ہوم میڈ پاکستان کا علاج: عہدِ نبوی اور خلافتِ فاروقی کا معاشی و عدالتی روڈ میپ

ہوم میڈ پاکستان کا علاج: عہدِ نبوی اور
خلافتِ فاروقی کا معاشی و عدالتی روڈ میپ

تحقیق و تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ

پاکستان کو آزاد ہوئے تقریباً 80 برس ہونے کو ہیں، لیکن آج بھی عام پاکستانی مایوسی، ناانصافی اور معاشی بدحالی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ ان 79 سالوں میں اس ملک کو ایک مخصوص اشرافیہ، جاگیرداروں، اور طاقتور مقتدر حلقوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے ایک ایسے “ہوم میڈ نظام” میں بدل دیا ہے جہاں قانون صرف کمزور کے لیے ہے اور طاقتور کے لیے سات خون بھی معاف ہیں۔ اسی ہوسِ اقتدار نے ماضی میں ہمارے ملک کا آدھا حصہ ہم سے الگ کر دیا۔
آج ہر شہری تبدیلی کی بات تو کرتا ہے، “ریاستِ مدینہ” کا نعرہ بھی لگایا جاتا ہے، لیکن اس نظام کے نفاذ کا کوئی تحریری روڈ میپ پیش نہیں کرتا۔
ہمیں اپنے ملک کو بچانے کے لیے کسی مغربی ماڈل یا بیرونی نظام کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاریخِ انسانی کا پہلا تحریری آئین (میثاقِ مدینہ)، انسانی حقوق کا سب سے بڑا منشور (خطبہ حجۃ الوداع)، اور تاریخ کی سب سے مثالی فلاحی حکومت (خلافتِ فاروقی) ہمارے پاس تحریری طور پر محفوظ ہیں۔
یہ مسودہ، جسے ہم “منشورِ مدینہ و فاروقی” کا نام دے رہے ہیں، محض ایک نظریاتی بحث نہیں بلکہ پاکستان کے سڑے ہوئے عدالتی، معاشی، انتظامی اور دفاعی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک سچی فلاحی ریاست قائم کرنے کا عملی اور تحریری روڈ میپ ہے۔
یہ منشور مطالبہ کرتا ہے:
کہ ملک میں متوازی عسکری اور خصوصی عدالتیں ختم کر کے صدر سے لے کر کسان تک سب کو ایک ہی سول عدالت کے تابع کیا جائے،
کہ زرخیز زرعی زمینوں کو پلاٹوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں بدلنا بند کیا جائے،
کہ کارخانوں کے مزدور اور زمین کے ہاری کو منافع کا نصف شراکت دار بنایا جائے،
اور یہ کہ سیکیورٹی اداروں کے کمرشل بزنسز پر پابندی لگا کر سویلین اداروں میں میرٹ بحال کیا جائے۔
آئیے! اس تحریری منشور کو پڑھیں، اسے سمجھیں، اور پاکستان کی جڑ کو مضبوط کرنے کے لیے اس آواز کو ملک کے کونے کونے تک پہنچائیں۔ تبدیلی اوپر سے نہیں، عوام کے شعور سے آئے گی!
ماضی میں پاکستان میں کوشش کی گئی ہے اور یہ دستاویزات پہلے سے تیار موجود ہیں! پاکستان کی تاریخ میں مفکرین اور ماہرینِ قانون نے اس پر بہت گہرا کام کیا ہے
قراردادِ مقاصد (Objectives Resolution – 1949): یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے پہلی اور بنیادی دستاویزی کوشش تھی۔ اس میں میثاقِ مدینہ اور خطبہ حجۃ الوداع کی روح کو شامل کیا گیا کہ “حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ کی ہے” اور ملک کا نظام عدل، مساوات اور اقلیتوں کے حقوق کے اسلامی اصولوں پر چلے گا۔ یہ آج بھی ہمارے آئین کا حصہ ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل (Council of Islamic Ideology) کا کام: یہ پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے۔ اس کونسل نے پچھلی کئی دہائیوں میں خطبہ حجۃ الوداع، میثاقِ مدینہ اور فقہِ عمرؓ کی روشنی میں پاکستان کے ہزاروں قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھال کر باقاعدہ مسودے اور سفارشات مرتب کر کے پارلیمنٹ کو دی ہیں۔ یہ پورل ریکارڈ کتابی شکل میں موجود ہے کہ کس طرح ملکی قوانین کو عہدِ نبوی کے اصولوں کے مطابق چلایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تصانیف: برصغیر کے عظیم ترین سکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے میثاقِ مدینہ اور عہدِ نبوی کے تمام سرکاری خطوط، معاہدات اور سیاسی دستاویزات کو عربی اور فرانسیسی کے بعد اردو میں “الوثائق السیاسیہ” (عہدِ نبوی کے سیاسی وثائق) کے نام سے جمع کیا۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ مدینہ کا نظام قانونی طور پر کیسے چلتا تھا اور اسے آج کے دور میں کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
جاگیردارانہ نظام (Feudalism)، کرپشن (Corruption) اور ناقص عدالتی نظام (Weak Judicial System) ایک دوسرے کے ساتھ زنجیر کی کڑیوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔
جب تک ان تینوں کا گٹھ جوڑ نہیں ٹوٹتا، عہدِ نبوی کے اصولوں پر مبنی فلاحی ریاست کا خواب ادھورا رہے گا۔ تاریخ اور موجودہ حالات کی روشنی میں یہ تینوں رکاوٹیں ہمارے نظام کو کیسے مفلوج کر رہی ہیں، اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے:
جاگیردارانہ اور اشرافیہ کا نظام (The Feudal & Elite System)
عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں قیادت کا معیار تقویٰ، دیانت داری اور اہلیت تھا۔ لیکن پاکستان میں اقتدار پر ایک مخصوص اشرافیہ (جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار) قابض ہے۔

رکاوٹ: یہ طبقہ کبھی نہیں چاہے گا کہ عام آدمی تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خود کفیل ہو، کیونکہ اگر عام شہری مضبوط ہو گیا تو ان کی سیاسی دکان چمکنا بند ہو جائے گی۔

حکمتِ عملی: اسلام نے وراثت کے قوانین اور زکوٰۃ کے ذریعے دولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے روکا تھا۔ پاکستان کو زرعی اصلاحات، جاگیرداری کے خاتمے اور ٹیکس نیٹ کو اشرافیہ تک پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ دولت کا رخ غریب طبقے کی طرف موڑ کر فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جا سکے۔
کرپشن اور اقربا پروری (Corruption & Nepotism)
ریاستِ مدینہ کی بنیاد شفافیت اور کڑے احتساب پر تھی۔ حضرت عمر فاروقؓ سے مدینہ کے منبر پر ایک عام شہری ان کے کرتے کے کپڑے کا حساب مانگ سکتا تھا۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

رکاوٹ: کرپشن کی وجہ سے فلاحی کاموں، تعلیم اور صحت کے لیے مختص فنڈز عوام تک پہنچنے کے بجائے چند لوگوں کی جیبوں میں چلے جاتے ہیں۔ اقربا پروری کی وجہ سے نااہل لوگ اہم ترین عہدوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔

حکمتِ عملی: جب تک احتساب کا ایک ایسا خودمختار اور غیر جانبدار ادارہ نہیں بنتا جو بلا تفریق سب کا احتساب کرے، تب تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ حکمرانوں کو خود کو احتساب کے لیے پیش کرنا ہوگا، جیسے خلفائے راشدین کرتے تھے۔
ناقص عدالتی نظام (The Broken Judicial System)
یہ سب سے خطرناک رکاوٹ ہے کیونکہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں”۔ مدینہ کی ریاست میں قاضی (جج) خلیفہ کے دباؤ سے مکمل آزاد ہوتے تھے۔

