نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہروڑ پکا میں سابق وزیر خارجہ صدیق خان کانجو کی بیوہ، وفاقی وزیر عبدالرحمن کانجو کی والدہ کی وفات پر تعزیت، دعائے مغفرت، ملتان میں جمعیت طلبہ عربیہ پنجاب جنوبی کے دفتر میں ذمہ داران سے نشست، ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے صدر حافظ محمد اسلم سے ملاقات میں دینی جماعتوں کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال ہوا اور امیر جماعت اسلامی ملتان صہیب عمار صدیقی کی جانب سے صحافیوں، کالم نویسوں، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا نمائندگان کے اعزاز میں افطار ڈنر میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماہِ رمضان میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی کشیدگی بالآخر براہ راست جنگ کی شکل اختیار کرگئی ہے اور ہمسایہ مسلم ممالک میں جنگ و جدل بڑا المیہ ہے. انڈیا معرکہ حق میں اپنی ناکامی اور ذلت مٹانے کے لئے افغان طالبان رجیم کو آلہ کار بنائے ہوئے ہے. اسرائیل انڈیا یہود و ہنود گٹھ جوڑ جنوبی ایشیاء کے لئے سراسر شیطانی اسٹریٹیجک معاہدہ ہے، اصل نشانہ پاکستان اور اس کی ایٹمی صلاحیت ہے. پاکستان کے 25 کروڑ عوام وطن عزیز کے انچ انچ کی حفاظت کے لئے متحد، یک آواز ہیں. افواجِ پاکستان کی پشتیبانی حب الوطنی اور دینی، قومی فرض ہے. یہ امر اس لئے بھی بالکل واضح ہے کہ دنیا بھی اور پاکستان کے عوام بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغان طالبان حکومت نے اپنے
انتہائی عدم حکمت پر مبنی رویئے سے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کی ہے اور چین، قطر و ترکی میں مذاکرات کو طالبان نے ناکام بنایا اور انڈیا سے معاہدہ کرلیا. افغانستان میں روس اور امریکہ کی جارحیت کے مقابلہ میں دونوں مرتبہ دونوں جارح ملکوں کے دشمنوں نے افغان عوام کا ساتھ دیا اور پاکستان نے ہر اعتبار سے افغانستان کا ساتھ دیا اور بڑی قربانیاں دیں. پاک افغان کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستان سے علماء وفود بھی گئے لیکن افغان طالبان قیادت نے کسی قسم کے مثبت رویوں کا اظہار نہیں کیا اور جس کا انجام خطہ کو بدترین صورتِ حال سے دوچار کررہا ہے.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جنگ کہیں بھی کسی صورت مسائل کا حل نہیں ہوتی. پاکستان اور افغانستان کے 30 کروڑ عوام تعلقات کی بہتری چاہتے ہیں. دونوں ملکوں کے عوام بڑے معاشی نقصانات سے دوچار ہیں، فائدہ دونوں کے مشترکہ دشمن اٹھارہے ہیں. انڈیا اور اسرائیل کو امریکہ کی سرپرستی حاصل ہے. افغانستان کو عالم اسلام سے کاٹ کر اپنے پنجرے میں قابو رکھنا اُن کی ترجیح ہے. چین، ترکی، سعودی عرب، قطر پاک افغان کشیدگی ختم کرانے کے حوالے سے اپنی کوششوں کو ترک نہ کریں اور ہمسایہ برادر اسلامی ممالک میں حالات کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کریں. روس، چین اور ایران کی ثالثی کی پیشکش بروقت ہے. افغان طالبان حکومت کو سمجھایا اور دہشت گردی کی ہر نوعیت کی سرپرستی ختم کرنے پر قائل کیا جائے. افغانستان کے پاکستان حکومت سے جو تحفظات ہیں اُن کے ازالہ کے لئے پاکستان حکومت کو پابند بنایا جائے. انڈیا اسرائیل دفاعی معاہدہ حقیقت میں سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدہ کے مقابل کیا گیا ہے. جماعت اسلامی دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں، جید علمائے کرام سے رابطہ کرے گی تاکہ پاک افغان کشیدگی کو اسلامی اخوت کے جذبوں سے حل کرایا جائے. #
