دورِ حاضر کے اخلاقی فتنے: فحاشی، بڑھاپے کی بدکاری اور سوشل میڈیا سے تحفّظ
تحقیق و تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
انسان کے لیے دنیاوی زندگی ایک آزمائش گاہ ہے جہاں کامرانی کا معیار اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی حدود کی پاسداری میں مضمر ہے۔ دینِ اسلام نے نہ صرف ان امور کی وضاحت کی ہے جو بارگاہِ الٰہی میں محبوب ہیں، بلکہ ان تمام باتوں اور افعال سے بھی کھل کر منع کیا ہے جو اللہ کی ناراضی اور انسان کی دنیا و آخرت کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔
زیرِ نظر تحریر کا مقصد ان تمام بنیادی ناپسندیدہ افعال کا احاطہ کرنا ہے جو انسان کی اخلاقی و روحانی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں—بالخصوص عمر کے آخری حصے (بڑھاپے) میں گناہوں کی سنگینی اور موجودہ دور کے جدید میڈیا و سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی بے حیائی، جھوٹ اور اخلاقی بگاڑ کی حقیقت کو سمجھنا اور ان کے خلاف انفرادی و اجتماعی تدابیر اختیار کرنا ہے۔
اسلام میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان تمام باتوں اور کاموں سے بچنا ضروری ہے جن سے اس نے منع فرمایا ہے۔ دینِ اسلام نے بندوں کی رہنمائی کے لیے جائز و ناجائز، اور محبوب و ناپسندیدہ اعمال کی واضح حدود مقرر کی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کو ناپسندیدہ باتیں اور کام
اسلامی تعلیمات، قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ اعمال کو چند بنیادی شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
عقیدے اور عبادات سے متعلق ناپسندیدہ کام
شرک: اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات یا عبادات میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔ یہ سب سے بڑا گناہ (گناہِ عظیم) ہے۔
ریاکاری (دکھاوا): کوئی بھی نیک عمل یا عبادت محض لوگوں کی واہ واہ یا شہرت کے لیے کرنا۔
عبادات میں سستی اور ترکِ فرض: بغیر کسی شرعی عذر کے نماز، روزہ، زکوٰۃ یا دیگر فرائض کو چھوڑنا یا ان میں لاپرواہی برتنا۔
بدعت: دین میں اپنی طرف سے ایسی نئی چیزیں گھڑنا جن کی بنیاد شریعت میں نہ ہو۔
اخلاق اور کردار سے متعلق ناپسندیدہ باتیں
جھوٹ اور جھوٹی گواہی: گفتگو میں جھوٹ بولنا، مذاق میں بھی جھوٹ کا سہارا لینا یا عدالت و عام زندگی میں جھوٹی گواہی دینا۔
تکبر اور غرور: اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنا، دوسروں کو حقیر جاننا اور اترانا۔
غیبت اور چغلی: کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا (غیبت) اور لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے کے لیے باتیں ادھر سے ادھر کرنا (چغلی)۔
حسد اور کینہ: کسی کی نعمت پر جلنا اور اس کے زوال کی تمنا کرنا، نیز دل میں نفرت و بغض رکھنا۔
بدگمانی اور تجسس: دوسروں کے بارے میں بلا ثبوت برے خیالات رکھنا اور لوگوں کے عیوب یا روزمرہ زندگی کی ٹٹول میں رہنا۔
فحش گوئی اور گالی گلوچ: زبان سے گندے، ناپاک اور جلی کٹی باتیں نکالنا۔
معاملات اور مال سے متعلق ناپسندیدہ کام
حرام روزی: سود، رشوت، چوری، ڈاکے، دھوکہ دہی، ناپ تول میں کمی، اور جُوا کے ذریعے مال کمانا۔
ظلم اور تجاوز: کسی کا حق مارنا، کمزوروں، یتیموں، زبردستوں يا خادموں پر ظلم کرنا۔
امانت میں خیانت اور وعدہ خلافی: کسی کے اعتماد کو توڑنا یا جو قول و قرار کیا ہو اس کو پورا نہ کرنا۔
اسراف (فضول خرچی) اور بخل (کنجوسی): مال کو بے جا اور نا جائز کاموں میں اڑانا یا جہاں خرچ کرنا واجب ہو وہاں سے ہاتھ روک لینا۔