رکاوٹ: پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام غریب کے لیے انتہائی سست، مہنگا اور پیچیدہ ہے، جبکہ طاقتور کے لیے رات کو بھی عدالتیں کھل جاتی ہیں۔ جب قانون کا خوف ختم ہو جائے، تو جاگیرداری اور کرپشن کو تحفظ مل جاتا ہے۔

حکمتِ عملی: پاکستان کو اپنے عدالتی نظام کو سستا، تیز رفتار اور اثر و رسوخ سے پاک کرنا ہوگا۔ مقدمات کا فیصلہ مہینوں اور سالوں کے بجائے دنوں میں ہونا چاہیے تاکہ مجرم کو سزا اور مظلوم کو فوری انصاف مل سکے۔
یہ بات بالکل سچ ہے کہ پاکستان کے مقتدر حلقوں یا سیاست دانوں نے اب تک خلوصِ دل سے اس نظام کے نفاذ کی بات نہیں کی، بلکہ “ریاستِ مدینہ” کے نام کو صرف سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا۔ لیکن پاکستان کے پاس آئینی اور قانونی طور پر اس نظام کو نافذ کرنے کا راستہ اب بھی موجود ہے:

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38 (سماجی و معاشی بہبود): ہمارے اپنے 1973ء کے آئین میں یہ تحریری طور پر لکھا ہے کہ ریاست ہر شہری کو روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت فراہم کرے گی، اور امیر و غریب کا فرق ختم کرے گی۔ پاکستان کو کسی نئے مسودے کی نہیں، بلکہ اپنے موجودہ آئین کے ان فلاحی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

عدالتوں کا آزاد ہونا (قانون کی بالادستی): مدینہ کی ریاست تب بنتی ہے جب قانون طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہو۔ پاکستان کو اپنے عدالتی نظام کو طاقتور کے اثر و رسوخ سے پاک کرنا ہوگا۔

ٹیکس اور زکوٰۃ کا شفاف نظام: عہدِ نبوی میں فلاحی ریاست کا سارا نظام زکوٰۃ اور بیت المال پر چلتا تھا۔ اگر پاکستان اپنے اشرافیہ (Elite) سے صحیح ٹیکس لے اور اسے غریبوں کی صحت و تعلیم پر خرچ کرے، تو فلاحی ریاست کا قیام ممکن ہے۔

نیچے سے اوپر کی تبدیلی (Bottom-up Approach): جب تک عوام خود سچے، دیانت دار اور قانون پسند نہیں بنیں گے، ان پر ایسے ہی حکمران مسلط رہیں گے۔ مکہ کے 13 سالوں میں آپ ﷺ نے پہلے افراد کی اخلاقی تربیت کی تھی، جس کے بعد مدینہ کا نظام قائم ہوا۔ پاکستان میں بھی تبدیلی کا آغاز فرد کی سطح سے ہوگا۔

79 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اوپر بیٹھے لوگ خود کو کبھی نہیں بدلیں گے کیونکہ یہ نظام ان کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اس لیے اس نظام کو بدلنے کا واحد راستہ عوامی شعور اور نیچے سے اوپر کی تبدیلی (Bottom-up Approach) ہے۔

ووٹ کا صحیح استعمال: جب تک عوام برادری، ذات پات، یا ذاتی فائدے (جیسے سڑک، نالی، نوکری) کے بدلے ووٹ دیتے رہیں گے، یہی لٹیرے مسلط رہیں گے۔ عوام کو صرف دیانت دار اور اہل قیادت کو چنا ہوگا۔

مقامی حکومتوں کا قیام: اختیارات اور فنڈز کو نچلی سطح (یونین کونسل اور بلدیاتی سطح) پر منتقل کیا جائے، جیسا کہ خلافتِ راشدہ میں ہر علاقے کا بیت المال اور گورنر الگ ہوتا تھا جو مقامی لوگوں کو جوابدہ ہوتا تھا۔
ماضی میں (خلافتِ راشدہ):
یہ نظام اپنی روح کے ساتھ خلافتِ راشدہ (بالخصوص حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور بعد میں خلیفہ عادل حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ) کے دور میں مکمل طور پر نافذ رہا۔ اس دور میں:
بیت المال سے ہر شہری (خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم) کا وظیفہ مقرر تھا۔
قانون کی نظر میں خلیفہِ وقت اور عام شہری برابر تھے۔
کوئی بھی شخص بھوکا نہیں سوتا تھا، یہاں تک کہ زکوٰۃ لینے والے نہیں ملتے تھے۔
حال میں (جدید دنیا کی مثالیں):
آج مسلم دنیا میں تو یہ ماڈل مکمل طور پر کہیں دکھائی نہیں دیتا، لیکن جدید دنیا میں اسکینڈینیوین ممالک (Scandinavia) جیسے ڈنمارک، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ نے “فلاحی ریاست” (Welfare State) کے ان سماجی اصولوں کو کافی حد تک اپنا رکھا ہے جو اسلام نے دیے تھے۔
وہاں تعلیم اور صحت مکمل طور پر مفت ہے۔
بے روزگاروں، بوڑھوں اور بچوں کو حکومت کی طرف سے وظیفہ ملتا ہے۔
قانون سب کے لیے برابر ہے اور کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے۔
مادی طور پر یہ ممالک مدینہ کے فلاحی ماڈل کے بہت سے اصولوں (بغیر مائنڈ سیٹ کے) پر چل رہے ہیں۔
“آئینی اور فلاحی ریاست” کے اصولوں کا تحریری مسودہ بالکل موجود ہے اور ہمیں نئے سرے سے کچھ تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تاریخِ انسانی میں اس کے تین بنیادی تحریری مآخذ (Sources) موجود ہیں:

میثاقِ مدینہ (622ء): یہ دنیا کا پہلا تحریری آئین (Written Constitution) ہے جو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ ہجرت کے بعد مسلمانوں، مقامی بت پرستوں اور یہودی قبائل کے درمیان طے کروایا۔ اس کی 52 دفعات (Clauses) آج بھی تحریری شکل میں سیرت کی مستند کتابوں میں محفوظ ہیں۔ اس میں شہریوں کے حقوق، دفاعی حکمتِ عملی، مقتدرہ (Authority) کی اطاعت اور مذہبی آزادی کو تحریری طور پر نافذ کیا گیا۔

خطبہ حجتہ الوداع (632ء): یہ اسلام کا پہلا تحریری منشورِ حقوقِ انسانی (Human Rights Charter) ہے۔ اس میں نسلی برتری کا خاتمہ، عورتوں کے حقوق، جان و مال کا تحفظ، اور معاشی استحصال (سود) کی ممانعت کو ہمیشہ کے لیے قانون بنا دیا گیا۔
حضرت عمر فاروقؓ کے فرامین اور سرکاری خطوط: خلافتِ راشدہ کے دور میں جب فلاحی ریاست کا نظام عروج پر پہنچا، تو حضرت عمرؓ نے گورنروں اور قاضیوں (ججوں) کے نام جو خطوط لکھے (جیسے قاضی شریح کے نام خط)، وہ اسلامی قانون اور فلاحی نظام کا باقاعدہ تحریری ریکارڈ ہیں۔
پاکستان بالکل آپ ﷺ کی ہدایات کے مطابق عہدِ نبوی کا نظام اپنا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے سسٹم کی روح (Spirit) کو سمجھنا ہوگا، نہ کہ اس دور کے مادی یا قبائلی ڈھانچے کو۔
عہدِ نبوی کا سیاسی و سماجی نظام (جو مدینہ میں قائم ہوا) ان اصولوں پر مبنی تھا جنہیں پاکستان اپنا سکتا ہے:
قانون کی بالادستی (نفاذِ عدل): آپ ﷺ کا مشہور فرمان ہے کہ “تم سے پہلی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب کوئی امیر چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور غریب کو سزا دیتے”۔ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے ایک قانون بنا کر یہ سسٹم اپنایا جا سکتا ہے۔
ریاستِ مدینہ کا فلاحی ماڈل: زکوٰۃ، عشر اور مواخات (بھائی چارے) کے نظام کے ذریعے غربت کا خاتمہ۔ پاکستان اپنے ٹیکس اور زکوٰۃ کے نظام کو شفاف بنا کر غریبوں کو صحت، تعلیم اور روزگار کی ضمانت دے سکتا ہے۔
شوریٰ کا نظام (مشاورت): عہدِ نبوی میں فیصلے مشاورت سے ہوتے تھے۔ پاکستان اپنے پارلیمانی اور جمہوری نظام کو ذاتی مفادات سے پاک کر کے حقیقی “شوریٰ” (اہل اور دیانت دار لوگوں کی مشاورت) میں بدل سکتا ہے۔
اقلیتوں کے حقوق: “میثاقِ مدینہ” کے تحت غیر مسلموں کو مکمل مذہبی اور سماجی آزادی حاصل تھی۔ پاکستان اپنے آئین کے مطابق اقلیتوں کو تحفظ دے کر اس کی پیروی کر سکتا ہے۔
پاکستان کو مکہ کے “قبائلی نظام” کی طرف نہیں جانا، بلکہ مدینہ کی اس “آئینی اور فلاحی ریاست” کے اصولوں کو اپنانا ہے جو آپ ﷺ نے وحی اور حکمتِ الہیٰ کے تحت قائم فرمائی تھی۔

