نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کے وزراء خارجہ ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لئے پیش کردہ 5 نکاتی امن منصوبہ متوازن اور حقائق پر مبنی ہے۔ مذاکرات، سفارتی حل کی تلاش میں مایوس ہونے کی بجائے کوششیں جاری رہنا بہتر نتائج لائے گا۔ امریکہ نے اسرائیل کے شکنجے میں اُلجھ کر ایران پر ناجائز، غیرضروری جارحیت کردی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے کہ جنگ مسلّط کردی گئی۔ اسرائیل اور صیہونی دہشت گرد مائنڈ سیٹ کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ امریکہ اور ایران میں مذاکرات کامیاب ہوگئے تو گریٹر اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں بالادستی کا خواب ختم ہوجائے گا، لیکن اِس شیطانی کھیل میں اسرائیل نے امریکہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچادیا ہے۔ مسلّط کردہ جنگ سے انسانوں کا قتلِ عام ہورہا ہے؛ بستیوں، آبادیوں، عمارتوں کی تباہی بڑھتی جارہی ہے۔ تیل کے وسائل کو بُری طرح نقصان پہنچ رہا ہے جس سے عالمی معیشت بڑے بحرانوں سے دوچار ہوتی چلی جارہی ہے۔ امن اور مذاکرات ہی بحرانوں کا حل ہے۔ ایران کا یہ مطالبہ کہ اُس پر بار بار جنگ مسلّط کرنے کے خاتمہ کی گارنٹی دی جائے، جائز اور مبنی برحق ہے۔ امریکہ عملاً ویت نام، افغانستان کے بعد مڈل ایسٹ اور ایران میں ناکام ہوچکا ہے۔ ٹرمپ کو یہ جنگ بہت مہنگی پڑرہی ہے، اب جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ٹرمپ کا مواخذہ اور صدارت کا جانا ٹھہر چکا ہے، اِس لئے کہ امریکی حلقوں سے ہی ٹرمپ کو ذہنی مریض اور کینگسٹر قرار دیا جارہا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ کفایت شعاری کے اقدامات تو اچھے ہیں لیکن صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ خود کفایت شعاری کے تمام منصوبوں کو پامال کررہے ہیں۔ پروٹوکول کی سیکڑوں گاڑیاں اور لاؤلشکر حکمرانوں کی رُسوائی کا باعث بن رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور چیئرمین سینیٹ لگژری جہاز اور مہنگی گاڑی کی خریداری کے حوالہ سے عوام کو مطمئن نہیں کرسکے۔ آئی ایم ایف نئے ٹیکسز لاگو کرنے کے احکامات دے رہا ہے جبکہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں چھوڑنے کی بجائے عوام پر پیداواری لاگت کا بوجھ ڈال کر معیشت کا پہیہ جام کرتے چلے جارہے ہیں۔ لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں گندم خریداری، زراعت، کسان، ہاری کو تباہی سے بچانے کے لئے واضح دوٹوک اقدامات کئے جائیں۔ اضافی چینی برآمد کرنے کا شفاف پروگرام بھی پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے لایا جائے