حقوق العباد میں کوتاہی
والدین کی نافرمانی: والدین کے ساتھ بدسلوکی، ان کا دل دکھانا یا ان کے حقوق میں لاپرواہی۔
قطع رحمی (رشتے ناطے توڑنا): رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات ختم کرنا یا ان سے ناانصافی کرنا۔
ہمسایوں اور عام انسانوں کو تکلیف دینا: اپنے قول یا فعل سے کسی دوسرے انسان (خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم) کو ایذا پہنچانا۔
بڑھاپے میں بدکاری (زنا) کی حقیقت اور اس کی سنگینی
اسلام میں بدکاری (زنا) ہر عمر اور ہر حال میں حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ تاہم، بڑھاپے کی عمر میں بدکاری کی شناعت اور اس کا گناہ اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔
بڑھاپے میں بدکاری کیا ہے؟
بڑھاپے میں بدکاری سے مراد وہ تمام افعال اور رویے ہیں جو انسان کی عمر رسیدہ حالت میں عفت و پاکدامنی کے خلاف انجام دیے جائیں، مثلاً:
عملی بدکاری (زنائے حقیقی): عمر کے اس حصے میں جب انسان کی جسمانی اور شہوانی قوتیں قدرتی طور پر ڈھل چکی ہوں، پھر بھی غیر محرم کے ساتھ بدکاری کا مرتکب ہونا۔
اعضاء کا زنا: ایک اسلامی اصطلاح اور تصور ہے، جس کا ذکر احادیث مبارکہ میں ملتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسانی جسم کے مختلف اعضاء (آنکھ، کان، ہاتھ، پاؤں، زبان وغیرہ) بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں گناہ یا شہوانی بدکاری کا ارتکاب کر سکتے ہیں، جو اصل زنا کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔اس حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر زنا کا جو حصہ مقدر کیا ہے، وہ اس سے ضرور پائے گا۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، کان کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا بات کرنا ہے، ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، اور دل خواہش کرتا ہے اور تمنا کرتا ہے، اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا جھوٹا بناتی ہے۔” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
آنکھ کا زنا (دیکھنا): کسی غیر محرم کو شہوت کی نظر سے دیکھنا، یا فحش تصاویر اور مناظر دیکھنا۔
کان کا زنا (سننا): جان بوجھ کر فحش باتیں، گانے یا ایسی لغو و فحش گفتگو سننا جو شہوت کو ابھارے۔
زبان کا زنا (بات کرنا): شہوت انگیز گفتگو کرنا، کسی غیر محرم کے ساتھ فحش یا بے تکلف گفتگو کرنا۔
ہاتھ کا زنا (پکڑنا یا چھونا): کسی غیر محرم کو شہوت کی نیت سے چھونا یا ناپسندیدہ حرکات کرنا۔
پاؤں کا زنا (چلنا): گناہ یا فحاشی کے کسی اڈے یا مقام کی طرف چل کر جانا۔
دل کا زنا: دل میں مسلسل بدکاری کی تمنائیں اور خیالات پالنا۔
بڑھاپے کی بدکاری اتنی سخت ناپسندیدہ کیوں ہے؟
حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین لوگوں سے نہ بات فرمائے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور نہ ہی ان کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ ان میں سے ایک “شَیْخٌ زَانٍ” (یعنی بوڑھا زانی) ہے۔دوسرے دو جھوٹا بادشاہ (حکمران)،
اور متکبر فقیر (غریب ہو کر غرور کرنے والا)(صحیح مسلم)
علماء اور شارحینِ حدیث اس کی درج ذیل وجوہ بیان کرتے ہیں:
شہوت کا دباؤ کم ہونا: جوانی میں جذبات اور شہوت کا غلبہ شدید ہوتا ہے، لیکن بڑھاپے میں انسان کی جسمانی طاقتیں اور خواہشات قدرتی طور پر مدہم پڑ جاتی ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص بدکاری کرتا ہے، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا نفس انتہائی سرکش ہو چکا ہے اور اس میں گناہ کی رغبت محض خباثتِ طبع کی وجہ سے ہے۔