منشورِ مدینہ و فاروقی: فلاحی و آئینی روڈ میپ
حصہ اول: انتظامی اور عدالتی نظام (فقہِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روشنی میں)
یہ حصہ حضرت عمر فاروقؓ کے ان سرکاری خطوط، احکامات اور پالیسیوں پر مبنی ہے جو انہوں نے ابوموسیٰ اشعریؓ (گورنر بصرہ) اور قاضی شریحؒ کو ارسال کیے۔
باب اول: قانون کی بالادستی اور عدالتی آزادی (Judicial Autonomy)
پاکستان کا موجودہ نظام طاقتور کو تحفظ اور کمزور کو سزا دیتا ہے۔ فاروقی نظام کے تحت عدلیہ کا ڈھانچہ درج ذیل اصولوں پر قائم ہوگا:
حکمران اور عام شہری کی برابری:
خلیفہِ وقت یا ملک کا صدر/وزیراعظم بھی کسی عام شہری کی طرح عدالت میں پیش ہونے کا پابند ہوگا۔ (جیسے حضرت عمرؓ خود ایک یہودی کے خلاف مقدمے میں قاضی کے سامنے عام شہری کی طرح کھڑے ہوئے تھے)۔
عدالتوں میں صدر یا وزیراعظم کے لیے “خصوصی پروٹوکول” یا استثنیٰ (Immunity) مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔
ججوں (قاضیوں) کی مالی خود کفالت:
ججوں کو اتنی بھاری تنخواہیں اور مراعات دی جائیں گی کہ انہیں کرپشن یا رشوت کی ضرورت ہی نہ رہے۔
حضرت عمرؓ قاضی شریح کو اتنی بڑی تنخواہ دیتے تھے کہ وہ اس دور کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے، تاکہ وہ کسی کے دباؤ یا لالچ میں نہ آئیں۔
عدالتی کارروائی میں جانبداری کا خاتمہ:
جج اپنے سامنے بیٹھے ہوئے دونوں فریقین (خواہ ایک ملک کا آرمی چیف ہو اور دوسرا غریب کسان) کے ساتھ دیکھنے، بیٹھنے اور مخاطب کرنے میں مکمل برابری برتے گا۔ عدالت میں کسی کو نشست پر اور کسی کو زمین پر کھڑا نہیں کیا جائے گا۔
فوری انصاف اور ثبوت کا معیار:
مقدمات کو سالوں پر لٹکانا ممنوع ہوگا۔ اگر مدعی (دعویٰ کرنے والا) ثبوت پیش نہ کر سکے، تو ایک مقررہ مدت کے بعد مقدمہ خارج کر دیا جائے گا۔
“البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر” (ثبوت فراہم کرنا دعویٰ کرنے والے کی ذمہ داری ہے، اور انکار کرنے والے پر قسم کھانا لازم ہے)۔ اس اصول کے تحت جھوٹے مقدمات کا فوری خاتمہ ہوگا۔
باب دوم: حکمرانوں اور سرکاری افسران کا کڑا احتساب (Accountability & Anti-Corruption)
پاکستان میں اشرافیہ کرپشن کر کے بیرونِ ملک اثاثے بناتی ہے۔ فاروقی ماڈل میں اس کا حل یہ ہے:
اثاثوں کی لازمی ڈیکلریشن (قبل از تقرری):
کسی بھی وزیر، مشیر، بیوروکریٹ یا جج کو عہدہ دینے سے پہلے اس کے اور اس کے خاندان کے تمام اثاثوں کا دقیق حساب لیا جائے گا۔
عہدہ چھوڑتے وقت دوبارہ اثاثوں کی جانچ ہوگی۔ اگر اثاثے جائز آمدن سے زیادہ نکلے، تو زائد رقم فوری طور پر ضبط کر کے بیت المال (قومی خزانے) میں جمع کر دی جائے گی۔ (جیسے حضرت عمرؓ نے گورنر ابوہریرہؓ اور عمرو بن العاصؓ کے اثاثوں کا آدھا حصہ ضبط کر لیا تھا)۔
پروٹوکول اور شاہانہ طرزِ زندگی پر پابندی:
سرکاری فنڈز پر عیاشی، مہنگی گاڑیاں، اور شاہی کیمپس بنانا سنگین جرم ہوگا۔
گورنرز اور وزراء پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے گھر کے دروازے عوام کے لیے کھلے رکھیں۔ اگر کوئی افسر اپنے گھر پر چوکیدار رکھ کر عوام سے کٹ جائے گا، تو اسے معطل کر دیا جائے گا۔
عوامی شکایات کا براہِ راست ازالہ (احتسابِ عام):
سال میں ایک بار (جیسے عہدِ فاروقی میں حج کے موقع پر ہوتا تھا) تمام صوبوں کے گورنرز، وزراء اور اعلیٰ افسران کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ کوئی بھی عام شہری کھڑے ہو کر ان کے خلاف شکایت درج کروا سکے گا اور موقع پر فیصلہ ہوگا۔
باب سوم: مقامی حکومتیں اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی (Decentralization)
پاکستان میں تمام اختیارات اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومتوں میں چند لوگوں کے پاس جمع ہیں۔ فاروقی نظام کے تحت:
صوبوں اور اضلاع کی خودمختاری:
ملک کو چھوٹے انتظامی اضلاع میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر ضلع کا اپنا ایک خود مختار “بیت المال” (خزانہ) ہوگا۔
ضلع سے اکٹھا ہونے والا ٹیکس اور زکوٰۃ سب سے پہلے اسی ضلع کے غریبوں، ہسپتالوں اور اسکولوں پر خرچ ہوگا۔ اگر وہاں سے رقم بچ جائے، تو وہ وفاق (مرکز) کو بھیجی جائے گی۔
مقامی شوریٰ (لوکل کونسل):
ہر علاقے کے فیصلے وہاں کے مقامی دیانت دار اور ماہرین کی کمیٹی (شوریٰ) کرے گی، نہ کہ دور بیٹھا ہوا کوئی بیوروکریٹ۔
باب چہارم : عہدیداروں کا معیار اور طریقۂ تقرری (Selection & Appointment Manual)
عہدِ فاروقی میں تقرری کا بنیادی اصول یہ تھا: “جس نے کسی عہدے پر سفارش یا قرابت داری کی بنیاد پر کوئی نااہل شخص مقرر کیا، اس نے اللہ، اس کے رسول اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی”۔
اس اصول کے تحت پاکستان کے لیے عہدیداروں کی تقرری کا فارمولا درج ذیل ہوگا:
ججز (قاضی) کی تقرری کا طریقہ کار
پاکستان میں ججوں کی تقرری اکثر سیاسی اثر و رسوخ یا سینیارٹی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ فاروقی نظام میں معیار بالکل مختلف ہوگا:
اہلیت کا معیار: جج کے لیے صرف قانون کی ڈگری کافی نہیں ہوگی۔ اس کا تقویٰ، غیر جانبدار ہونا، دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت (اعصابی مضبوطی)، اور معاشرے میں اس کی ساکھ (Reputation) دیکھی جائے گی۔
کڑا امتحان اور مانیٹرنگ: حضرت عمرؓ کسی کو جج مقرر کرنے سے پہلے خود اس کی ذہانت اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کا امتحان لیتے تھے۔ پاکستان میں ججوں کی تقرری کے لیے ایک خود مختار “فاروقی جوڈیشل کونسل” بنے گی جو خفیہ طور پر امیدوار کے اخلاق، اس کے خاندانی پس منظر، اور اس کی ماضی کی زندگی کا جائزہ لے گی۔
سیاسی مداخلت کا خاتمہ: عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں کسی وزیر، مشیر یا صدر کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔
مقامی شوریٰ (لوکل کونسل) کا انتخاب
عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں کوئی مغربی طرز کا انتخابی (Electoral) نظام نہیں تھا جہاں کروڑوں روپے خرچ کر کے ووٹ خریدے جائیں۔
اہلِ حل و عقد کا اصول: مقامی شوریٰ کے ارکان وہ لوگ ہوں گے جنہیں معاشرہ خود ان کی امانت اور شرافت کی وجہ سے “معزز” تسلیم کرتا ہو۔ اس میں ہر شعبے کے ماہرین (علماء، اساتذہ، ڈاکٹرز، کسانوں کے نمائندے، اور تاجر) شامل ہوں گے۔
امیدواری پر پابندی (No Self-Nomination): اسلام کا اصول ہے کہ “جو شخص خود عہدہ مانگے، اسے عہدہ نہ دو”۔ پاکستان میں موجودہ انتخابی مہمات (پوسٹرز، جلسے، لالچ) پر مکمل پابندی ہوگی۔ عوام یا علاقہ خود اپنے درمیان سے نیک اور قابل لوگوں کو نامزد (Nominate) کر کے شوریٰ میں بھیجے گا۔
