شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور قصور میں ائیر کوالٹی انڈیکس (AQI) 500 ریکارڈ کیا گیا جو “خطرناک ترین” سطح ہے، جبکہ لاہور میں AQI 385 تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق کم ہوا کی رفتار، درجہ حرارت میں کمی اور بارش نہ ہونے کے باعث آلودگی کے بکھراؤ میں کمی آرہی ہے۔
شہری نزلہ، بخار اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ حکومت پنجاب نے انسدادِ سموگ مہم تیز کر دی ہے، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، ماسک اور عینک کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نومبر کے آغاز پر موجودہ حالات شدید سموگ کے خطرے میں اضافے کا عندیہ دیتے ہیں۔
