آزاد فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے- سعودی عرب

ریاض میں آج “دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد” کے اعلیٰ سطحی رابطہ اجلاس کا انعقاد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت یورپی یونین کے مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل کے لیے خصوصی نمائندے کرسٹوف بیجو نے کی۔

اجلاس میں متعدد نکات پر غور کیا گیا، جن میں “اعلانِ نیویارک” پر عمل درآمد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ سے متعلق منصوبہ بندی، انسانی امداد کی ترسیل میں بہتری اور فلسطینی اتھارٹی کی معاونت شامل تھے ہیں۔ یہ بات سعودی عرب اور خلیج میں یورپی یونین کے مشن نے بتائی۔اسی تناظر میں سعودی عرب نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اور مسلسل جاری تشدد کے دائرے کو روکنے کے اپنے عزم کی تجدید کی۔ ساتھ واضھ کیا کہ فلسطین کا مسئلہ مملکت کی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ہر بین الاقوامی فورم پر اس کا دفاع کیا جاتا ہے۔

گزشتہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79 ویں اجلاس کے موقع پر، ریاض نے عرب و اسلامی ممالک اور متعدد بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے “دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی اتحاد” کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ سعودی عرب نے زور دیا تھا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے اور عالمی امن کے حصول کی بنیاد بھی یہی ہے، لہٰذا تمام ممالک سے فلسطین کو تسلیم کرنے کی اپیل کی گئی۔

اس اتحاد کے اجلاس کے نتیجے میں “اعلانِ نیویارک” کی دستاویز سامنے آئی، جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 142 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ اس دستاویز نے دو ریاستی حل کے لیے عالمی عزم کی تجدید کی اور فلسطینیوں، اسرائیلیوں اور پورے خطے کے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کی ناقابلِ واپسی راہ متعین کی۔