مقامی پولیس (شرطہ) کی بھرتی اور کردار
عہدِ فاروقی میں پہلی بار باقاعدہ پولیس کا نظام (عسس اور شرطہ) قائم کیا گیا جس کا کام راتوں کو پہرہ دینا اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت تھا۔
مائنڈ سیٹ کی تبدیلی: پولیس کا کام عوام کو ڈرانا یا رشوت لینا نہیں، بلکہ کمزور کو طاقتور کے ظلم سے بچانا ہوگا۔
مقامی بھرتی (Local Policing): پولیس افسران اور اہلکار اسی علاقے یا ضلع سے بھرتی کیے جائیں گے تاکہ وہ مقامی لوگوں اور ان کے مسائل سے واقف ہوں۔ ان کا انتخاب ان کے اچھے کردار اور عوامی خدمت کے جذبے کی بنیاد پر ہوگا۔ اگر کسی پولیس والے کے خلاف بدعنوانی کی ایک بھی شکایت ثابت ہو جائے، تو اسے فوری برطرف کر کے سخت عبرت ناک سزا دی جائے گی۔
خزانہ کے اہلکار (بیت المال کے افسران)
خزانے کے افسران کی تقرری میں سب سے زیادہ سختی برتی جائے گی کیونکہ ملکی معیشت کا دارومدار ان پر ہے۔
زہد اور امانت داری: بیت المال کا انچارج (خازن) اس شخص کو بنایا جائے گا جس کا دامن مادی لالچ سے بالکل پاک ہو (جیسے حضرت عمرؓ نے حضرت عبداللہ بن ارقمؓ کو بیت المال کا نگران بنایا تھا جو انتہائی دیانت دار تھے)۔
آڈٹ کا سخت نظام: ہر ضلع کے خزانے کے اہلکار براہِ راست مرکزی شوریٰ اور خلیفہ (یا صدرِ مملکت) کو جوابدہ ہوں گے۔ ان کے پاس موجود سرکاری فنڈز کا ہر ماہ آڈٹ ہوگا اور عوام کے لیے ان کا ریکارڈ پبلک (سوشل آڈٹ) کیا جائے گا تاکہ کوئی ایک روپیہ بھی ادھر ادھر نہ کر سکے۔
باب پنجم – یکساں نظامِ عدالت اور متوازی عدالتوں کا خاتمہ (Unified Judiciary & Anti-Corruption in Prosecution)
مدینہ کی فلاحی ریاست میں قانون کی حاکمیت کا تقاضا ہے کہ ملک میں کوئی متوازی یا دُہرا عدالتی نظام موجود نہ ہو۔ انصاف کا معیار سب کے لیے ایک کرنے کے لیے درج ذیل قوانین نافذ ہوں گے:
ملٹری کورٹس اور سپیشل عدالتوں کا خاتمہ
واحد عدالتی نظام: ملک سے تمام فوجی عدالتیں (Military Courts) اور خصوصی عدالتیں مکمل طور پر ختم کی جائیں گی۔ سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں سمیت ملک کا ہر شہری صرف اور صرف ملک کی سول عدالتوں (عام باقاعدہ عدالتی نظام) کو جوابدہ ہوگا۔
عسکری دائرہ اختیار: ملٹری ایکٹ کے تحت اندرونی تادیبی کارروائی (ڈسپلنری ایکشن) تو عسکری حکام کر سکتے ہیں، لیکن کسی بھی فوجداری جرم (Criminal Offense)، دہشت گردی، یا آئین شکنی کے مقدمات صرف ملکی سول عدالتوں میں ہی چلائے جائیں گے۔
پراسیکیوشن اور تفتیش کے نظام کی اصلاح (منشیات و سنگین جرائم کا حل)
نارکوٹکس اور دیگر عدالتوں میں ملزمان کے بچ نکلنے کی بنیادی وجہ کمزور تفتیش اور کرپشن ہے۔ اس کا فاروقی حل درج ذیل ہے:
خودمختار پراسیکیوشن: تفتیش کرنے والے ادارے (پولیس، اے این ایف وغیرہ) کو ججوں کی طرح سیاسی دباؤ اور رشوت سے پاک کیا جائے گا۔ تفتیش کاروں کی کارکردگی کا باقاعدہ آڈٹ ہوگا۔ اگر کوئی ملزم تفتیش کار کی جان بوجھ کر چھوڑی گئی خامی یا رشوت کی وجہ سے بچ نکلا، تو اس تفتیش کار کو وہی سزا دی جائے گی جو اس مجرم کو ملنی تھی۔
شہادت (Evidence) کا جدید اور فول پروف نظام: گواہوں کو مکمل تحفظ (Witness Protection) فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ فاروقی اصول کے مطابق بغیر کسی خوف کے سچی گواہی دے سکیں۔ بائیو میٹرک اور جدید سائنسی شواہد کو لازمی قرار دیا جائے گا تاکہ سفارش یا رشوت کے بل بوتے پر کوئی مجرم قانون کی گرفت سے نہ نکل سکے۔
باب ششم : قیدیوں کے حقوق اور جابرانہ قیدِ تنہائی کا خاتمہ (Prisoners’ Rights & Abolition of Solitary Confinement)
مدینہ کی فلاحی ریاست میں کسی بھی انسان کو محض شک کی بنیاد پر، بغیر جرم ثابت ہوئے یا کسی سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر برسوں قیدِ تنہائی میں رکھنا سراسر ممنوع ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ باقاعدہ جیل خانہ جات کا نظام امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں قائم کیا گیا، اور انہوں نے قیدیوں کے لیے ایسے حقوق مقرر فرمائے جو جدید دنیا آج بھی نہیں دے سکی۔
پاکستان کے جیل خانوں کو اشرافیہ کے عقوبت خانوں سے نجات دلانے کے لیے درج ذیل قوانین نافذ ہوں گے:
جابرانہ قیدِ تنہائی (Solitary Confinement) پر مکمل پابندی
قانون: کسی بھی قیدی کو، خواہ اس پر کوئی بھی الزام ہو، عدالت سے حتمی سزا سنائے بغیر طویل عرصے کے لیے اندھی کوٹھڑی یا قیدِ تنہائی میں رکھنا سنگین آئینی اور انسانی جرم ہوگا۔ انسان کو ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج کرنے کا یہ “ہوم میڈ طریقہ” اسلام کے اصولِ عدل کے بالکل خلاف ہے۔
ملاقات اور قانونی معاونت کا حق: ہر قیدی کو یہ بنیادی حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے خاندان، بچوں اور قانونی وکلاء سے باقاعدگی کے ساتھ مل سکے۔ کسی بھی قیدی کو اس کے اپنوں سے دور کر کے لاپتہ یا تنہا کرنا ممنوع ہوگا۔
“بغیر جرم ثابت ہوئے قید” (Detention Without Trial) کا خاتمہ
قانون: کسی بھی ملزم کو تفتیش کے نام پر مہینوں یا برسوں جیل میں سڑنے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا۔ اگر پراسیکیوشن (ریاستی ادارے) چھ ماہ کے اندر عدالت میں ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہیں، تو ملزم کو فوری طور پر ضمانت (Bail) پر رہا کرنا قانوناً لازمی ہوگا۔
ناحق قید کا معاوضہ: اگر کوئی شخص عدالت سے بے گناہ ثابت ہو کر رہا ہو، تو جتنے سال یا مہینے اس نے ناحق قید کاٹی ہوگی، ریاست اسے اس کا بھاری معاوضہ (حرجانہ) دینے کی پابند ہوگی اور اس کا مستقبل تباہ کرنے والے تفتیشی افسران کو سخت سزا دی جائے گی۔
قیدیوں کی کفالت اور اخلاقی تربیت (فاروقی ماڈل)
اصول: حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں قیدیوں کے لیے بیت المال سے راشن اور لباس مقرر تھا۔ قیدی کے پیچھے اس کے گھر والوں کی معاشی کفالت بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی تھی۔
قانون: پاکستان کی جیلوں کو عقوبت خانوں کے بجائے “اصلاحی مراکز” میں بدلا جائے گا۔ قیدیوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع دیے جائیں گے تاکہ وہ سزا کاٹ کر معاشرے کے کارآمد شہری بنیں۔ قیدی کے معصوم بچوں اور خاندان کو اس کے جرم کی سزا نہیں دی جائے گی، بلکہ ان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی ریاست پوری کرے گی۔

