ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے — انجینئر چودھری افتخار گجر

قوموں کی زندگی میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب شور بہت بلند ہوتا ہے، مگر حقیقت سمجھنے کے لیے تحمل اور شواہد ضروری ہوتے ہیں۔ مختلف دعووں اور الزامات کی آزادانہ تصدیق کے بغیر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔ اس لیے کسی بھی فریق کے بارے میں قطعی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے دستیاب شواہد، متعلقہ مؤقف اور قانونی ریکارڈ کو سامنے رکھنا چاہیے۔

آج پاکستان کی سیاسی فضا بھی اہم سوالات سے دوچار ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف کے کارکنوں کی مشکلات اور قربانیوں کے بیانات ہیں، دوسری طرف سوشل میڈیا پر امید، تبدیلی اور سیاسی کشمکش کے خاتمے کے نعرے سنائی دیتے ہیں۔ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے جس نے بڑے جلسے کیے، احتجاج کیا اور بہت سے لوگوں کو منظم کیا۔ ہماری سیاسی تربیت کا بنیادی سبق یہی ہونا چاہیے کہ اختلاف ضرور کریں، مگر وطن، عوام اور اداروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔

عمران خان نے اپنے کارکنوں کو سیاسی شعور دیا، انہیں سوال کرنا اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا سکھایا—یہ حامیوں کا سیاسی تاثر ہے، جسے مختلف لوگ اپنے تجربے کی بنیاد پر بیان کرتے ہیں۔ مگر سیاسی شعور کا مطلب نفرت، حقوق کا مطالبہ قومی اداروں سے تصادم، یا آئین کی بالادستی ریاست سے دشمنی نہیں۔ باشعور قوم اپنے اداروں کی قدر بھی کرتی ہے اور ان سے آئینی حدود کی پابندی کا مطالبہ بھی۔

سیاسی مباحث میں بعض افراد کے ماضی، وسائل اور آمدنی کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں، مگر آزادانہ تصدیق کے بغیر حتمی رائے مناسب نہیں۔ بیرون ملک بیٹھ کر یوٹیوب یا دیگر ذرائع سے آمدنی حاصل کرنے والے بعض افراد تحریک انصاف کے نام سے مواد پیش کرتے ہیں۔ جائز کمائی ہر شخص کا حق ہے، تاہم سیاسی پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھانے والوں سے یہ سوال ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وہ مشکلات کا شکار کارکنوں کی فلاح کے لیے کیا عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دعووں کے بجائے قابلِ تصدیق معلومات اور شفاف حسابات سامنے آنے چاہییں۔

کیا کسی نے اپنی آمدنی کا حصہ ان کارکنوں کے لیے وقف کیا جو مقدمات، قید یا بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں؟ کیا ان خاندانوں اور بچوں کے لیے کوئی قدم اٹھایا گیا جن کے گھروں کا چولہا متاثر ہوا؟ اگر ایسے اقدامات محدود رہے ہیں تو سیاسی گفتگو کے ساتھ عملی امداد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم کسی فرد یا گروہ کے بارے میں شواہد کے بغیر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے کوئی مدد نہیں کی۔

محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، صنم جاوید اور عالیہ حمزہ جیسے ناموں کو یاد کرتا ہوں تو ان کی جدوجہد اور مشکلات اہم محسوس ہوتی ہیں۔ یہ تاثر ذاتی مشاہدے اور سیاسی گفتگو سے تشکیل پاتا ہے، مگر ہر واقعے کی مکمل تفصیل اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ ریکارڈ اور قانونی عمل ہی سے ہو سکتا ہے۔ تحریکوں کی اصل طاقت صرف نمایاں رہنما نہیں، بلکہ وہ عام کارکن ہے جس کا نام اسٹیج سے نہیں پکارا جاتا، مگر جس کی محنت سے سیاسی قافلے رواں رہتے ہیں۔

