہلا حق عوام پر نہیں، بلکہ اس کی پہلی ذمہ داری عوام کے سامنے ہے۔
اگر اس اصول کو قانون، بجٹ، آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی کے ذریعے نافذ کر دیا جائے تو اداروں کا انبار کم کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست کی حقیقی صلاحیت بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
حوالہ جات
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) — وزارتوں اور ریگولیٹری اداروں کے اختیارات، نگرانی اور جواب دہی سے متعلق تحقیق۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان — سرکاری مالیاتی آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی کا آئینی کردار۔
وزارتِ خزانہ پاکستان — سرکاری ملکیتی اداروں کی مالی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ۔
وفاقی ریگولیٹری اداروں کی تنظیمِ نو سے متعلق اکتوبر 2026 کی رپورٹ۔