منشورِ مدینہ و فاروقی: فلاحی و آئینی روڈ میپ
حصہ دوم: معاشی نظام اور فلاحی ریاست (Welfare & Economic System)
یہ حصہ خطبہ حجۃ الوداع کے معاشی منشور، میثاقِ مدینہ کی مواخات (بھائی چارے) اور سیدنا عمر فاروقؓ کے قائم کردہ بیت المال کے انقلابی قوانین پر مبنی ہے۔
باب اول: معاشی مساوات اور جان و مال کا تحفظ (خطبہ حجۃ الوداع کی روشنی میں)
خطبہ حجۃ الوداع صرف ایک مذہبی خطبہ نہیں، بلکہ کائنات کا سب سے بڑا معاشی اور سماجی منشور ہے۔ اس کے تحت پاکستان کے معاشی نظام میں درج ذیل تبدیلیاں لائی جائیں گی:
جان، مال اور آبرو کی حرمت:
آپ ﷺ نے فرمایا: “تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے پر حرام ہیں”۔
ریاست ہر شہری کے حلال مال اور کاروبار کو تحفظ دے گی۔ کسی بھی شہری یا تاجر کو ناجائز سرکاری ٹیکسوں، بھتہ خوری یا ریاستی جبر کے ذریعے ہراساں کرنا سنگین آئینی جرم ہوگا۔
سود (Interest/Riba) کا مکمل اور فوری خاتمہ:
آپ ﷺ نے فرمایا: “جاہلیت کا سود اب مٹایا جاتا ہے اور سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کا سود ختم کرتا ہوں”۔
پاکستان کے بینکنگ نظام سے سود کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مکمل طور پر “ربا فری (Riba-Free) بینکنگ” پر منتقل کیا جائے گا اور اس کے متبادل کے طور پر مضاربت، مشارکت اور قرصِ حسنہ کے اسلامی اصول نافذ کیے جائیں گے۔ سود پر مبنی بیرونی قرضوں کے چکر سے نکلنے کے لیے ملکی وسائل پر انحصار کیا جائے گا۔
باب دوم: جاگیرداری کا خاتمہ اور زرعی اصلاحات (Land Reforms)
پاکستان کی آدھی سے زیادہ دولت اور زمین چند سو جاگیرداروں کے پاس ہے، جبکہ کسان بھوکا مر رہا ہے۔ اسلام کا اصولِ زمین انتہائی واضح ہے:
زمین اسی کی ہے جو اسے آباد کرے:
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: “جس نے کسی مردہ (بنجر) زمین کو زندہ کیا، وہ اسی کی ہے”۔ خلافتِ فاروقی میں اس اصول کے تحت بڑی بڑی جاگیریں واپس لے کر ان لوگوں میں بانٹ دی گئیں جو خود کاشت کرتے تھے۔
پاکستان میں جاگیرداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ کوئی بھی شخص یا خاندان ایک مخصوص حد (Ceiling) سے زیادہ زمین رکھنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ فالتو زمینیں لے کر بے زمین کسانوں اور ہاریوں میں مفت یا آسان اقساط پر تقسیم کی جائیں گی تاکہ پیداوار بڑھے اور عام آدمی خوشحال ہو۔
عشر (Agricultural Tax) کا نفاذ:
جاگیرداروں پر عائد موجودہ برائے نام ٹیکس ختم کر کے ان پر شرعی “عشر” (بارانی زمین پر 10 فیصد اور نہری/ٹیوب ویل والی زمین پر 5 فیصد پیداوار) نافذ کیا جائے گا۔ یہ رقم براہِ راست اسی علاقے کے دیہی فلاحی فنڈ میں جائے گی۔
باب سوم: زکوٰۃ کا نظام اور بیت المال (The Welfare Infrastructure)
عہدِ فاروقی میں فلاحی ریاست کا پورا ڈھانچہ “بیت المال” کے گرد گھومتا تھا، جہاں زکوٰۃ اور دیگر محصولات جمع ہوتے تھے۔
حقیقی زکوٰۃ کا نظام:
پاکستان میں بینکوں سے زکوٰۃ کی کٹوتی کا موجودہ ناقص نظام ختم کیا جائے گا۔ اس کی جگہ ہر ضلع میں ایک خود مختار “زکوٰۃ و عشر بورڈ” بنے گا، جو مقامی شوریٰ کی نگرانی میں صاحبِ حیثیت لوگوں سے زکوٰۃ اکٹھی کرے گا۔
زکوٰۃ کی رقم کو صرف لنگر خانوں یا عارضی امداد پر ضائع نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس سے غریب نوجوانوں کو کاروبار، ہنر (Skills) اور کارخانے لگا کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اگلے سال خود زکوٰۃ دینے والے بن جائیں۔
ریاستی وظائف (سوشل سیکیورٹی):
حضرت عمرؓ کے دور میں ہر نومولود بچے، بیوہ، یتیم، معذور اور بوڑھے کا وظیفہ بیت المال سے مقرر تھا۔
پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچے کے لیے چائلڈ الائونس، اور ہر بوڑھے، معذور اور بے روزگار شہری کے لیے “فاروقی الائونس” (بے روزگاری وظیفہ) مقرر کیا جائے گا، تاکہ ریاست میں کوئی بھی شخص بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم نہ رہے۔
غیر مسلم شہریوں کا تحفظ (جزیہ اور خراج کا جدید متبادل):
خلافتِ راشدہ میں غیر مسلموں سے معمولی ٹیکس (جزیہ) لے کر ان کے جان و مال کی حفاظت کی جاتی تھی اور بوڑھے یا غریب غیر مسلموں کو بیت المال سے وظیفہ دیا جاتا تھا۔ پاکستان میں غیر مسلم شہریوں کو برابر کے معاشی حقوق حاصل ہوں گے اور غریب غیر مسلموں کی کفالت بھی ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔
باب چہارم: ٹیکسیشن اور اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ
ٹیکس کا فاروقی اصول:
حضرت عمرؓ کا اصول تھا کہ ٹیکس صرف امیروں کی فالتو دولت پر لگایا جائے، غریب کی ضرورت پر نہیں۔
