دو دریا، دو سمتیں، ایک زمین اور انسانیت کا ادھورا رشتہ
تحقیق و تجزیہ : محمد اجمل خان سینئر جرنلسٹ
گنگا اور سندھو بہتے رہیں گے۔ موسم بدلیں گے، سلطنتیں اٹھیں گی اور مٹ جائیں گی، شہروں کے نام بدل جائیں گے، سرحدوں پر نئی لکیریں کھنچیں گی، مگر ان دریاؤں کا سفر اپنے فطری اصولوں کے مطابق جاری رہے گا۔ ان کے کناروں پر بسنے والے انسان شاید ایک دوسرے کو بھول جائیں، ایک دوسرے سے اختلاف کریں، نفرت کے حصار تعمیر کریں، لیکن دریا اپنے اندر صدیوں کی داستانیں سمیٹے خاموشی سے بہتے رہیں گے۔
یہ دونوں دریا محض پانی کی روانی نہیں، برصغیر کی تہذیبی یادداشت ہیں۔ ان کے پانی میں انسان کی محنت، اس کے خواب، اس کی خوشیاں، اس کے دکھ، اس کی آبادیاں اور اس کی اجڑی ہوئی بستیاں کسی نہ کسی صورت اپنی نشانیاں چھوڑ گئی ہیں۔ ان کے کناروں پر زندگی نے آنکھ کھولی، کھیتوں نے ہریالی اوڑھی، مویشیوں نے پیاس بجھائی، مسافروں نے سستانے کے لیے جگہ پائی اور نسل در نسل انسانوں نے پانی کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھا۔
ذرا سوچیے، کتنی صدیاں گزر گئیں۔ کتنے بادشاہ آئے اور چلے گئے۔ کتنے فاتحین نے اپنی فتح کے جھنڈے گاڑے، کتنے حکمرانوں نے اپنی سلطنتوں کو ہمیشہ قائم رہنے والا سمجھا، کتنے لشکر ان زمینوں سے گزرے اور کتنے انسانی خواب وقت کی گرد میں دفن ہوگئے۔ مگر گنگا اور سندھو نے کسی بادشاہ کے حکم سے بہنا شروع نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی سلطنت کے زوال پر ان کا بہاؤ ختم ہوا۔ وہ انسانی اقتدار سے پہلے بھی قدرت کے نظام کا حصہ تھے اور انسانی اقتدار کے بعد بھی اسی نظام کا حصہ رہیں گے۔
ان دریاؤں کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین پر انسان کا قیام عارضی ہے، لیکن اس کے اعمال کے اثرات نسلوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔
قدرت کا ایک نظام، پانی کے دو سفر
قدرت نے زمین کو پانی، مٹی، ہوا، روشنی اور زندگی کے ایک باہم مربوط نظام میں پرویا ہے۔ بارش کے قطرے کسی قوم کی شناخت لے کر نہیں اترتے۔ سورج کی روشنی کسی مذہب یا زبان کے لیے مخصوص نہیں۔ مٹی یہ نہیں پوچھتی کہ اس میں بیج بونے والا کس نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ پانی بھی اپنی فطرت میں انسانوں کے بنائے ہوئے امتیازات سے بے نیاز ہے۔
گنگا اور سندھو کا سرچشمہ ایک نہیں، ان کے جغرافیائی راستے بھی الگ ہیں، لیکن دونوں ایک ہی کرۂ ارض کے آبی نظام کا حصہ ہیں۔ دونوں کو برف، بارش، چشموں اور اپنے اپنے طاس کے پانی سے زندگی ملتی ہے۔ پھر قدرت انہیں مختلف سمتوں میں روانہ کرتی ہے۔ ایک کا سفر شمالی ہندوستان کے میدانوں اور گنگا کے وسیع طاس سے وابستہ ہے، جبکہ دوسرا ہمالیہ، قراقرم اور تبت کے بلند علاقوں سے سفر کرتا ہوا پاکستان کے وسیع میدانوں اور بالآخر بحیرۂ عرب تک پہنچتا ہے۔
ان کے راستے مختلف ہیں، مگر ان کی بنیادی خدمت ایک ہے: زندگی کو سہارا دینا۔
یہی قدرت کا ایک خاموش سبق ہے۔ ہر شے کا ایک ہی راستہ ہونا ضروری نہیں کہ اس کی منزلِ خدمت بھی الگ ہوجائے۔ دو راستے جدا ہوسکتے ہیں، مگر دونوں زندگی کی بقا میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اختلافِ سمت لازماً اختلافِ مقصد نہیں ہوتا۔