موت کی قربت: بڑھاپا موت کا انتظار گاہ ہے۔ اس عمر میں انسان کو اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے اور اللہ کے حضور توبہ و استغفار میں مشغول ہونا چاہیے، نہ کہ دنیاوی اور جنسی ہوس میں زندگی برباد کرنی چاہیے۔ بڑھاپا اس بات کا پیغام ہے کہ دنیا کا سفر اب اختتام کے قریب ہے اور انسان کی اللہ سے ملاقات کا وقت نزدیک ہے۔ اس عمر میں انسان سے توبہ، استغفار، خشیتِ الٰہی اور آخرت کی فکر کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں گناہ پر قائم رہنا اللہ کی بارگاہ میں سخت بے باکی شمار ہوتا ہے۔
عذر کا ختم ہو جانا: بڑھاپے میں انسان کے پاس گناہ کرنے کا کوئی معقول عذر یا بہانہ باقی نہیں رہتا۔ جوانی کی تند و تیز لہریں تھم چکی ہوتی ہیں، لہٰذا اس عمر میں گناہ انسان کی بدطینتی اور اخلاقی پستی کو ظاہر کرتا ہے۔
حیا کا تقاضا: بڑھاپے کو سفید بالوں اور سنجیدگی کی علامت کہا گیا ہے۔ اس عمر میں انسان کو معاشرے میں وقار اور بزرگانہ حیثیت حاصل ہوتی ہے، ایسے میں یہ فعل نہ صرف دینی بلکہ اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے بھی انتہائی شرمناک ہے۔
وقار اور اسوہ کی پامالی: بڑی عمر کے انسان کو معاشرے میں سلیقہ، نصائح اور پرہیزگاری کا نمونہ ہونا چاہیے۔ جب وہ اس عمر میں گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ نہ صرف اپنا وقار کھو دیتا ہے بلکہ نسلِ نو کے لیے بھی ایک انتہائی برا اسوہ بنتا ہے۔
خلاصہ و تلافی کا راستہ
اسلام میں مایوسی کا کوئی تصور نہیں۔ اگر کسی سے زندگی کے کسی بھی حصے میں (خواہ جوانی ہو یا بڑھاپا) کوئی گناہ سرزد ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ سچی توبہ کرنے والے کو معاف فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات انتہائی رحیم اور بخشنے والی ہے۔ انسان سے زندگی کے کسی بھی موڑ پر، چاہے جوانی ہو یا بڑھاپا، اگر کوئی غلطی یا گناہ سرزد ہو جائے تو اسلام کا دربارِ رحمت کبھی بند نہیں ہوتا۔
اسلامی شریعت میں توبہ گناہوں سے پاک ہونے، اللہ کی طرف لوٹنے اور اپنی زندگی کو درست کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمزوری کو مدنظر رکھتے ہوئے توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا ہے اور اس کی رحمت ہر گناہ سے وسعت رکھتی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو, یقیناً اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، بیشک وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔” (سورۃ الزمر: 53)
قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالی ہے:”اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین ہے، جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جو لوگ خوشی اور تنگی میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اور وہ لوگ کہ جب کوئی فحش کام کر بیٹھیں یا اپنے اوپر ظلم کر لیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہ کون معاف کر سکتا ہے؟ اور وہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے اور knowingly (جان بوجھ کر) اس پر اڑے نہیں رہتے۔” (سورۃ آل عمران: 133-135)
بڑھاپے کا یہ دور انسان کے پاس آخری موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے نامہ اعمال کو سنوار لے، پچھلے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائے، اور باقی ماندہ زندگی عبادت، توبہ اور اچھے اعمال میں گزارے۔
