✍️ ثناءاللہ مجیدی
امتِ مسلمہ کی موجودہ صورتِ حال کسی ایک حادثے یا وقتی بحران کا نتیجہ نہیں، بلکہ صدیوں پر پھیلے ہوئے اس فکری سفر کا بوجھ ہے جسے ہم نسل در نسل اٹھاتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ امت جو کبھی علم و حکمت کی روشن مشعل تھی، جس کے علماء اندھیروں میں چراغ جلاتے تھے جس کے رہنما ظلمتوں سے ٹکراتے ہوئے دلیل، اخلاق اور برداشت کے ساتھ لوگوں کے دل روشن کرتے تھے آج خود اپنے اندرونی تضادات، رنجشوں، بدگمانیوں اور فروعی اختلافات کے دلدل میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ جس فکری عظمت نے کبھی دنیا کو حیران کیا تھا آج وہ خود ہم سے سوال کرتی نظر آتی ہے کہ آخر ہم نے اپنی روحانی وراثت، اپنی علمی گہرائی اور اپنی اجتماعی قوت کو کیوں زوال کے حوالے کر دیا؟گزشتہ چند دہائیوں میں مذہبی طبقات ایک ایسے نہ ختم ہونے والے دائرے میں مقید دکھائی دیتے ہیں جس نے نہ صرف باہمی اعتماد کو کمزور کیا بلکہ پوری امت کی فکری بنیادیں ہلا دیں۔ اختلافِ رائے، جو ہمیشہ علمی زندگی کی علامت اور ذہنی پختگی کا معیار رہا، بدقسمتی سے ہمارے ہاں دشمنی، تحقیر اور سخت گیر تعصب کا روپ دھار گیا۔ معمولی فروعی مسائل کو اس شدّت سے اہمیت دی گئی کہ گویا دین کی بنیادیں انہی نکات پر قائم ہیں۔ اسی طرزِ فکر نے سنجیدہ مکالمے کو ختم کر دیا، بحث و تحقیق کے دروازے بند کر دیے، اور ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا جس میں ہر شخص اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھ کر دوسروں کو خاموش کرانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
علم کا اصل جوہر وسعتِ قلب اور وسعتِ نظر ہے، لیکن ہم نے اسے تعصب کے تنگ دائرے میں بند کر دیا۔ مکالمہ ختم ہو گیا، مقابلہ رہ گیا۔ دلیل کی جگہ شور نے لے لی، اور فہم و حکمت کی جگہ گروہی و جماعتی اور طبقاتی وابستگیوں نے بنالی ۔ اس صورتِ حال نے نئی نسل کے ذہنوں میں تشویش کی وہ کیفیت پیدا کر دی ہے جس کا ازالہ صرف کتابی تعلیم یا سخت لہجے سے نہیں ہو سکتا۔ جب نوجوان نسل اپنے ذہنی سوالات لے کر مدارس اور علماء اور مذہبی حلقوں کا رخ کرتی ہے تو اکثر اسے وہ سکون، وہ دلیل، وہ محبت نہیں ملتی جو اسے چاہیے۔ اسے یا تو اطاعت و فرمانبرداری کا کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے یا ایسے جملوں میں جواب جاتا ہے جو نہ عقل کو مطمئن کرتے ہیں نہ دل کو روشن۔ یہ رویّہ فکری دیواروں کو کمزور کرتا ہے اور نسلوں کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا کر دیتا ہے جسے ختم کرنا وقت کے ساتھ مشکل ہوتا جاتا ہے۔
آج دنیا میں علم اور سیکھنے کے راستے آسان اور ہموار ہیں ۔ نئی نسل کے پاس شعور کی بنا پر ہزاروں سوالات کی دنیا موجود ہے۔ ایسے ماحول میں جب شعور وسیع ہو رہا ہو، دنیا تیزی سے بدل رہی ہو، اور ذہنوں کی پرواز نئی منزلیں تلاش کر رہی ہو، وہاں فروعی مناظرے اور جزئی بحثیں پورے امت کے علمی بحران کا حل نہیں بن سکتیں۔ مگر افسوس کہ مذہبی طبقات کا ایک حصہ اب بھی اپنے مخصوص زاویۂ فکر کو آخری معیار سمجھ کر دوسروں کو کمتر گردانتا ہے۔ یہی سوچ دلوں کو توڑتی ہے، ذہنوں میں دیواریں کھڑی کرتی ہے، اور امت کی فکری وحدت کو مجروح کرتی ہے۔
اختلاف تو زندگی کی علامت ہے مسئلہ اختلاف کا ہونا نہیں، مسئلہ اسے دشمنی میں بدل دینے کا ہے۔ ہم نے کیوں یہ سوچ اپنائی کہ جو ہمارے دائرے سے باہر ہے وہ غلط ہے؟ کیوں ہم نے یہ تصور قبول کر لیا کہ اگر کوئی اپنی دلیل پر قائم ہے تو وہ ہماری مخالفت کر رہا ہے؟ اگر اختلاف احترام کے ساتھ ہو تو وہ ذہنوں کو مضبوط کرتا ہے، دلوں کو قریب لاتا ہے اور سوچ کو وسعت دیتا ہے۔ مگر ہمارے مزاج نے اس پُل کو ایک ایسی لکیر میں بدل دیا جو لوگوں کو الگ کرتی ہے، ان کے دلوں میں تلخی بھر دیتی ہے۔
