پیپلزپارٹی کی سندھ اسمبلی میں منظور کردہ قرارداد کی مذمت

ایم کیوایم کے مرکزی راہنما زاہد ملک نے پیپلزپارٹی کی سندھ اسمبلی میں منظور کردہ قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے قرارداد میں ’بی ایل اے‘ والی زبان استعمال کی ہے، یہ آئین اور جمہوریت پسند جماعت کی زبان اور سوچ نہیں ہوسکتی۔ نئے صوبوں کا قیام سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر عوام کو مافیا کی لوٹ مار سے نجات دلانے اور ’گُڈ گورننس‘ لانے کی شریفانہ کوشش ہے۔

اپنے بیان میں زاہد ملک نے کہا کہ پی پی پی سے ایک ہی سوال ہے کہ 2012 میں پنجاب میں نئے صوبوں کی حمایت میں قرارداد پنجاب اسمبلی سے کیوں منظوری کرائی تھی؟ پنجاب میں انتظامی بنیادوں پر صوبے بنانا ٹھیک ہے تو سندھ میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا سندھ کی تقسیم اور کراچی کو سندھ سے الگ کرنا کیسے ہوگیا؟ یہ صوبائیت، لسانیت، قوم پرستانہ سوچ کے علاوہ آئین پاکستان کو نہ ماننے والی روش ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی پی پی کی اپنی قرارداد میں اعتراف موجود ہے کہ کراچی کی انتظامی حیثیت وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے لیکن اس کا مطلب کراچی کا سندھ سے الگ ہونا کبھی نہیں لیا گیا۔

زاہد ملک نے کہاکہ صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر عوام کا دِل جیتا تھا لیکن اُن کے اردگرد مفاد پرست ’پاکستان کھپے‘ کو ’کرپشن کھپے‘ میں بدل چکے ہیں۔سترہ سال کی مسلسل حکمرانی کے بعد بھی کراچی میں کوئی بہتری نہ لانے والی پی پی پی کراچی اور سندھ پر بادشاہت قائم رکھنا چاہتی ہے۔ کراچی کے مال پر پی پی پی کے بلوں کی نظر ہے۔
***