سچی توبہ (توبہ نصوح): گناہ پر دل سے شرمندہ ہونا، فوراً اس سے رک جانا، اللہ سے معافی مانگنا، اور آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کرنا۔
گناہ کو فوری طور پر چھوڑ دینا: جیسے ہی احساس ہو کہ یہ فعل گناہ ہے، فوراً اس سے رک جانا اور اس عمل کو ترک کر دینا۔
پچھلے گناہ پر ندامت اور شرمندگی: دل میں اس بات کا شدید احساس اور افسوس ہونا کہ مجھ سے یہ گناہ کیوں سرزد ہوا۔ پشیمانی ہی اصل توبہ کی روح ہے۔
آئندہ اس گناہ کو کبھی نہ کرنے کا پکا ارادہ: یہ عزم کرنا کہ اب میں زندگی میں دوبارہ اس گناہ کی طرف نہیں لوٹوں گا۔
حقوق العباد کی تلافی: اگر گناہ کا تعلق کسی انسان کا حق مارنے یا تکلیف دینے سے ہو، تو اس انسان سے معافی مانگنا یا اس کا حق لوٹانا لازمی ہے۔اگر کسی کا مالی حق مارا ہو یا چوری کی ہو، تو اس کا مال واپس لوٹایا جائے۔ اگر کسی پر بہتتان لگایا ہو یا غیبت کی ہو، تو اس سے معافی مانگی جائے۔ (گناہ اگر صرف اللہ کے حقوق کے متعلق ہوں، جیسے نماز نہ پڑھنا تو توبہ کے ساتھ قضا کرنا اور استغفار کافی ہے)۔
نیک اعمال کی کثرت: کثرت سے استغفار، استقامت اور نیکیوں میں مشغول رہنا کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بدکاری (زنا) کا آغاز صرف شرمگاہ کے فعل سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد انسان کے یہ چھوٹے چھوٹے اعحنائی اور قلبی گناہ بنتے ہیں۔ انھی اعضاء کی حفاظت (جیسے نگاہیں جھکانا اور کانوں کی حفاظت کرنا) کو “غضِ بصیرت” اور طہارت کا بنیادی زینہ قرار دیا گیا ہے تاکہ انسان اصل اور بڑے گناہ (زنا) سے محفوظ رہ سکے۔
جدید میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا ایپس، نیوز چینلز اور انٹرٹینمنٹ پلیٹ فارمز نے آج کی دنیا میں انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ موجودہ دور کا تجزیہ کریں تو یہ بالکل درست لگتا ہے کہ آج کل تفریح اور خبروں کی آڑ میں ایک ایسا مواد دھڑلے سے پروڈیوس اور پروپیگیٹ کیا جا رہا ہے جو دینی و اخلاقی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی ناپسندیدہ اور تباہ کن ہے۔
اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ میڈیا کس طرح ناپسندیدہ کاموں میں ملوث ہے، اس کا انسان پر کیا اثر پڑتا ہے، اور اس سے بچنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی تدابیر کیا ہو سکتی ہیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا ایپس اللہ کی ناپسندیدہ باتوں اور کاموں کا ذریعہ کیسے بنے؟
آج کا میڈیا چند مخصوص طریقوں سے معاشرے کو بگاڑنے اور شیطانی مقاصد کی ترویج میں لگا ہوا ہے:
فحاشی، عریانی اور بے حیائی کی ترویج: سوشل میڈیا ایپس (جیسے ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک شارٹس وغیرہ) اور فلمیں و ڈرامے اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہاں حیا اور پردے کے تصورات کو پامال کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
غیبت، چغلی اور بہتان تراشی کا بازار (سوشل میڈیا افواہیں): نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈز، سنسنی خیز خبریں، اور “بریکنگ نیوز” دراصل زیادہ تر غیبت، تجسس، الزام تراشی اور لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں بلاوجہ تاک جھانک (تجسس جو کہ قرآن میں منع ہے) پر مبنی ہوتی ہیں۔