پھر انسان نے اپنے لیے یہ اصول کیوں مشکل بنا لیا کہ اگر دوسرا شخص اس سے مختلف زبان بولتا ہے، مختلف عقیدہ رکھتا ہے یا کسی دوسری سرزمین پر رہتا ہے تو اس کے ساتھ محبت، احترام اور انصاف کا رشتہ قائم نہیں رہ سکتا؟
دریاؤں کی تہذیب اور انسان کی شناخت
سندھو کی تہذیب دنیا کی قدیم شہری تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔ موہنجو دڑو اور ہڑپہ جیسے آثار ہمیں بتاتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے انسان نے ان علاقوں میں منظم بستیاں، شہری منصوبہ بندی، نکاسیٔ آب کے انتظامات اور تجارت کے روابط قائم کیے تھے۔ یہ آثار صرف اینٹوں، گلیوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں؛ یہ اس بات کے گواہ ہیں کہ انسان نے پانی اور زمین کے ساتھ اپنے تعلق کو منظم کرکے اجتماعی زندگی کی بنیادیں استوار کیں۔
گنگا کے میدانوں نے بھی مختلف ادوار میں زراعت، شہروں، فکری روایتوں، مذہبی تحریکوں، علم و ادب اور سیاسی نظاموں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان میدانوں میں مختلف زبانیں، عقائد، سلطنتیں اور معاشرتی روایتیں پروان چڑھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان تہذیبوں نے ایک دوسرے سے اثرات قبول کیے، تجارت کے ذریعے روابط قائم کیے اور انسانی تجربات کے نئے رنگ پیدا کیے۔
تہذیبیں دریاؤں کے کنارے پیدا ہوئیں، لیکن ان کی اصل قوت صرف پانی کی فراوانی نہیں تھی۔ ان کی قوت انسانی تعاون، محنت، علم، تنظیم اور اجتماعی زندگی میں تھی۔ پانی نے امکانات فراہم کیے؛ انسان نے ان امکانات کو تمدن میں تبدیل کیا۔
یہاں ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے: دریا کسی ایک نسل کی میراث نہیں ہوتے۔ ان کے کناروں پر آباد ہونے والے لوگ بدلتے رہتے ہیں، مگر زمین، پانی اور ماحول کا رشتہ نسلوں سے آگے بڑھتا ہے۔ جو لوگ آج کسی دریا سے زندگی حاصل کررہے ہیں، ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے اس کے پانی اور اس کے قدرتی نظام کو محفوظ رکھیں۔
انسان مٹی سے پیدا ہوا، پھر مٹی سے اتنا دور کیوں ہوگیا؟
انسان کی زندگی کا آغاز مٹی سے جڑے ہوئے ایک فطری نظام میں ہوتا ہے۔ اس کی خوراک زمین سے پیدا ہوتی ہے، اس کا جسم پانی اور غذا سے توانائی حاصل کرتا ہے، اس کی بستیاں زمین پر تعمیر ہوتی ہیں اور اس کی معیشت کا بڑا حصہ قدرتی وسائل سے وابستہ رہتا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں جتنی بھی ترقی کرلے، اس کی بنیادی ضروریات اسے فطرت کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔
موت کے بعد بھی انسان کا رشتہ زمین سے ختم نہیں ہوتا۔ کوئی مٹی میں دفن کیا جاتا ہے، کوئی اپنی مذہبی اور ثقافتی روایت کے مطابق آخری رسومات کے بعد راکھ کو پانی میں بہا دیتا ہے، اور مختلف معاشروں میں رخصتی کے دوسرے طریقے بھی رائج ہیں۔ ان تمام روایتوں کے پیچھے انسانی زندگی کی ناپائیداری، یاد، احترام اور انجام کے بارے میں مختلف تصورات موجود ہیں۔
انسان اپنی زندگی میں مکان بناتا ہے، زمین خریدتا ہے، حدود مقرر کرتا ہے، ملکیت کے کاغذات تیار کرتا ہے اور کبھی کبھی اپنی شناخت کے دفاع میں دوسرے انسان کو اپنا مخالف سمجھنے لگتا ہے۔ مگر زندگی کے اختتام پر نہ اس کی دولت اس کے ساتھ جاتی ہے، نہ اقتدار ہمیشہ اس کا ساتھی رہتا ہے اور نہ ہی اس کی بنائی ہوئی سرحدیں موت کو روک سکتی ہیں۔