پاکستان میں آٹے، دال، چینی، گھی اور بجلی پر موجودہ تمام بالواسطہ ٹیکس (Indirect Taxes/Sales Tax) ختم کیے جائیں گے، جنہوں نے غریب کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ اس کی جگہ امیروں اور کارپوریٹ سیکٹر کی آمدنی اور لگژری لائف اسٹائل پر براہِ راست ٹیکس لگایا جائے گا۔
اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ:
صدر، وزیراعظم، جرنیلوں، ججوں اور بیوروکریٹس کو ملنے والے مفت پٹرول، مفت بجلی، شاہی پلاٹس اور کلبوں کی ممبرشپ فوری طور پر منسوخ کی جائے گی۔ تمام سرکاری افسران عام شہریوں کی طرح اپنی جیب سے بل اور پٹرول دینے کے پابند ہوں گے۔
اس معاشی ماڈل کے نفاذ سے پاکستان چند ہی سالوں میں بیرونی قرضوں کے چنگل سے آزاد ہو کر ایک حقیقی فلاحی ریاست بن سکتا ہے، جہاں کوئی شخص بھوکا نہیں سوئے گا۔
باب پنجم – محنت کشوں کے حقوق اور دوہرے ریاستی نظام کا خاتمہ
عہدِ نبوی کا معاشی اصول یہ تھا کہ دولت صرف چند امیروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے (سورۃ الحشر) اور قانون سب کے لیے برابر ہو۔ اس اصول کے تحت درج ذیل انقلابی قوانین نافذ ہوں گے:
ہاری اور مزدور کے لیے “منافع میں شراکت داری” (Profit Sharing Model)
پاکستان میں سرمایہ دار اور جاگیردار مزدور کی محنت کا استحصال کرتے ہیں اور اسے صرف معمولی اجرت دیتے ہیں۔ اسلام کا اصول “مضاربت اور مشارکت” (سرمائے اور محنت کی شراکت داری) ہے۔
نصف شراکت داری کا قانون: زرعی زمینوں پر کام کرنے والے ہاری اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور کو صرف “نوکر” یا “دیہاڑی دار” نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انہیں پیداوار اور منافع میں نصف (50%) یا طے شدہ منصفانہ شراکت دار بنایا جائے گا۔
نقصان اور نفع میں شمولیت: چونکہ مزدور اپنی زندگی اور محنت داؤ پر لگاتا ہے، اس لیے کاروبار یا فصل کے نفع و نقصان میں اس کا حصہ قانوناً محفوظ ہوگا۔ اس سے ہاری اور مزدور دل لگا کر کام کریں گے، ملک کی پیداوار بڑھے گی اور سرمائے کی اجارہ داری ختم ہوگی۔
زرعی زمینوں کی ہاؤسنگ اسکیموں میں تبدیلی پر پابندی (Food Security Act)
پاکستان میں رئیل اسٹیٹ مافیا، ڈی ایچ اے اور دیگر نجی سوسائٹیوں نے ملک کی سب سے زرخیز زرعی زمینوں کو کنکریٹ کے جنگل (پلاٹوں) میں بدل دیا ہے، جس سے ملک میں اناج کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔
اصول: عہدِ فاروقی میں عراق اور شام کی فتوحات کے بعد حضرت عمرؓ نے ان زمینوں کو جرنیلوں یا مجاہدین میں بانٹنے کے بجائے مقامی کسانوں کے پاس رہنے دیا تاکہ ملک کی غذائی ضرورت (Food Security) متاثر نہ ہو۔
قانون: پاکستان کی کسی بھی زرخیز زرعی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی، ڈی ایچ اے یا صنعتی یونٹ بنانے پر مکمل اور فوری پابندی ہوگی۔ ہاؤسنگ اسکیموں کو صرف بنجر اور غیر آباد زمینوں کی طرف منتقل کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلیں بھوک سے محفوظ رہیں۔
“ایک شہر، ایک قانون” (خاتمہِ دوہرا نظامِ چھاونی و شہر)
پاکستان کے شہروں کو عملاً دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ آدھا شہر سول ایڈمنسٹریشن (کارپوریشن) اور آدھا شہر ملٹری ایڈمنسٹریشن (کنٹونمنٹ/DHA) کے تابع ہے، جہاں ٹیکس، صفائی، سڑکوں اور پانی کی سہولیات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اصول: میثاقِ مدینہ کے تحت مدینہ کے تمام علاقوں کے لیے ایک ہی مرکزی قانون اور مقتدرہ تھی۔ امیر اور غریب کے علاقوں میں تفریق ممنوع تھی۔
قانون: پاکستان سے کنٹونمنٹ بورڈز اور ڈی ایچ اے کا الگ انتظامی و بلدیاتی درجہ ختم کیا جائے گا۔ پورے شہر کو ایک ہی بلدیاتی میئر اور مقامی شوریٰ کے تحت لایا جائے گا۔ قانون، ٹیکس، ترقیاتی فنڈز، اور سہولیات سیکیورٹی اداروں کے افسران اور عام شہری کے لیے بالکل برابر ہوں گی۔ چھاؤنیوں کا دائرہ کار صرف عسکری بیرکوں اور دفاعی تنصیبات تک محدود ہوگا۔
ڈی سی لیز (DC Lease) کا خاتمہ اور کچی آبادیوں کی مالکانہ حیثیت
بیوروکریسی (ڈپٹی کمشنرز) نے لیز کے نام پر غریبوں کو ہمیشہ غیر محفوظ رکھا ہے، جبکہ بااثر افراد سرکاری زمینوں پر کوٹھیاں بنا لیتے ہیں۔
اصول: رسول اللہ ﷺ کا اصول تھا کہ جو زمین پر پہلے آ کر آباد ہوا اور اسے کارآمد بنایا، وہ اس کا حقدار ہے۔
قانون: “ڈی سی لیز” کی تمام پیچیدہ اور رشوت پر مبنی اصطلاحات ختم کی جائیں گی۔ وہ کچی آبادیاں جو دہائیوں سے قائم ہیں، انہیں سستے داموں یا مفت مستقل مالکانہ حقوق (Registry) دیے جائیں گے۔ غریبوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنا بند کیا جائے گا، اور ان آبادیوں کو ماڈل ٹاؤنز کی طرح بجلی، گیس، پانی اور اسکول فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہوگی۔