جھوٹ اور فیک نیوز: ریٹنگ (TRP) اور ویوز (Views) کی ہوس میں جھوٹی خبریں، غلط اعداد و شمار اور افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، حالانکہ جھوٹ بولنا اور اس کی ترویج کرنا بڑا گناہ ہے۔
وقت کا ضیاع اور عبادات سے غفلت: یہ ایپس اور سکرینز انسان کو اس طرح اپنے حصار میں لیتی ہیں کہ اللہ کی یاد، ذکر، نماز اور فرض منصبی سے غافل کر دیتی ہیں۔ اسراف میں صرف مال ہی نہیں بلکہ وقت کا ضیاع بھی شامل ہے، جو کہ ایک بہت بڑی ناشکری ہے۔
تکبر، ریاکاری اور دکھاوے کی ثقافت: سوشل میڈیا نے “لائکس” اور “ویئوز” کی ہوس پیدا کر کے لوگوں کو ریاکاری، دکھاوے، جھوٹی شان و شوکت اور فخر میں مبتلا کر دیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کی حقیقت چھپا کر جھوٹی نمائش کرتے ہیں۔
معاشرتی بگاڑ اور خلیج: فیک پروپیگنڈا اور متنازع مواد کے ذریعے معاشرے میں بغض، نفرت، نسل پرستی، فرقہ واریت اور عدم برداشت کو ہوا دی جاتی ہے۔
خود کو کیسے بچائیں؟ (انفرادی تدابیر)
انسان اگر خود کو اور اپنے ایمان کو اس طوفانِ بدتمیزی سے بچانا چاہے، تو اسے سخت اور متوازن انفرادی اقدامات کرنا ہوں گے:
ڈیجیٹل ڈیٹاکس اور اسکرین ٹائم پر کنٹرول:
اپنے موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے سخت اوقات مقرر کریں۔ ہر وقت آن لائن رہنے کی عادت کو ختم کریں۔
غیر ضروری اور اخلاق سوز ایپس (جن پر فحاشی یا بے ہودہ مواد آتا ہے) کو اپنے فون سے فوری طور پر ان انسٹال یا بلاک کر دیں۔
الگورتھم (Algorithm) کی صفائی:
سوشل میڈیا پر وہی چیزیں آپ کے سامنے آتی ہیں جنہیں آپ دیکھتے ہیں۔ اپنے اکائوزٹس پر گندے یا فضول پیجز کو “ان فالو” یا “بلاک” کریں اور صرف معلوماتی، تعلیمی، اور دینی چینلز کو سبسکرائب کریں۔
خبروں اور مواد کا فلٹر شدہ استعمال:
سنسنی خیز نیوز چینلز اور مارننگ شوز سے مکمل اجتناب کریں۔ خبریں لینے کے لیے روایتی اور مستند ذرائع استعمال کریں جہاں غیر ضروری مغلظات یا ڈرامے بازی نہ ہو۔
تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی سے تعلق:
جب بھی فارغ وقت ملے، فضول سکرین سکرولنگ کی بجائے قرآن مجید کی تلاوت، ترجمے کا مطالعہ، یا درود شریف اور استغفار کو اپنا معمول بنائیں۔ دل کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
موت اور آخرت کی یاد:
یہ سوچنا کہ ہر لمحے کا حساب دینا ہے، انسان کو فضویات اور گناہوں سے بچانے کے لیے سب سے بڑا ڈھال ہے۔
معاشرے کی اصلاح کی تدابیر (اجتماعی تدابیر)
چونکہ یہ ایک اجتماعی فتنہ ہے، اس لیے اس کے سدباب کے لیے اجتماعی سطح پر بھی کام کرنا ضروری ہے:
خاندانی سطح پر ڈیجیٹل تربیت (Parental Guidance):
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ہاتھ میں بغیر نگرانی کے سمارٹ فونز نہ دیں۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر مثبت سرگرمیوں، کتاب خوانی، اور کھیلوں کو فروغ دیں۔ گھروں میں بیٹھ کر فحش یا بے ہودہ ڈرامے/موویز دیکھنے کے کلچر کو ختم کریں۔
اخلاقی و متبادل میڈیا کا فروغ:
معاشرے میں ایسے متبادل پلیٹ فارمز، چینلز اور مواد کی ترویج کی جائے جو اخلاقیات، اسلامی اقدار، سچی معلومات اور مثبت تفریح پر مبنی ہوں۔
معاشرتی بیداری اور بائیکاٹ (Boycott Culture):
جو چینلز، برانڈز یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس فحاشی، بے حیائی، اور جھوٹ کو فروغ دیتے ہیں، ان کا اجتماعی طور پر بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے اشتہارات یا مواد کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
علماء اور دانشوروں کا کردار:
مساجد کے خطباء، اساتذہ اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کو ڈیجیٹل میڈیا کے اس فتنہِ عظیم سے آگاہ کریں اور انہیں جدید دور کے فکری حملوں سے بچانے کے لیے تربیت دیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ میڈیا آج کے دور کا سب سے بڑا آزمائشی میدان ہے۔ اگر انسان عقل، شعور اور دینی حصار (تقویٰ) کا مظاہرہ کرے، تو وہ اس کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔میڈیا کے اس دورِ فتن میں اپنے ایمان، حیا اور اخلاقی اقدار کا تحفظ تبھی ممکن ہے جب انسان تقویٰ، خود احتسابی، اور اسکرین ٹائم کے مثبت و فلٹر شدہ استعمال کو اپنا شعار بنائے۔ اللہ تعالیٰ کا درِ توبہ ہر لمحہ کھلا ہے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان سچی توبہ اور نیک اعمال کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع کرے اور خود کو نیز اپنے اہل و عیال کو اس بگاڑ سے محفوظ رکھے۔
گناہ اور اخلاقی بگاڑ خواہ انفرادی سطح پر نفس کی سرکشی سے جنم لیں یا جدید ڈیجیٹل میڈیا اور تفریح کی آڑ میں معاشرے پر مسلط کیے جائیں، ان کا حتمی نتیجہ انسان کی روحانی موت اور اللہ کی ناراضی کی صورت میں نکلتا ہے۔ بالخصوص عمر کے اس حصے میں جب انسان کا سفرِ آخرت قریب ہوتا ہے، گناہوں سے دوری اور توبہ کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔اگر زندگی کی آخری ہچکی (غرغرہ) شروع نہ ہو جائے اور سورج مغرب کی بجائے مشرق سے طلوع نہ ہو جائے، اس وقت تک توبہ کا دروازہ ہر انسان کے لیے کھلا رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مقام:
اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع اور لامحدود ہے کہ انسانی عقل اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ قرآن مجید اور احادیث میں اس کا بارہا ذکر آیا ہے:
رحمت کا غضب پر سبقت لے جانا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے پاس عرش پر ایک بات لکھی جو اس کے پاس موجود ہے: بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی ہے۔” (صحیح بخاری و مسلم)
گناہوں کے باوجود مایوس نہ ہونے کی تلقین: سورۃ الزمر (آیت 53) میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
“اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، یقیناً اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، بیشک وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔”
توبہ کرنے والے پر اللہ کی خوشی: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی ویران خطرناک جنگل میں اپنی اونٹنی پر سوار ہو، جس پر اس کا کھانا پانی بھی ہو، اور وہ سو جائے، پھر جب وہ بیدار ہو تو اس کی اونٹنی کہیں چلی جائے، وہ اس کی تلاش میں پریشان پھرے یہاں تک کہ وہ شدید پیاس اور تھکن کی وجہ سے ہار مان کر ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے کہ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی وہی اونٹنی اس کے پاس کھڑی ہے، وہ اس کی مہام مہار پکڑ کر خوشی کے مارے کہہ اٹھے: ‘اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں’ (خوشی میں الفاظ کی الٹ پھیر کر دے)۔ اللہ تعالیٰ اس مسافر سے بھی زیادہ اپنے بندے کی توبہ پر خوش ہوتا ہے۔” (صحیح مسلم)
یہ حدیث اس بات کی روشن دليل ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہگار بندے کو سزا دینے کے بجائے اس کے توبہ کر کے پلٹنے پر کس قدر خوش ہوتا ہے، خواہ انسان کی عمر کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو چکی ہو یا اس نے کتنے ہی بڑے گناہ کیوں نہ کیے ہوں۔
