سیاسی مذاکرات ہی مسائل کا حل

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا کہ وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ نے خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو عارضی بنیادوں پر ہٹاکر آئین، سیاست، جمہوریت کےلئے خطرناک اور غلط اقدام کیا ہے۔ حکمران جب بھی غیرجمہوری اقدام کا فیصلہ کرتے ہیں تو بدنیتی سے آئین کی دفعات کا سہارا لیتے ہیں، جس سے ملک میں بےیقینی، بےاعتمادی بڑھتی ہے اور جمہوری سفر واپس زیرو پوائنٹ پر چلا جاتا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی سیاسی المیہ ہے، حکومت اور اپوزیشن کا آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کرنے سے مثبت علامت اُبھری اور سیاسی بحران کے خاتمہ کےلئے پیش رفت کا امکان پیدا ہوا لیکن حکومت اور اپوزیشن دونوں ٹریپ ہوگئے، جس کا خمیازہ پوری قوم بُھگتے گی۔ مسلسل سیاسی کشیدگی قومی معیشت کےلئے عذاب بن گئی ہے۔ سیاسی استحکام کےلئے کئی محاذوں پر بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔ آئین، غیرجانبدارانہ انتخابات، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا، عدلیہ کی آزادی، عوام کے بنیادی شہری حقوق کی حفاظت اور روزمرہ عوامی مسائل کے حل کےلئے بااختیار مقامی حکومتوں کے نظام پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اچھی طرزِ حکمرانی ہی عوامی اطمینان کو بحال کرسکتی ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کو آئین کی بالادستی، جمہوری نظام کے تحفظ، صوبائی خودمختاری اور خیبرپختونخوا میں بدنیتی پر مبنی غیرجمہوری اقدام کے خاتمہ کےلئے جدوجہد کرنا ہوگی۔ دہشت گردی کا خاتمہ، امن و امان کی بحالی کا پائیدار علاج سیاسی، معاشی استحکام ہے۔
لیاقت بلوچ نے چیئرمین سینیٹ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے فون پر رابطہ کیا اور حالات پر تبادلہ خیال ہوا، لیاقت بلوچ نے ملتان میں مِلی یکجہتی کونسل جنوبی کے زیراہتمام قومی کانفرنس اور مظفر گڑھ علی پور شمالی میں سالانہ کرکٹ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔
لیاقت بلوچ نے پشاور میں سکول منہدم ہونے سے رونما ہونے والے المناک سانحہ پر دُکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کی نظامِ تعلیم پر بےحِسّی اور غیرذمہ داری تو عیاں ہے لیکن پرائیویٹ سیکٹر میں سکولوں کی عمارتوں کے حوالے سے تمام ضابطے توڑدیئے جاتے ہیں، یہ سب سرکاری محکموں کی مِلی بھگت سے ہوتا ہے۔ لاہور کاہنہ واقعہ کے بعد پشاور دیر کالونی کے سانحہ میں ٹیچرز اور سٹوڈنٹس بچوں کی شہادت پر پوری قوم غمزدہ ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے آگاہ کیا کہ پی پی پی نے بہت کوششیں کیں کہ گورنر راج، ایمرجنسی کے اقدام سے بچاجائے لیکن مذاکرات کامیاب نہ ہوئے، ابھی بھی سیاسی مذاکرات ہی مسائل کا حل ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ رانا ثناء اللہ خان نے جو طے کیا تھا وہ اسلام آباد پارلیمنٹ (قومی اسمبلی، سینیٹ) کی مصروفیات کی وجہ سے عمل نہ ہوسکا، آئندہ ہفتہ وزیراعظم اور امیر جماعتِ اسلامی کی ملاقات سے پہلے مذاکراتی کمیٹیوں کا نمائندہ اجلاس ہوگا تاکہ قائدین کی ملاقات اچھے نتائج لائے۔#