بنی گالہ منتقل کرنا غیرقانونی ہوگا اور نہ ہی غیر معمولی

سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کی ممکنہ طور پر بنی گالہ منتقلی اسی نوعیت کا ایک قدم ہوسکتا ہے جو سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ قانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کسی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا جائے۔ ماضی میں بھی پاکستان میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جب سکیورٹی، صحت یا سیاسی مصلحت کے تحت اہم شخصیات کو جیل کے بجائے کسی مخصوص مقام پر نظربند رکھا گیا۔ بنی گالہ چونکہ عمران خان کی رہائش گاہ ہے، اس لیے وہاں مناسب سکیورٹی اور انتظامی کنٹرول کے ساتھ انہیں منتقل کرنا نہ تو غیرقانونی ہوگا اور نہ ہی غیر معمولی۔ اس اقدام سے ایک طرف اُن کی صحت اور علاج معالجے کی ضروریات بہتر انداز میں پوری ہوسکیں گی اور دوسری طرف حکومت بھی انسانی ہمدردی کا مثبت پیغام دے سکے گی۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عمران خان کی صحت خصوصاً آنکھ کے علاج کے حوالے سے اُن کی فیملی اور پارٹی کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ غیر سیاسی ڈاکٹرز کی رپورٹ پہلے ہی سامنے آچکی ہے لیکن فیملی اور پارٹی کے اعتماد کے ڈاکٹرز کو بھی باقاعدہ رسائی دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں