پاکستان کا لاوارث مزدور: عیاش اشرافیہ، بے بس قانون اور سسکتا ہوا عدل

تحقیق و جائزہ: محمد اجمل خان سینیئر جرنلسٹ

پاکستان کا معاشی اور سماجی ڈھانچہ اجاگر کرتا ہے کہ ملک کی بنیادوں کو اپنے خون پسینے سے سینچنے والا مزدور آج اپنے ہی وطن میں مکمل طور پر لاوارث ہو چکا ہے۔ ایک طرف وہ مراعات یافتہ اشرافیہ، حکمران اور بااثر طبقہ ہے جو غریب عوام کا خون نچوڑ کر اربوں روپے کی شاہانہ سہولیات، مفت پٹرول، اور کار مونیٹائزیشن جیسے دہرے فائدے جیب میں ڈال لیتا ہے، جبکہ دوسری طرف سسکتے ہوئے وہ بزرگ پنشنرز ہیں جنہیں مہنگائی کے اس بدترین دور میں محض چند ہزار روپے کی بھیک نما پنشن پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔

بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ کارخانوں کے بااثر مالکان غریب مزدور کا ایک ہزار روپیہ معاف نہیں کرتے، اس کی رجسٹریشن چھپاتے ہیں اور اس کا حق مارتے ہیں، لیکن یہی سرمایہ دار اور حکمران طبقہ بینکوں سے اپنے کھربوں روپے کے قرضے معاف کروا کر ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیتا ہے اور مزید قرضوں کا بوجھ بھی اسی غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ملک میں جاری ان معاشی اور سماجی ناانصافیوں پر اگر کتابیں لکھی جائیں تو دیوان کے دیوان چھپ جائیں، لیکن عام آدمی کو عدل نصیب نہ ہو۔

مزدوروں کے حقوق کے محافظ بنے سرکاری ادارے، لیبر انسپکٹرز اور ضلعی انتظامیہ مقتدر حلقوں اور مالکان کی کٹھ پتلی بن کر فسطائیت، ظلم اور جبر کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ عدالتوں کا روایتی نظام اور طویل قانونی چارہ جوئی بھی سرمایہ دار کی لونڈی معلوم ہوتی ہے، جہاں غریب شکایت کنندہ انصاف کی آس میں زندگی ہار جاتا ہے لیکن طاقتور کو قانون کا کوئی شکنجہ چھو تک نہیں پاتا۔ اس گھٹن زدہ ماحول میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نظام کے اس کینسر اور طاقتور کی اس فسطائیت کے خلاف پاکستان کے ان کروڑوں بے زبان اور لاوارث مزدوروں کو آخر انصاف کون دلوائے گا؟

نظام کی فسطائیت اور معاشی غنڈہ گردی کا شکار مزدور: ایک دستاویزی ثبوت

پاکستان کا غریب مزدور پیشہ انسان کسی بیرونی دشمن کا نہیں، بلکہ اپنے ہی ملک کے ریاستی و بیوروکریٹک نظام کی منظم معاشی غنڈہ گردی اور ملی بھگت کا شکار ہے۔ اعداد و شمار اس ہولناک ظلم کی گواہی دیتے ہیں: پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی معاشی مردم شماری کے مطابق ملک میں 71 لاکھ 40 ہزار سے زائد کاروباری اور صنعتی ادارے موجود ہیں، اور ملک کی کل فعال افرادی قوت 8 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔ قانون کے مطابق ہر وہ ادارہ جہاں 5 یا اس سے زائد ملازمین ہوں، وہ ای او بی آئی (EOBI) میں رجسٹرڈ ہونے کا پابند ہے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس خطیر افرادی قوت میں سے صرف 30 لاکھ کے قریب مزدور رجسٹرڈ ہو پائے ہیں۔ باقی 80 فیصد سے زائد (تقریباً 6 کروڑ سے زائد مزدور) غیر رسمی شعبے میں سسک رہے ہیں، جنہیں نہ تو حکومت کی مقرر کردہ قانونی کم از کم اجرت 37,000 روپے ملتی ہے اور نہ ہی بڑھاپے میں پنشن کا تحفظ حاصل ہے۔

یہ مزدور محکمے کے فیلڈ انسپکٹرز، بااثر کارخانے داروں اور لوکل بیوروکریسی کے اس گٹھ جوڑ (کارٹیل) میں پھنس چکا ہے جہاں قانون صرف غریب کو دبانے کے لیے حرکت میں آتا ہے۔ ای او بی آئی کے فیلڈ انسپکٹرز نئی فیکٹریاں تلاش کرنے اور ان پر بھاری جرمانے یا 6 ماہ قید کی سزائیں لاگو کرنے کے بجائے، مالکان سے مبینہ “مک مکا” کر کے کرپشن کی فائلیں داخلِ دفتر کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف، ایف بی آر اور نادرا کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس (جس میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لنکڈ ہیں) رئیل ٹائم میں موجود ہونے کے باوجود، ای او بی آئی کو اس نیٹ ورک سے جان بوجھ کر دور رکھا گیا ہے تاکہ بااثر اشرافیہ کے ٹیکس اور مزدور چوری کے خفیہ راستے کھلے رہیں۔ جب یہ معمر مزدور اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، تو ڈپٹی کمشنر (DC) سے لے کر لوکل پولیس تک، پورا سرکاری عملہ سرمایہ داروں کی کٹھ پتلی بن کر مزدور کو ہی دھونس اور جبر کا نشانہ بناتا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) یا وفاق کی جانب سے جہاں گریڈ 20 سے 22 کے بیوروکریٹس کو 65,000 سے 95,000 روپے ماہانہ صرف گاڑیوں کی مونیٹائزیشن کی مد میں نقد دیے جاتے ہیں، وہاں عمر بھر خون پسینہ بہانے والے بزرگ مزدور کو صرف 11,500 روپے ماہانہ کی توہین آمیز پنشن پر زندہ درگور کر دیا جاتا ہے۔ یہ ناانصافی ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کا مزدور اس وقت تک اس فسطائی نظام کے چنگل سے آزاد نہیں ہو سکتا، جب تک وہ انفرادی سستی کو چھوڑ کر یونینز کی شکل میں عدالتِ عالیہ کے دروازے پر ایک منظم آئینی جنگ کا آغاز نہیں کرتا۔