دنیا بدل رہی ہے، نظریات بدل رہے ہیں، اور مغرب کے بڑے مفکرین بھی مادیت کی محدودیت کا اعتراف کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ ہم اب بھی پرانے مناظرانہ رویّوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہماری علمی دنیا میں وہ تازگی اور وہ وسعت نہیں رہی جو زمانے کے بدلتے تقاضوں کا ساتھ دے سکے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ علماء نئی نسل کی ذہنی کیفیت کو سمجھتے، سائنسی اور تہذیبی تبدیلیوں کا ادراک کرتے، معاشرتی سوالات کا تجزیہ کرتے اور حکمت و محبت کے ساتھ رہنمائی کا راستہ کھولتے۔ مگر ایک بڑی تعداد اب بھی پرانے نصابی ڈھانچوں اور سخت اسلوب کے سہارے کھڑی ہے، جبکہ جدید ذہن دلیل مانگتا ہے نرمی اور حکمت چاہتا ہے، اور زبردستی قبول نہیں کرتا۔
اس دوران وہ طبقات جن کا نظریہ اسلامی فکر سے مختلف تھا، باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے رہے۔ انہوں نے وقت کی نبض کو پہچانا، حکمتِ عملی بنائی، ایک دوسرے کو کمزور نہیں کیا بلکہ اختلافات کو ثانوی رکھتے ہوئے تعلیم، میڈیا، اداروں اور پالیسی سازی کے مراکز پر توجہ مرکوز رکھی۔ یوں آہستہ آہستہ فکری دھارے ان کے ہاتھوں میں منتقل ہوتے گئے، جبکہ مذہبی طبقات اپنی داخلی کشمکش میں کھوئے رہے اور اس تبدیلی کو روکنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی نہ کر سکے۔
ایک زمانہ تھا جب علماء اس ملک کی فکری سمت اور نظریاتی حفاظت کے امین تھے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر اس کے اخلاقی وجود تک انہوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ مگر آج وہ طبقہ جو کبھی وحدت کی علامت تھا، خود انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ شخصیت شکنی عام ہو گئی ہے۔ معمولی اختلاف پر نیت و تقویٰ پر حملے ہونے لگتے ہیں، اور چھوٹے مسائل ایسے پیش کیے جاتے ہیں جیسے دین کی اصل بنیادیں انہی امور سے وابستہ ہوں۔ اس رویّے نے عوام کے دلوں میں علماء کا اعتماد کم کیا اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو دین کی دعوت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
نئی نسل اس ساری صورتِ حال کو دیکھ کر فکری زوال کا شکار ہو رہی ہے۔ اس کی مذہبی شناخت کمزور ہو رہی ہے، دین اسے محض رسومات کا مجموعہ محسوس ہونے لگتا ہے، اور معاشرتی گفتگو میں مذہب کا کردار کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ میڈیا کے شور اور سوشل میڈیا کے بےقابو بیانیے نے اس کی فکری سمت کو مزید منتشر کر دیا ہے۔ جب وہ رہنمائی کے لیے مذہبی اداروں کا رخ کرتا ہے تو اکثر اسے وہ روشنی نہیں ملتی جسے دیکھ کر وہ مطمئن ہو سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ امت کو کمزور کرنے والی سب سے بڑی طاقتیں بیرونی نہیں، بلکہ داخلی ہیں: نفرت، ضد، گروہیت، اور ذاتی مفادات۔
قومیں باہر کے دشمنوں سے کم اور اندرونی شکست سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔ ہماری حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔
لیکن ابھی بھی امید باقی ہے۔ اگر علماء اپنی رنجشیں ختم کر دیں، اگر وہ مکالمے کے دروازے کھول دیں، اگر وہ انا کو قربان کر دیں، اگر وہ امت کی خیر کو اپنی ترجیحات سے اوپر رکھ دیں، تو یقین رکھیے فضا بدل سکتی ہے۔ اللہ کی مدد انہی کے ساتھ ہوتی ہے جو اخلاص کے ساتھ قدم بڑھاتے ہیں۔ امت آج ایسی قیادت کی منتظر ہے جو بصیرت رکھتی ہو، علم و حکمت سے آشنا ہو، اور اختلاف کو دشمنی کے بجائے علمی تنوع سمجھتے ہوئے امت کی فکری سمت درست کر سکے۔
اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں، اگر وہی تعصبات اور وہی پرانی بحثیں جاری رہیں، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وہ کہیں گی کہ یہ وہ لوگ تھے جنہیں علم بھی حاصل تھا، عزت بھی ملی تھی، مگر انہوں نے امت کی کشتی کو طوفان میں تنہا چھوڑ دیا۔
لیکن اگر آج ہم دل صاف کر لیں، اسلام کو اپنا مرکز بنا کر متحد ہو جائیں، حکمت اور اخلاص کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں، تو آنے والا کل یقیناً روشن ہو سکتا ہے۔ امید کا چراغ ابھی بجھا نہیں۔ شاید تبدیلی… آج ہی سے شروع ہو جائے۔