اس کے باوجود انسان اپنی عارضی حیثیت کو بھول کر ایسے فیصلے کرتا ہے جن کے اثرات اس کی اپنی زندگی سے کہیں آگے تک پھیل جاتے ہیں۔ وہ پانی کو ضائع کرتا ہے، زمین کو آلودہ کرتا ہے، جنگلات کو ختم کرتا ہے اور قدرتی وسائل کو اس طرح استعمال کرتا ہے جیسے آنے والی نسلوں کا ان پر کوئی حق ہی نہ ہو۔
اصل سوال یہی ہے کہ جو انسان جانتا ہے کہ اسے ایک دن اس دنیا سے رخصت ہوجانا ہے، وہ اپنے پیچھے ایسی دنیا چھوڑنے کی کوشش کیوں نہیں کرتا جس میں دوسروں کے لیے زندگی آسان ہو؟
دریا کسی سے مذہب نہیں پوچھتے
گنگا کے ساتھ بہت سے لوگوں کی مذہبی وابستگیاں اور ثقافتی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے لیے یہ دریا عقیدت، پاکیزگی اور روحانی روایت کی علامت بھی ہے۔ دوسری طرف سندھو کا نام برصغیر کی تاریخی، لسانی اور تہذیبی شناخت میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ اس سے مختلف قوموں، زبانوں اور علاقوں کے لوگوں کی تاریخ وابستہ ہے۔
کسی دریا سے عقیدت رکھنا انسانی تہذیب کا ایک فطری اظہار ہوسکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اپنی عقیدت کو دوسرے کی تحقیر کا ذریعہ بنا لیا جائے، اپنی شناخت کو دوسرے کی شناخت مٹانے کی دلیل سمجھا جائے یا اپنے حصے کی حفاظت کے نام پر دوسروں کی بنیادی ضرورتوں کو نظرانداز کردیا جائے۔
دریا کے کنارے پیاسا انسان پانی پیتا ہے تو اس کی پیاس کسی فلسفیانہ بحث کی محتاج نہیں رہتی۔ کھیت کو پانی ملتا ہے تو اس کی ہریالی کسی قوم کی نفرت سے پیدا نہیں ہوتی۔ ایک مویشی پانی پیتا ہے تو وہ کسی سرحدی تنازعے کا فریق نہیں ہوتا۔ زندگی اپنی ضرورتوں میں بہت سادہ ہے، لیکن انسان نے اپنی اجتماعی زندگی کو اکثر پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں کہ دریاؤں کے کنارے تمام انسان ہمیشہ امن سے رہتے تھے یا پانی کی فراوانی نے ہر اختلاف ختم کردیا تھا۔ تاریخ میں وسائل پر جھگڑے، سیاسی کشمکش، طبقاتی فرق اور طاقت کے تنازعات بھی موجود رہے ہیں۔ دریا خود نفرت نہیں کرتے، لیکن ان کے پانی پر انسانی فیصلے انصاف یا ناانصافی دونوں پیدا کرسکتے ہیں۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ دریا کیوں نہیں لڑتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انسان اپنی عقل، اپنے تجربے اور اپنی تہذیبی میراث سے یہ سبق کیوں نہیں سیکھتا کہ اختلاف کے باوجود بقائے باہمی ممکن ہے؟
محبت، وفاداری اور انسان کا امتحان
اس خیال کا سب سے دردناک سوال یہ ہے کہ ایک ہی زمین پر پیدا ہونے والے انسان محبت اور وفاداری کے رشتے قائم رکھنے میں ناکام کیوں ہوجاتے ہیں۔
اس کا جواب شاید انسان کی فطرت کے کسی ایک پہلو میں نہیں، بلکہ اس کے خوف، مفادات، تربیت، تاریخ اور اجتماعی نظاموں میں پوشیدہ ہے۔ انسان میں محبت کی صلاحیت بھی ہے اور دشمنی کی بھی؛ تعاون کی قوت بھی ہے اور غلبے کی خواہش بھی۔ وہ کسی اجنبی کی جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے، اور کبھی محض تعصب کی وجہ سے اپنے پڑوسی کو دشمن سمجھنے لگتا ہے۔
جب معاشرے میں خوف کو مسلسل بڑھایا جائے، تاریخ کو صرف نفرت کی عینک سے پڑھایا جائے، وسائل کی تقسیم میں ناانصافی ہو اور سیاست میں دوسرے فریق کو انسان کے بجائے خطرہ سمجھا جائے تو فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس تعلیم، انصاف، مشترکہ مفاد، آزاد مکالمہ اور انسانی وقار کا احترام اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔
محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اختلاف ختم کردیا جائے۔ وفاداری کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان اپنے اصولوں سے دست بردار ہوجائے۔ حقیقی وفاداری میں انصاف، سچائی اور دوسرے کے حق کو تسلیم کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
گنگا اور سندھو ہمیں یہ نہیں سکھاتے کہ سب انسان ایک جیسے ہیں؛ وہ ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتے ہیں کہ مختلف ہونے کے باوجود زندگی کے بنیادی تقاضے ایک دوسرے سے کتنے قریب ہیں۔
ہر انسان کو پانی چاہیے، خوراک چاہیے، امن چاہیے، اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہیے اور ایسی زندگی چاہیے جس میں اسے محض اس کی شناخت کی وجہ سے حقیر نہ سمجھا جائے۔
یہی مشترک ضرورتیں انسانیت کے رشتے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
آج کا منظرنامہ: جب پانی بھی سیاست کا موضوع بن جائے
گنگا اور سندھو کی تہذیبی داستان آج کے دور میں ایک نئے اور زیادہ سنگین سوال سے جڑتی ہے۔ جدید دنیا میں پانی صرف قدرتی نعمت یا زرعی ضرورت نہیں رہا؛ یہ معیشت، خوراک، توانائی، ماحولیات، بین الاقوامی تعلقات اور قومی سلامتی کا اہم معاملہ بھی بن چکا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1960ء میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا، جس نے چھ دریاؤں کے پانی کے استعمال کے لیے ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کیا۔ کئی جنگوں اور شدید سیاسی اختلافات کے باوجود یہ معاہدہ دہائیوں تک آبی تعلقات کی بنیاد بنا رہا۔
اپریل 2025ء میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے معاہدے کو معطل حالت میں رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ پاکستان نے اس اقدام کی مخالفت کی۔ 31 اگست 2026ء کو ہیگ میں قائم ثالثی عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدام سے معاہدے کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں؛ بھارت نے اس فیصلے اور عدالت کے اختیار کو مسترد کیا۔ یوں قانونی مؤقف اور عملی سفارتی صورت حال کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔ ثالثی عدالت کا سرکاری مقدمہ ریکارڈ اور رائٹرز کی رپورٹ اس تنازعے کے اہم پہلو بیان کرتی ہیں۔
اس صورت حال میں جذباتی نعروں سے زیادہ ضروری ہے کہ پانی کے مسئلے کو قانون، شواہد، قابلِ اعتماد آبی اعداد و شمار، سفارت کاری اور خطے کے طویل مدتی مفاد کی روشنی میں دیکھا جائے۔ کسی ملک کے عوام کی پیاس دوسرے ملک کے عام شہریوں کے لیے نفرت کا جواز نہیں بننی چاہیے۔ اسی طرح امن کی خواہش کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پانی کی منصفانہ تقسیم، معاہداتی حقوق یا قانونی اختلافات کو نظرانداز کردیا جائے۔
پانی کی قلت کے پیچھے صرف سرحد پار تنازعات نہیں ہوتے۔ آبادی میں اضافہ، آب و ہوا کی تبدیلی، برف پگھلنے کے انداز میں تبدیلی، زیرِ زمین پانی کا بے تحاشا استعمال، آلودگی، آب پاشی کی کم کارکردگی اور پانی کے انتظام میں کمزوریاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لیے پائیدار حل کے لیے سرحدی تعاون کے ساتھ ساتھ ہر ملک کے اندر بہتر انتظام اور ذمہ دارانہ استعمال بھی ضروری ہے۔ آبی حکمرانی پر 2026ء کی تحقیقی جائزہ رپورٹ بھی اس مسئلے کی متعدد باہم مربوط وجوہ کی نشان دہی کرتی ہے۔
یہاں گنگا اور سندھو کی داستان ہمیں ایک عملی سبق دیتی ہے: پانی کو تنازعے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے انسانی بقا کے مشترکہ مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ معاہدے، شفاف معلومات، سیلاب کی پیش گوئی، ماحولیات کا تحفظ اور پانی کے مؤثر استعمال کے اقدامات دونوں طرف کے لوگوں کے مفاد میں ہوسکتے ہیں۔
دریا کی حفاظت کسی ایک حکومت یا نسل کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ان تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے جن کی زندگی اس کے پانی سے وابستہ ہے۔
دریا وفادار ہیں یا انسان بے وفا؟
اگر وفاداری سے مراد یہ ہو کہ دریا اپنے فطری راستوں کے مطابق بہتے رہتے ہیں اور نسل در نسل زندگی کو سہارا دیتے ہیں، تو ان کا تسلسل انسان کے لیے ایک معنی خیز استعارہ ضرور ہے۔ لیکن دریا بھی خشک سالی، سیلاب، آلودگی اور قدرتی تبدیلیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ وہ ہر حال میں یکساں پانی فراہم کرنے کا وعدہ نہیں کرتے۔ ان کا بہاؤ قدرتی نظام اور انسانی مداخلت، دونوں سے متاثر ہوسکتا ہے۔
لہٰذا ان کی مثال سے یہ نتیجہ نکالنا زیادہ مناسب ہے کہ قدرت ہمیں زندگی کے باہمی انحصار کا احساس دلاتی ہے، نہ کہ یہ کہ فطرت کے تمام مظاہر ہمیشہ بے عیب رہتے ہیں۔
انسان کے لیے اصل وفاداری یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت پوری کرتے ہوئے دوسرے کی ضرورت کو تسلیم کرے۔ اپنی زمین سے محبت کرے مگر دوسری زمین کی تحقیر نہ کرے۔ اپنے عقیدے سے وابستہ رہے مگر دوسرے کے عقیدے کی توہین نہ کرے۔ اپنے ملک کے حقوق کا تحفظ کرے مگر عام انسانوں کی زندگی اور وقار کو دشمنی کی آگ میں جھونکنے سے گریز کرے۔
یہ کام آسان نہیں۔ اس کے لیے صرف شاعری یا جذبات کافی نہیں؛ منصفانہ ادارے، ذمہ دار قیادت، علم، مکالمہ اور اجتماعی عمل بھی درکار ہیں۔
مگر شاعری اور تہذیبی فکر کا اپنا مقام ہے۔ وہ انسان کو آئینہ دکھاتی ہیں۔ وہ ایسے سوال اٹھاتی ہیں جنہیں روزمرہ سیاست اور مفاد کی بحثیں اکثر دبا دیتی ہیں۔
گنگا اور سندھو بھی ہمارے سامنے ایسا ہی ایک آئینہ رکھتے ہیں۔
آنے والی نسلوں کے نام
ذرا تصور کیجیے کہ آج سے سو سال بعد کوئی بچہ دریائے سندھ یا گنگا کے کنارے کھڑا ہوگا۔ وہ اپنے زمانے کی زبان میں سوال کرے گا کہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں کیسی دنیا دی تھی؟ کیا انہیں پانی کی قدر تھی؟ کیا انہوں نے دریاؤں کو صاف رکھا؟ کیا انہوں نے اپنے اختلافات کے باوجود زندگی کو محفوظ بنانے کی کوشش کی؟ کیا انہوں نے زمین کو صرف اپنی ملکیت سمجھا یا آنے والی نسلوں کی امانت بھی جانا؟
اس بچے کو شاید آج کے بہت سے حکمرانوں کے نام یاد نہ ہوں۔ اسے ہماری سیاسی بحثوں کی تمام تفصیلات بھی معلوم نہ ہوں۔ لیکن اگر اس کے شہر میں پانی ہوگا، اس کے کھیتوں میں زندگی ہوگی اور اس کے ماحول میں سانس لینے کی گنجائش ہوگی تو وہ ہمارے کسی اچھے فیصلے کا فائدہ ضرور اٹھا رہا ہوگا۔ اور اگر اسے خشک دریا، آلودہ پانی اور وسائل کی جنگ ورثے میں ملی تو ہماری غلطیوں کا بوجھ بھی اسی کے حصے میں آئے گا۔
