اجتماعِ عام قومی وحدت، یکجہتی کا مظہر ہوگا-لیاقت بلوچ

نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے منصورہ میں انتظامی اجلاس، مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین/لاہور میں مقیم وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کو غاصب بھارت نے سازش کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوج اُتارکر غیرقانونی قبضہ کیا۔ اِس غیرقانونی اور ناجائز قبضے کو کشمیری عوام نے آج تک قبول نہیں کیا اور آج بھی مقبوضہ وادی میں اِس ناجائز بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت جاری ہے اور کشمیری و پاکستانی عوام 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا، اپنی شہہ رگ کو دشمن بھارت کے چنگل سے آزاد کرانا پوری پاکستانی قوم کی ذمہ داری ہے۔ کشمیری اور پاکستانی عوام تاریخی جغرافیائی، دینی، ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں، کشمیری اور پاکستانی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ غاصب بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر پر گزشتہ 78 سال سے ناجائز قبضے اور ظلم و ستم کے باوجود آج بھی کشمیری عوام شہیدِ حریت سید علی گیلانی کے اِس قول کو دل پر سجائے ہوئے ہیں کہ “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”۔ تنازعہ فلسطین کی طرح کشمیر کا تنازعہ بھی گزشتہ 78 سال سے اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر دیرینہ حل طلب مسئلہ اور اقوامِ عالم کی بےحسی و بےبسی کا مظہر ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کا حق دیا جائے۔ پاکستانی عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی سیاسی، سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ استنبول میں پاک-افغان مذاکرات کا تعطل باعثِ تشویش ہے۔ افغان طالبان حکومت کسی استعماری خواہشات کی تکمیل کی بجائے افغان عوام کی ترجمان بنے۔ طالبان حکومت کا غیرواضح اُسلوب پاکستان میں افغان مہاجرین کے لیے بڑی آزمائش بن گیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، لیکن اِس مرحلہ پر یہ امر بالکل واضح ہے کہ طالبان حکومت کو مکمل طور پر دہشت گرد گروہوں اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ٹی ٹی پی داعش، القاعدہ یا کسی اور دہشت گرد گروہ کا حصہ بھی بنے تو پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ بنیاد پر پاک-افغان عوام کے جان مال عزت کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ چمن، طورخم اور دیگر انٹری پوائنٹس پر دونوں ملکوں کے شہری اور تجارتی قافلے طالبان حکومت کی ضِد کی وجہ سے بڑی مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان، افغانستان اور ایران کے تعلقات کی مضبوطی خطہ کی بڑی طاقت بنے گی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ 78 سال سے ذہنی غلام اور استعماری اداروں کے ایجنٹ معاشی ماہرین نے ملک کی معیشت کو ترقی اور استحکام نہیں دیا۔ قرضوں، کرپشن، سُود کی لعنت اور حکمران طبقوں کی عیاشیوں نے پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور آزادانہ فیصلوں کے اختیار کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی دہلیز پر ڈھیر کردیا۔ عوام بےقصور ہیں، اقتدار کے پُجاری اور نااہل غلام ذہن ماہرین، ٹیکنوکریٹ قوم کے اصل مجرم ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام زرعی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ غلط زرعی پالیسی کی وجہ سے شہریوں کو مہنگا آٹا، مہنگی چینی اور کِسانوں/ہاریوں کو بربادی مِل رہی ہے۔ حکومت زراعت کو سبسڈی نہیں دے رہی لیکن زراعت کے لیے بجلی، تیل، کھاد، بیج، ادویات سستی کرے، عوام پر عائد بھاری بھرکم ٹیکسوں میں ریلیف دے اور عام شہریوں کے لیے روٹی سستی کرے۔ حکومت بیک وقت زراعت اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ جماعتِ اسلامی کِسانوں/ہاریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ زراعت کے تحفظ کی جدوجہد تیز ہوگی۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا 21، 22، 23 نومبر اجتماعِ عام گلے سڑے، عوام دشمن، فرسودہ نظام کو بدلنے کے لیے “بدل دو نظام” کے زبردست عوامی جذبوں کو پُرامن سیاسی جمہوری مزاحمت کے لیے متحرک کرنے کا عظیم اجتماع ہوگا۔ اجتماعِ عام کے انتظامات مکمل کئے جارہے ہیں۔ جماعتِ اسلامی ہمیشہ اپنے احتجاج، جلسوں، پروگراموں کو پُرامن بناتی ہے، ہم انتہاء پسندی، پُرتشدد سیاست کو ملک و مِلت، انسانیت اور جمہوریت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ پُرامن جمہوری مزاحمت عوام کی طاقت اور پُرتشدد طرزِ عمل سِول-ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طاقت بن جاتی ہے۔ اجتماعِ عام میں ملک بھر سے خواتین بڑی تعداد میں شریک ہونگی۔ 80 ممالک سے بیرونی مندوبین کی شرکت ہوگی۔ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا، ہزارہ، کشمیر، گلگت بلتستان سے شرکاء رنگ و نسل، تعصبات، فرقہ پرستی سے بالاتر ہوکر شریک ہونگے۔ اجتماعِ عام قومی وحدت، یکجہتی کا مظہر ہوگا