میاں منیر احمد
یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ اس یقین کی داستان ہے جو جب سانسوں میں اتر جائے تو فولاد بھی نرم ہو جاتا ہے اور انسان خود ایک فولادی نورانی حصار میں ڈھل جاتا ہے۔ ہمارے سامنے‘ افطار کے میزبان جناب انجینئر مبین اور جناب محمد اجمل فلاح انسانیت کی ایک ایسی داستان بیان کر رہے تھے کہ حاضرین کا دل بھی ان کا ہم سفر بن جانے کو مچل رہا تھا‘ اور سب کے سب اس راستے پر چلنے کے لیے مائل نظر آئے‘ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے عہدیداروں نے ایک گھنٹہ کی گفتگو میں اپنے نہائت نپے تلے الفاظ میں صرف اور صرف اللہ‘ رسولﷺ اور انسانیت کی بات کی‘ تعلیم‘ صحت‘ سماجی‘ سماجی خدمات کے لیے ہر قدم اٹھاتے ہوئے وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی طرف دیکھتے ہیں‘ اللہ کے یہ مجاہد راولپنڈی سمیت ملک بھر میں کام کرتے ہیں‘ اور کوئی سائل خالی ہاتھ نہیں جاتا‘ راولپنڈی میں اس وقت70 کے قریب افطار محافل کا بندوبست کیا جاتا ہے اور سحری کا بھی اہتمام لگن کے ساتھ کیا جاتا ہے‘ سماجی خدمات کے لیے تعلیم‘ صحت‘ ریسکیو‘ ریلیف‘ عوامی خدمات‘ بیواؤں یتامی کی دیکھ بھال کے شعبے قائم ہیں‘ انسانیت کی خدمت کے لیے مرکزی نکتہ اللہ کی رضا ہے‘ انہیں اس کے علاوہ کوئی کشور کشائی نہیں چاہیے‘ ایک مکمل عزم اور استقلال کے ساتھ یہ ٹیم کام کرتی ہے‘ یہ ٹیم ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہے جس میں شکست جہالت کو ہوگی اور فتح صرف اللہ کے نور کی ہوگی‘ اس نور سے ان لوگوں کے چہرے چمک رہے ہیں‘ اور قیامت کے روز ان کے ماتھے چمکیں گئے‘ اس لیے ان کے ہر کام کا آغاز ہی اللہ کی تسبیح سے ہوتا ہے اور یہی ان کی ڈھال ہے اور اسی کے ذریعے یہ لوگ بے خوف ہو کر انسانیت کی خدمت میں خود کو کھپا رہے ہیں‘ وہ گروہ کیوں کامیاب نہ ہو جو یا سلام، یا مومن، یا اللہ، یا رحمن، یا رحیم، یا کریم، یا ذوالجلال والاکرام زبان اور دل میں جگہ دے کر کام کرتے ہیں‘ جب اللہ کا نام سانسوں کے ساتھ چلنے لگے تو انسان فولاد نہیں رہتا، وہ خود نورانی حصار بن جاتا ہے۔ اور پھر جنگیں صرف میدان میں نہیں جیتی جاتیں، یقین میں جیتی جاتی ہیں کیونکہ تسبیح بندے کی نہیں، ربِ مختار کی ہوتی ہے، اور دعا کسی انسان کے وعدے پر نہیں بلکہ اللہ کی مشیت پر قبول ہوتی ہے‘ مانگنا اللہ سے ہے، اور جھکنا بھی اسی کے آگے۔ جو یہ نکتہ پا لے، اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اور جو گارنٹی ڈھونڈتا رہے، وہ عمل کے ہجوم میں بھی یقین کی کمی کا شکار رہتا ہے‘ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اس ملک میں سب سے الگ ہے اور سب سے ممتاز ہے