زمین ہم سے پہلے بھی کروڑوں انسانوں کی گزرگاہ رہی ہے اور ہمارے بعد بھی زندگی کا گھر رہے گی۔ ہم اس کے مالک ہونے کا دعویٰ کریں یا اس کے محافظ بننے کی کوشش کریں، حقیقت یہ ہے کہ ہمارا قیام محدود ہے۔ آنے والی نسلوں کے لیے پانی، مٹی، جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور امن محفوظ رکھنا ہماری اخلاقی اور عملی ذمہ داری ہے۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں گنگا اور سندھو کی داستان محض ماضی کی کہانی نہیں رہتی بلکہ مستقبل کے لیے ایک عہد بن جاتی ہے۔
پانی بہتا رہے، انسانیت جڑی رہے
گنگا اور سندھو کی کہانی الگ الگ جغرافیوں سے شروع ہوتی ہے، مختلف تہذیبوں سے گزرتی ہے اور اپنے اپنے راستوں پر آگے بڑھتی ہے۔ ان کے نام، ان کے کنارے اور ان سے وابستہ انسانی روایتیں مختلف ہیں۔ لیکن دونوں ہمیں زندگی کی ایک بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں: انسان قدرت سے الگ ہوکر زندہ نہیں رہ سکتا۔
مٹی انسان کو سہارا دیتی ہے۔ پانی اس کی پیاس بجھاتا ہے۔ زمین اسے خوراک دیتی ہے۔ ہوا اسے سانس فراہم کرتی ہے۔ ان نعمتوں کے بغیر نہ اس کی تہذیب قائم رہ سکتی ہے، نہ اس کی معیشت، نہ اس کی سیاست اور نہ ہی اس کے خواب۔
پھر انسان اپنی بقا کے ان مشترک سہاروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کے لیے مل کر کام کیوں نہیں کرسکتا؟
یہ سوال گنگا سے بھی ہے، سندھو سے بھی، ان کے کناروں پر آباد معاشروں سے بھی اور ہر اس انسان سے بھی جو اپنی زمین کو اپنا گھر سمجھتا ہے۔
دریا ہمیں یہ ضمانت نہیں دیتے کہ دنیا میں ہمیشہ امن رہے گا۔ مگر ان کا وجود ہمیں یہ یاد ضرور دلاتا ہے کہ زندگی رشتوں، وسائل اور باہمی انحصار سے قائم رہتی ہے۔ نفرت ان رشتوں کو کمزور کرسکتی ہے؛ انصاف، علم اور تعاون انہیں مضبوط بنا سکتے ہیں۔
انسان مٹی سے اٹھتا ہے، اسی زمین پر اپنے خواب تعمیر کرتا ہے اور ایک دن رخصت ہوجاتا ہے۔ اس کے پاس وقت محدود ہے، مگر اس کے فیصلوں کے اثرات طویل ہوسکتے ہیں۔ وہ اپنے پیچھے نفرت کی دیواریں بھی چھوڑ سکتا ہے اور محبت کے راستے بھی؛ آلودہ دریا بھی اور محفوظ آبی ذخائر بھی؛ تقسیم کی یادیں بھی اور تعاون کی مثالیں بھی۔
گنگا اور سندھو سے محبت کرنے کا اصل مطلب صرف ان کے ناموں پر فخر کرنا نہیں، بلکہ ان کے پانی، ان کے ماحول، ان کے کناروں پر آباد انسانوں اور ان سے زندگی پانے والی تمام مخلوقات کی حفاظت کرنا بھی ہے۔
دریا بہتے رہیں، مگر ان کا پانی کسی کی محرومی کا سبب نہ بنے۔ تہذیبیں مختلف رہیں، مگر اختلاف انسانیت کی نفی نہ کرے۔ سرحدیں اپنی جگہ قائم رہیں، مگر انصاف، مکالمے اور باہمی احترام کے راستے بند نہ ہوں۔
کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں کہ گنگا کس کی ہے اور سندھو کس کا؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان سے زندگی حاصل کرنے والے انسان اپنی زمین، اپنے پانی اور ایک دوسرے کے ساتھ کس قدر وفادار ہیں۔
پانی بہتا رہے گا۔ وقت گزرتا رہے گا۔ نسلیں آتی اور جاتی رہیں گی۔
اب فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ان دریاؤں کے کنارے صرف اپنی تاریخ لکھے گا، یا آنے والی نسلوں کے لیے انسانیت کا کوئی روشن باب بھی چھوڑ جائے گا۔