گوجرانوالہ، سیالکوٹ، وزیرآباد یا گجرات کا کارکن اپنے گھر پر جھنڈا لگاتا، پوسٹر لگاتا، جلسوں میں شریک ہوتا اور مشکلات برداشت کرتا ہے۔ حالات بدلیں تو اکثر اسی کے گھر کا چولہا، کاروبار اور بچوں کی تعلیم متاثر ہوتے ہیں۔ سیاسی قیادت اور رائے سازوں کو اس طبقے کے مسائل سنجیدگی سے سمجھنے چاہییں۔ قربانی دینے والے کارکن مشکلات میں رہیں اور ان کے نام پر فائدہ اٹھانے والے آسودہ زندگی گزاریں، ایسا تاثر پیدا نہیں ہونا چاہیے؛ تاہم کسی مخصوص فرد یا گروہ پر الزام کے لیے قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔

میں اپنی ذاتی گواہی بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔ میری عمران خان سے ملاقات ہوئی تو میری یادداشت کے مطابق ان کا مؤقف تھا کہ فوج ہماری ہے اور ہم فوج کے ہیں۔ یہ بیان ذاتی یادداشت اور رائے پر مبنی ہے، حتمی یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ریکارڈ نہیں۔ میرا مؤقف آج بھی یہی ہے کہ فوج کسی جماعت، خاندان یا طبقے کی نہیں، پاکستان کی قومی فوج ہے۔

مدینہ منورہ میں میاں نواز شریف صاحب سے ملاقات کے دوران بھی، میری یادداشت کے مطابق، میں نے کہا تھا کہ پوری فوج کو یکساں طور پر تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ کسی پالیسی یا عہدے دار کے طرزِ عمل پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے، مگر پورے قومی ادارے کو دشمن قرار دینا قومی مفاد میں نہیں۔ اس گفتگو کی تفصیلات بھی ذاتی یادداشت ہیں، حتمی دستاویزی دعویٰ نہیں۔

جب ہماری حکومت ختم ہوئی تو میں راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، یعنی آر آئی سی، میں داخل تھا۔ دل کے عارضے کے باعث تکلیف میں تھا۔ میری یادداشت کے مطابق عمران خان نے میری خیریت دریافت کی؛ اس واقعے کی مکمل آزادانہ تصدیق میرے پاس موجود نہیں۔ بعد ازاں ایئرپورٹ سوسائٹی میں قاسم سوری سے ملاقات کے دوران بھی، میری یادداشت کے مطابق، میں نے کہا کہ تحریک انصاف اور فوج کے درمیان لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ سیاسی اختلافات آئینی دائرے میں حل ہونے چاہییں، نہ کہ قومی اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کریں۔ یہ تفصیلات بھی ذاتی یادداشت اور رائے کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں۔

’’یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے‘‘ جیسے نعرے مختلف ادوار میں سنائی دیتے رہے ہیں۔ ان کی تاریخ اور نسبت پر مختلف آرا ہیں، اس لیے کسی ایک جماعت یا فریق کو قطعی ذمہ دار قرار دینا محتاط طرزِ عمل نہیں۔ تحریک انصاف کو بھی ایسی زبان اور راستوں سے اجتناب کرنا چاہیے جو قومی تقسیم گہری کریں۔

بیرون ملک بیٹھ کر سخت یا اشتعال انگیز گفتگو کرنے والوں سے سوال ہے کہ کیا ان کے بیانات عوام کی بہتری، آئین کی بالادستی اور انصاف کے لیے معاون ہیں، یا مزید تقسیم پیدا کرتے ہیں؟ ارادوں کا فیصلہ بغیر شواہد کے مناسب نہیں، مگر الفاظ کی طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ زبان کو تصادم کے بجائے تعمیر اور مکالمے کا راستہ دکھانا چاہیے۔

فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا مطلب ہر سرکاری فیصلے کی غیر مشروط حمایت نہیں، جیسے آئین کے حق میں آواز اٹھانا فوج سے دشمنی نہیں۔ ہم آئین، قانون، جمہوری حقوق اور شفاف انتخابات کی بات کریں گے، غیر آئینی یا غیر قانونی سمجھے جانے والے اقدامات پر قانونی و جمہوری راستے سے سوال اٹھائیں گے۔ کسی اقدام کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالتوں اور آئینی اداروں کا اختیار ہے۔

چھبیسویں آئینی ترمیم کے طریقۂ کار، اثرات اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق سوالات پر کھلی بحث ہونی چاہیے۔ آئینی تبدیلیاں وسیع قومی مشاورت، جمہوری اصولوں اور اداروں کی آزادی کو سامنے رکھ کر ہونی چاہییں۔ اس کی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ فورمز کریں گے، مگر شہریوں کو تحفظات بیان کرنے کا حق حاصل ہے۔

ہماری فوج نے مختلف محاذوں پر قربانیاں دی ہیں، خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ میں۔ قومی سلامتی کے لیے خدمات انجام دینے والوں کا احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے قومی ادارے سے لڑائی کو مقصد نہیں بنایا جا سکتا، تاہم ان کے بعض اقدامات پر آئینی اور قانونی سوال اٹھانے کا حق برقرار رہتا ہے۔

ہم فوج یا پاکستان کے خلاف نہیں ہوں گے، نہ وطن کو کمزور کرنے والی کسی کوشش کا حصہ بنیں گے۔ ساتھ ہی آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، شفاف انتخابات، شہری آزادیوں اور انصاف کے مطالبے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہی وہ توازن ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا کا بالائی حصہ اور اس کی ہر وادی، بستی اور زمین اسی عوام کی امانت ہے۔ وہاں رہنے والے لوگ ہمارے اپنے ہیں؛ ان کی جان، عزت، روزگار اور مستقبل کی حفاظت ریاست، اداروں اور سیاسی قیادت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کوئی پالیسی عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین، کے لیے خوف یا تباہی کا سبب نہیں بننی چاہیے۔ انہیں امن، صحت، تعلیم اور عزت کے ساتھ زندگی کا آغاز ملنا چاہیے۔ یہ بات الزام نہیں، محبت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کہی جانی چاہیے۔

آج ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کے شور سے باہر نکل کر عام کارکن کی حالت دیکھی جائے۔ اس کے گھر کا چولہا جلانے، بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے اور قانونی مسائل میں مدد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ محض نعرے بھوک ختم نہیں کرتے، مقدمات حل نہیں کرتے اور قومیں تعمیر نہیں کرتے۔ کارکنوں کی مشکلات اور امداد سے متعلق دعوے بھی ممکن ہو تو قابلِ تصدیق معلومات کے ساتھ سامنے آنے چاہییں۔

تاریخ کا فیصلہ نعروں کی بلندی سے نہیں، کردار، شواہد اور وقت کے ساتھ سامنے آنے والی حقیقتوں سے ہوتا ہے۔ اس کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے کسی ایک فریق کے بارے میں قطعی فیصلہ سنانے سے گریز ضروری ہے۔

میرا پیغام اپنے سیاسی ساتھیوں، کارکنوں اور تمام اہل وطن کے نام ہے: متحد، محتاط اور محفوظ رہیں۔ اختلافات کو دشمنی نہ بننے دیں، آئین کے لیے آواز اٹھائیں، قانون کا راستہ اختیار کریں اور عام کارکن کو تنہا نہ چھوڑیں، کیونکہ تحریکوں کا اصل سرمایہ یہی گمنام لوگ ہیں۔

ہم فوج کے خلاف نہیں ہوں گے، ہم پاکستان کے خلاف نہیں ہوں گے، اور ہم آئین و قانون کی بالادستی کے حق میں آواز اٹھانے سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ پاکستان ہم سب کا ہے، اور اس کی سلامتی، وحدت اور جمہوری مستقبل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اور کیا یہ سب کچھ کرنے کے باوجود ہم وفا کرنے کے بعد بھی تنہا کیوں رہ گئے ہیں؟