پاکستان کا المیہ: بے بس عوام اور بااختیار حکمران

تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ

“کسی بھی زندہ معاشرے کی پہچان اس کے بیدار مغز عوام اور مضبوط آئینی ادارے ہوتے ہیں۔ لیکن آج کا پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اشرافیہ کی ہوسِ اقتدار اور عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی نے ملک کو ایک گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ایک طرف مہنگائی، لاقانونیت اور بے روزگاری کے تھپیڑوں سے پسی ہوئی عوام ہے، تو دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی وہ مقتدر اشرافیہ جو عوامی مسائل سے مکمل طور پر لا تعلق دکھائی دیتی ہے۔ ملک کے تمام اہم ستون—چاہے وہ مقننہ ہو، عدلیہ ہو، میڈیا ہو یا سول و فوجی اسٹیبلشمنٹ—ایک خاص کنٹرول اور جبر کے سائے میں سسکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عالمی منظر نامے پر بھی پاکستان کی حیثیت محض ایک قرض خواہ ملک کی سی رہ گئی ہے، جہاں عالمی طاقتیں جمہوریت کے گن تو گاتی ہیں لیکن عملی طور پر صرف اپنے جیو پولیٹیکل مفادات کی چوکیداری کرتی ہیں۔ ان سنگین حالات میں یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے کہ آخر پاکستانی عوام کی اس خاموشی کا راز کیا ہے، اور کیا یہ ملک اب مستقل طور پر ایک نام نہاد اور کھوکھلی جمہوریت کا روپ دھار چکا ہے؟”

پاکستان کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے مرحلہ وار، غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہیں:

پاکستان کی موجودہ صورتحال: عوام کہاں اور حکمران کہاں؟

پاکستان میں اس وقت عوام اور حکمران طبقے کے درمیان ایک بہت بڑا خلیج (Gap) نظر آتا ہے۔

عوام کی حالت: عام پاکستانی اس وقت تاریخی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اوسط آمدنی والے خاندان کے لیے بھی تنخواہ میں مہینہ پورا کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ امن و امان کی خراب صورتحال اور لاقانونیت نے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے۔

حکمرانوں کی حالت: دوسری طرف، سیاسی و مقتدر اشرافیہ (Elite) کی ترجیحات زیادہ تر اقتدار کو بچانے، سیاسی جوڑ توڑ اور اپنے مفادات کے تحفظ کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے جو ٹھوس اور انقلابی اقدامات درکار ہیں، ان کا فقدان نظر آتا ہے۔

طاقتور کا قبضہ: عدالتیں، میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ

یہ خدشہ بے جا نہیں ہے کہ ملک کے اہم ستون ایک خاص کنٹرول میں دکھائی دیتے ہیں:

اسٹیبلشمنٹ اور سول بیوروکریسی: پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ مقتدر حلقوں کا سیاست اور پالیسی سازی میں ہمیشہ گہرا اثر و رسوخ رہا ہے، جو موجودہ دور میں مزید واضح ہو کر سامنے آیا ہے۔

عدالتیں اور میڈیا: میڈیا پر غیراعلانیہ سنسرشپ اور آزادیِ اظہارِ رائے پر پابندیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ عدلیہ کو بھی اکثر شدید سیاسی دباؤ اور اندرونی و بیرونی مداخلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے عام آدمی کا انصاف کے نظام پر اعتماد متزلزل ہوا ہے۔

عالمی پس منظر میں پاکستان کا کردار

عالمی سطح پر پاکستان کا کردار فی الحال دفاعی اور بقا کی جنگ (Survival Mode) جیسا ہے:

مثبت یا منفی؟ پاکستان کا کردار منفی نہیں ہے، لیکن معاشی کمزوری اور اندرونی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا اثر و رسوخ (Leverage) بہت کم ہو چکا ہے۔

پاکستان اس وقت دوست ممالک (جیسے چین، سعودی عرب، یو اے ای) اور عالمی مالیاتی اداروں (IMF) سے قرضوں کی ری شیڈولنگ اور مالی امداد حاصل کرنے پر مجبور ہے، جس کی وجہ سے خارجہ پالیسی میں آزادانہ فیصلے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بیرونِ ملک منتقلی (برین ڈرین)

مایوسی کے اسی ماحول کی وجہ سے پاکستان سے نوجوانوں اور پیشہ ور افراد (ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین) کی ریکارڈ تعداد ملک چھوڑ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق: پچھلے دو تین سالوں میں لاکھوں پاکستانی قانونی طور پر بیرونِ ملک منتقل ہو چکے ہیں، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

تیاریاں: ایک محتاط اندازے کے مطابق، ملک کے پچاس فیصد سے زائد نوجوان اگر موقع ملے تو ملک چھوڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ یہ ‘برین ڈرین’ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

کیا پاکستانی عوام فرانس کی طرح سڑکوں پر نکل سکتے ہیں؟ عوام کب جاگیں گے؟

فرانسیسی انقلاب یا وہاں کے حالیہ احتجاجی کلچر کی تاریخ مختلف ہے۔ پاکستان میں عوام کے سڑکوں پر نہ نکلنے کی چند بڑی وجوہات ہیں:

بقا کی جنگ: پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ “صبح سے شام کی روٹی” کا حصول بن چکا ہے۔ جب انسان روزمرہ کی بقا کی جنگ میں مصروف ہو، تو وہ طویل سیاسی تحریکوں کا حصہ نہیں بن پاتا۔

قیادت کا فقدان: عوام کو متحرک کرنے کے لیے ایک مخلص، بے لوث اور کرشماتی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ سیاسی جماعتیں بری طرح تقسیم ہیں، جس کی وجہ سے عوام کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہو پاتے۔

خوف کا عنصر: ریاستی طاقت کے سخت استعمال اور پکڑ دھکڑ کی وجہ سے بھی لوگ سڑکوں پر آنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم، تاریخ بتاتی ہے کہ جب مہنگائی اور ظلم حد سے بڑھ جائے تو عوامی غصہ کسی بھی وقت لاوے کی طرح پھٹ سکتا ہے، لیکن اس کا وقت متعین کرنا ناممکن ہے۔

دنیا میں جمہوریت کا رجحان اور عالمی طاقتوں کے مفادات

یہ بات 100٪ درست ہے کہ عالمی طاقتوں کو کسی ملک میں جمہوریت یا آمریت سے کوئی غرض نہیں ہوتی، انہیں صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔

مستحکم جمہوریتیں: مغربی یورپ، شمالی امریکہ، اور اسکینڈینیوین ممالک میں جمہوریت مستحکم ہے کیونکہ وہاں ادارے مضبوط ہیں اور قانون کی بالادستی ہے۔

کمزور یا نام نہاد جمہوریتیں: ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک (بشمول پاکستان) میں جمہوریت صرف ‘انتخابات’ تک محدود ہے، جسے “ہائبرڈ نظام” یا نام نہاد جمہوریت کہا جاتا ہے۔ عالمی طاقتیں (جیسے امریکہ یا دیگر) اپنے جیو پولیٹیکل مفادات کے لیے آمریتوں اور کٹھ پتلی حکومتوں کو بخوشی قبول کر لیتی ہیں اگر وہ ان کے اشاروں پر چلیں۔

مستقبل کیا کہتا ہے؟ مہنگائی اور لاقانونیت کب ختم ہو گی؟

مستقبل کا دارومدار چند بنیادی تبدیلیوں پر ہے:

معاشی اصلاحات: مہنگائی تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک پاکستان اپنی پیداواری صلاحیت (Productivity) نہیں بڑھاتا، اشرافیہ کو دی جانے والی سبسڈیز ختم نہیں کرتا اور ٹیکس کا نظام منصفانہ نہیں بناتا۔

قانون کی بالادستی: لاقانونیت کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک “طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون” کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی سیاہ دور ہمیشہ برقرار نہیں رہتا۔ “اللہ چاہے تو لمحے کا کام ہے”۔ پاکستان میں حقیقی جمہوریت اور خوشحالی کا امکان بظاہر جتنا بھی کم نظر آئے، لیکن مایوسی کفر ہے۔ تبدیلی راتوں رات نہیں آئے گی؛ یہ تبھی ممکن ہو گی جب ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں گے، اور عوام اپنے حقوق کے لیے شعوری طور پر بیدار ہوں گے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے تاریک ترین دور سے گزر رہا ہے، جہاں سے واپسی کا راستہ بظاہر انتہائی کٹھن دکھائی دیتا ہے۔ ریکارڈ تعداد میں نوجوانوں اور ماہرین کا ملک چھوڑ کر جانا اس مایوسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرانسیسی انقلاب کی طرح عوام کا سڑکوں پر نہ آنا ان کی بزدلی نہیں، بلکہ دو وقت کی روٹی کی وہ تلخ جنگ ہے جس نے ان سے سوچنے اور لڑنے کی سکت چھین لی ہے۔ عالمی طاقتوں سے کسی معجزے کی امید رکھنا کارِ عبث ہے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنی تقدیر خود بدلتی ہیں، کوئی دوسرا آ کر انہیں آزادی کی نعمت نہیں دیتا۔ ہونا تو یہی چاہیے کہ ملک میں حقیقی آئین کی بالادستی اور سچی جمہوریت قائم ہو، لیکن موجودہ نظام کو دیکھ کر اس کا امکان بظاہر ناپید نظر آتا ہے۔ تاہم، مایوسی کفر ہے؛ جب ظلم اور حبس حد سے بڑھ جائے تو ہوا کا رخ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ‘اللہ چاہے تو لمحے کا کام ہے’، لیکن اس الٰہی مدد کے لیے عوام کو بھی اپنے حقوق اور فرائض کا شعور بیدار کرنا ہوگا۔ پاکستان کا مستقبل اسی وقت روشن ہو سکتا ہے جب حکمران طبقہ اپنی آئینی حدود کا پابند ہوگا اور عوام نام نہاد جمہوریت کے سراب سے نکل کر حقیقی تبدیلی کے لیے آواز بلند کریں گے