منشورِ مدینہ و فاروقی: فلاحی و آئینی روڈ میپ
حصہ سوم: خارجہ پالیسی، اقلیتوں کے حقوق اور دفاعی نظام (Foreign Policy, Minority Rights & Defense)
یہ حصہ 622ء میں بننے والے تاریخی “میثاقِ مدینہ” کی 52 دفعات اور خلافتِ راشدہ کی بین الاقوامی سفارتی حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔
باب اول: غیر مسلم شہریوں (اقلیتوں) کے حقوق اور تحفظ
میثاقِ مدینہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے مدینہ میں رہنے والے غیر مسلموں (یہودیوں اور بت پرستوں) کو ریاست کا برابر کا شہری تسلیم کیا۔ پاکستان میں اس ماڈل کے تحت درج ذیل قوانین نافذ ہوں گے:
یکساں شہریت (امتِ واحدہ کا سیاسی تصور):
میثاقِ مدینہ کی دفعہ 25 کے مطابق: “بنو عوف کے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک ہی سیاسی قوم (امت) شمار ہوں گے”۔
پاکستان کے تمام غیر مسلم شہری (مسیحی، ہندو، سکھ وغیرہ) آئینی اور سیاسی طور پر ریاست کے برابر کے حصے دار ہوں گے۔ انہیں سیکنڈ کلاس سٹیزن (Second-class citizen) سمجھنا یا ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا سنگین آئینی جرم ہوگا۔
مذہبی اور ثقافتی آزادی کی ضمانت:
میثاقِ مدینہ کا اصول تھا: “یہودیوں کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین”۔
کسی بھی غیر مسلم شہری کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ان کی عبادت گاہوں (چرچ، مندر، گردوارے) کا تحفظ اور ان کے ذاتی قوانین (Personal Laws) کے تحت فیصلے کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔
مظلوم کی مدد کا غیر مشروط قانون:
میثاق میں تحریر تھا کہ “جو یہودی ہماری پیروی کرے گا، اس کی مدد کی جائے گی اور اس پر کوئی ظلم نہیں ہوگا”۔
اگر کسی غیر مسلم پر کوئی مسلمان یا طاقتور شخص ظلم کرے گا، تو پوری ریاست مظلوم غیر مسلم کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
باب دوم: دفاعی نظام اور مشترکہ ذمہ داری (Defense Strategy)
پاکستان میں دفاعی بجٹ اور سیکیورٹی پالیسیاں ہمیشہ عوام سے چھپا کر بند کمروں میں بنائی جاتی ہیں، جس سے فوج اور عوام میں خلیج پیدا ہوئی۔ میثاقِ مدینہ کا دفاعی ماڈل شفافیت اور عوامی شراکت داری پر مبنی تھا:
مشترکہ دفاع (Collective Defense):
میثاقِ مدینہ کی رو سے: “اگر مدینہ پر کوئی بیرونی دشمن حملہ کرے گا، تو تمام فریقین (مسلمان اور یہودی) مل کر اس کا مقابلہ کریں گے”۔
پاکستان کا دفاع صرف فوج کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہوگا۔ دفاعی پالیسی پارلیمنٹ اور مقامی شوریٰ کے سامنے مکمل طور پر شفاف رکھی جائے گی تاکہ عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد بحال ہو۔
جنگ کے اخراجات کی منصفانہ تقسیم:
میثاق کے مطابق: “جنگ کے دنوں میں یہودی اپنے اخراجات خود اٹھائیں گے اور مسلمان اپنے”۔
دفاعی اخراجات کا بوجھ صرف غریب عوام پر ٹیکس لگا کر نہیں ڈالا جائے گا، بلکہ سیکیورٹی اداروں کے کمرشل بزنسز (کمرشل رئیل اسٹیٹ، فاؤنڈیشنز) کے منافع کو براہِ راست ملکی دفاع اور ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ کیا جائے گا تاکہ عوام پر بوجھ کم ہو۔
جنگ اور امن کا فیصلہ صرف ریاست کا حق:
میثاق کے تحت کوئی بھی قبیلہ مرکزی مقتدرہ (رسول اللہ ﷺ) کی اجازت کے بغیر کسی بیرونی طاقت سے جنگ یا صلح کا معاہدہ نہیں کر سکتا تھا۔ پاکستان میں کسی بھی غیر ریاستی عنصر یا گروہ کو ہتھیار اٹھانے یا اپنی متوازی عدالتیں/سسٹم چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
باب سوم: آزاد خارجہ پالیسی (Independent Foreign Policy)
پاکستان کی خارجہ پالیسی اکثر امریکی یا بیرونی امداد اور ڈکٹیشن کے تابع رہی ہے، جس کی قیمت ہم نے اپنے ہزاروں شہریوں کی جانیں دے کر چکائی۔ مدنی ماڈل کے تحت خارجہ پالیسی کے اصول یہ ہوں گے:
قومی مفاد اور خودداری:
میثاقِ مدینہ کے تحت مدینہ کی ریاست کسی دوسرے ملک (جیسے مکہ کے قریش) کے دباؤ میں نہیں آتی تھی بلکہ اپنے فیصلے خود کرتی تھی۔
پاکستان کسی بھی عالمی بلاک (Block) کا حصہ بن کر دوسرے کی جنگ اپنے گھر نہیں لائے گا۔ ہماری خارجہ پالیسی “سب کے ساتھ امن، کسی کے ساتھ جنگ نہیں” کے اصول پر قائم ہوگی۔ ہم امداد کے بدلے اپنی زمین، فضاء یا اڈے کسی غیر ملکی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے نہیں دیں گے۔
معاہدات کی پاسداری (Diplomatic Integrity):
اسلام کا اصول ہے کہ جو بین الاقوامی معاہدے (Treaties) کیے جائیں، ان کی پاسداری کی جائے بشرطیکہ وہ ملکی سلامتی کے خلاف نہ ہوں۔ پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کرے گا۔
دشمن کے دشمن کو پناہ نہ دینا (سیکیورٹی الائنس):
میثاق کی ایک اہم دفعہ یہ تھی کہ “قریشِ مکہ اور ان کے مددگاروں کو مدینہ میں کوئی پناہ نہیں دی جائے گی”۔
پاکستان اپنی سرزمین کو کسی بھی پڑوسی ملک (جیسے چین، ایران، افغانستان) کے خلاف دہشت گردی یا جاسوسی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، اور نہ ہی خود کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے گا۔
باب چہارم – پیشہ ورانہ حدود اور سویلین میرٹ کا تحفظ (Separation of Powers & Civil Merit)
عہدِ فاروقی کا یہ زریں اصول تھا کہ ہر ادارے کا اہلکار اپنے تفویض کردہ دائرہ اختیار (Domain) میں ہی کام کرے گا۔ سیکیورٹی اداروں کا کام ملکی دفاع ہے، نظامِ حکومت یا معیشت چلانا نہیں ہ۔ سویلین اداروں کے حقوق اور میرٹ کی بحالی کے لیے درج ذیل قوانین نافذ العمل ہوں گے:
عسکری و سیکیورٹی اداروں کے کمرشل بزنسز پر پابندی
قانون: فوج، فضائیہ، بحریہ، رینجرز یا پولیس کے نام پر کسی بھی قسم کی کارپوریٹ فیکٹریوں، کمرشل ہاؤسنگ اسکیموں، یا کاروباری کمپنیوں کے چلانے پر مکمل پابندی ہوگی۔
میڈیکل اور ایجوکیشن کا دائرہ کار: ان اداروں کے زیرِ انتظام ہسپتال یا تعلیمی ادارے صرف اور صرف ان کے حاضر سروس یا شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہوں گے، ان کا تجارتی (Commercial) استعمال ممنوع ہوگا۔ تمام تجارتی اثاثے بتدریج سویلین نجکاری یا وزارتِ تجارت کے دائرہ کار میں لائے جائیں گے تاکہ مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ برقرار رہے۔
حاضر اور ریٹائرڈ سیکیورٹی اہلکاروں کی سویلین اداروں میں تعیناتی پر پابندی
قانون: کسی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی، رینجرز یا پولیس افسر کو کسی بھی سویلین محکمے (جیسے نیپرا، نادرا، واپڈا، پی آئی اے، سفارت کاری، یا کارپوریٹ سیکٹر کی اعلیٰ اسامیاں) میں ڈیپوٹیشن یا ریٹائرمنٹ کے بعد نوکری حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
سویلین میرٹ کا تحفظ: سویلین محکموں کی تمام سیٹیں صرف اور صرف پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ پر آنے والے عام شہریوں کے لیے مخصوص ہوں گی تاکہ ملکی نوجوانوں کا میرٹ پر سے اعتماد بحال ہو۔
سیکیورٹی اداروں کی اندرونی اسامیاں اور سویلینز کا حق
قانون: سیکیورٹی اداروں کے اندر جو شعبہ جات خالصتاً انتظامی، تکنیکی یا غیر جنگی نوعیت کے ہیں (جیسے اکاؤنٹس، لاجسٹکس، لیگل یا سول انجینئرنگ)، ان میں ملک کے عام شہریوں کو اوپن میرٹ اور مسابقتی امتحانات (Competitive Exams) کے ذریعے اعلیٰ ترین عہدوں تک ترقی کا برابر حق حاصل ہوگا۔ کسی بھی سویلین کو صرف اس کے لباس یا پس منظر کی بنیاد پر اعلیٰ عسکری بیوروکریسی کے مقابلے میں کم تر نہیں سمجھا جائے گا۔
تاریخی حقیقت یہی ہے کہ عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں دفاعی و انتظامی فورسز کے نام پر کوئی کارپوریٹ فیکٹریاں، ہاؤسنگ اسکیمیں یا تجارتی امپائرز قائم نہیں کی گئی تھیں۔ مجاہدین اور انتظامی اہلکار یا تو اپنے ذاتی حلال کاروبار، زراعت یا تجارت کرتے تھے یا پھر بیت المال سے ان کا باقاعدہ وظیفہ (تنخواہ) مقرر ہوتا تھا۔ انفرادی کاروبار کی اجازت تھی مگر ادارہ جاتی سطح پر تجارتی اجارہ داری کا کوئی تصور نہیں تھا۔

