ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہو رہی ہے-مرزا عبدالرحمن

اسٹیٹ بینک نے شرح سود گیارہ فیصد برقرار رکھ کر ملکی معیشت کو درست سمت نہ جانے دیا ہے
مرزا عبدالرحمن سابق نائب صدر فیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری
تاجروں کے مفاد اور مطالبات کو نہ اہمیت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بزنس کمیونٹی کے اداروں اور ان میں بیٹھے ذمہ داروں کی حکومتی ایوانوں میں کوئی اہمیت نہیں ہے جبکہ شرح سود اور بجلی گیس کےنرخ 5سے9سینٹ ہمسایہ ممالک میں ہیں اور یہ وجہ ہے کہ ایکسپورٹ ہماری بری طرح متاثر ہو رہی ہے عالمی منڈی میں خام مال بھی امپورٹ مشکل ہے ادویات بھی ملک میں مریضوں کی پہنچ سے باہر ہیں ادویات کے نرخ بھی حکومتی پروپگنڈا الفاظ کا گورکھ دھندا ہے عام شہری کا معیار زندگی آدھی آبادی کا سطح غربت سے نیچے جا رہا ہے انڈسٹری اور کنسٹرکش رئیل اسٹیٹ جس سے ملک میں مزدور طبقہ اور عوام کی روزگار چلتا ہے وہ بند ہے تین کرڑوڑ تک گداگروں کی تعداد ہے جبکہ حکومت میڈیا کے ذریعے سب اچھا کا راگ الاپ رہی ہے آشرافیہ تو اپنا سردرد کا علاج بھی لندن امریکہ سے کرواتی ہے تاجروں کا کاروبار بھی ٹھپ ہو رہا ہے اشیاء ضروریات زندگی سبزیاں فورٹ ضروری اشیاء ضروریات بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں سرمایہ دار اور نوجوان پڑھا لکھا ملک چھوڑ رہا ہے ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو چاہئے کہ ماہرین معیشت اور بزنس کمیونٹی سے مشاورت کر کے معاشی نظام کو چلانے نہ اہل سیاست دانوں کے ذریعے میڈیا ٹاک شوز کی فلمیں چلانا بند کی جائیں