یہ دستاویز محض چند قوانین کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے 79 سالہ بگاڑ کا ایک عملی، قانونی اور انقلابی متبادل (Alternative) ہے۔
اگر اس روڈ میپ کو خلاصے کے طور پر دیکھا جائے:
حصہ اول نے ہمارے گلے سڑے عدالتی اور بیوروکریٹک ڈھانچے کو جڑ سے بدلا۔
حصہ دوم نے جاگیرداری، رئیل اسٹیٹ مافیا اور دوہرے شہروں کے نظام کو ختم کر کے ہاری اور مزدور کو منافع کا حصہ دار بنایا۔
حصہ سوم نے اقلیتوں کو برابر کا شراکت دار بنا کر ملک کو ایک خوددار اور آزاد خارجہ و دفاعی پالیسی دی۔
یہ وہ مسودہ ہے جو پاکستان کو دنیا کی کسی بھی لائبریری یا جدید ملک کی نقل کیے بغیر، اپنے اصل مآخذ کی روشنی میں دنیا کی عظیم ترین فلاحی ریاست بنا سکتا ہے۔
منشورِ مدینہ و فاروقی: پاکستان کے لیے فلاحی و آئینی روڈ میپ
ایگزیکٹو سمری (Executive Summary)
یہ منشور پاکستان کے 79 سالہ سڑے ہوئے سیاسی، معاشی، سماجی اور عدالتی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑنے کا ایک عملی اور انقلابی متبادل ہے۔ یہ دنیا کے پہلے تحریری آئین (میثاقِ مدینہ)، تاریخِ انسانی کے پہلے جامع منشورِ حقوق (خطبہ حجۃ الوداع) اور خلافتِ راشدہ (فقہِ عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کے تحریری مآخذ اور اصولوں پر مبنی ہے۔
اس منشور کا نچوڑ درج ذیل چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے:
یکساں نظامِ عدل اور انتظامی اصلاحات
واحد عدالتی نظام: ملک سے تمام ملٹری کورٹس اور متوازی خصوصی عدالتیں ختم کی جائیں گی۔ صدر، جرنیل، بیوروکریٹ اور عام شہری سب ایک ہی سول عدالت کے سامنے برابر جوابدہ ہوں گے۔
کڑا احتساب (فاروقی ماڈل): ہر حکمران اور سرکاری افسر کی تقرری سے پہلے اور بعد میں اثاثوں کی سخت جانچ ہوگی۔ ناجائز اثاثے فوراً ضبط کر کے قومی خزانے (بیت المال) میں جمع کیے جائیں گے۔
عہدیداروں کا کڑا معیار: ججوں، پولیس اور خزانے کے افسران کی تقرری سفارش یا سینیارٹی کے بجائے سخت اخلاقی اور پیشہ ورانہ میرٹ پر ہوگی۔ خود عہدہ مانگنے والے کو نااہل قرار دیا جائے گا۔
محنت کشوں کی خوشحالی اور معاشی انصاف
منافع میں نصف شراکت داری: کارخانوں کے مزدوروں اور زمین کے ہاریوں کو محض دیہاڑی دار ملازم نہیں رکھا جائے گا، بلکہ انہیں پیداوار اور منافع میں منصفانہ (نصف) شراکت دار بنایا جائے گا۔
سود کا فوری خاتمہ: ملک کے بینکنگ نظام سے سود (ربا) کا مکمل خاتمہ کر کے اسے مضاربت، مشارکت اور قرصِ حسنہ کے اصولوں پر منتقل کیا جائے گا۔
ریاستی سوشل سیکیورٹی: ہر نومولود بچے کے لیے چائلڈ الائونس، اور ہر بوڑھے، معذور اور بے روزگار شہری کے لیے “فاروقی الائونس” (ماہانہ وظیفہ) بیت المال سے مقرر ہوگا۔
اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ: تمام سرکاری افسران، وزراء اور ججوں کو ملنے والا مفت پٹرول، مفت بجلی، شاہی پلاٹس اور مراعات فوری طور پر منسوخ کی جائیں گی۔
دوہرے نظام کا خاتمہ اور رئیل اسٹیٹ اصلاحات
“ایک شہر، ایک قانون”: ڈی ایچ اے (DHA) اور کنٹونمنٹ بورڈز کا الگ انتظامی و بلدیاتی درجہ ختم کر کے پورے شہر کو ایک ہی سویلین میئر اور بلدیاتی قانون کے تحت لایا جائے گا۔
زرعی زمینوں کا تحفظ: ملک کی سب سے زرخیز زرعی زمینوں پر کسی بھی قسم کی ہاؤسنگ سوسائٹی یا صنعتی یونٹ بنانے پر مکمل پابندی ہوگی تاکہ ملکی غذائی تحفظ (Food Security) برقرار رہے۔
کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق: “ڈی سی لیز” کا رشوت زدہ نظام ختم کر کے دہائیوں سے قائم کچی آبادیوں کے غریب رہائشیوں کو مستقل اور مفت مالکانہ حقوق دیے جائیں گے۔
سویلین میرٹ، آزاد خارجہ پالیسی اور اقلیتوں کا تحفظ
عسکری اداروں کے تجارتی کاروبار پر پابندی: فوج، رینجرز یا پولیس کے نام پر کسی بھی قسم کی کارپوریٹ فیکٹریوں، کمرشل ہاؤسنگ اسکیموں یا کمپنیوں کے چلانے پر مکمل پابندی ہوگی۔
سویلین اداروں کا تحفظ: سویلین محکموں (نادرا، پی آئی اے، واپڈا وغیرہ) میں حاضر سروس یا ریٹائرڈ سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر مکمل پابندی ہوگی۔ یہ اسامیاں صرف عام شہریوں کے لیے مخصوص ہوں گی۔
آزاد خارجہ پالیسی: پاکستان کسی بھی عالمی بلاک کا حصہ بن کر دوسرے کی جنگ اپنے گھر نہیں لائے گا۔ امداد کے بدلے اپنی زمین، فضاء یا اڈے کسی غیر ملکی طاقت کو نہیں دیے جائیں گے۔
اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت: میثاقِ مدینہ کے تحت تمام غیر مسلم شہری ریاست کے برابر کے حصے دار ہوں گے۔ ان کی جان، مال، آبرو اور عبادت گاہوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہوگی۔
یہ منشور پاکستان کو کسی بھی مغربی یا بیرونی ماڈل کی نقل کیے بغیر، اپنے اصل اسلامی اور مدنی مآخذ کی روشنی میں دنیا کی ایک عظیم، خوددار اور حقیقی فلاحی ریاست بنانے کا مکمل روڈ میپ ہے۔