نائب امیر جماعتِ اسلامی، سیاسی قومی پارلیمانی اُمور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے پیر اسرالحق کے بیٹے، میجر نور محمد کے بیٹے اور فیاض وائین کے بیٹے کی ولیمہ تقاریب میں صحافیوں سے گفتگو کی اور سجادہ نشین دربار میاں میر پیر سیّد ہارون گیلانی سے ملاقات میں کہا کہ مِلّتِ اسلامیہ کی آزمائش اور بحرانوں کا واحد حل عالمِ اسلام کا اتحاد ہے۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں نے لازوال قربانیاں دیکر صیہونیت اور ہندو برہمن کے مکروہ عزائم اور جنگی جرائم میں لُتھڑے چہروں کو بےنقاب کردیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام نے بیداری اور مزاحمت کے ذریعے گریٹر اسرائیل کا شیطانی منصوبہ روک دیا ہے۔ اسرائیل بارود اور آگ کی بارش کے ذریعے فلسطینیوں کی نسل کشی کے بعد اب فلسطینی اسیران کو سزائے موت کے سفاکانہ قانون کے ذریعے بےگناہ قید فلسطینیوں پر موت مسلّط کررہا ہے۔ مشرقِ وسطٰی اور دیگر مسلم ممالک میں امریکی فوجی اڈے مسلم ممالک اور شہریوں کے لئے تحفظ نہیں بلکہ بڑا عذاب بن گئے ہیں۔ مِلی یکجہتی کونسل کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس 11 اپریل کو منعقد ہوگا جس میں سربراہی اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مِلی یکجہتی کونسل اتحادِ اُمت کی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔
لیاقت بلوچ نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ سفارتی محاذ پر وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم، وزیرخارجہ کی سرگرمیاں اور پذیرائی پوری قوم کے لئے خوشی کا باعث ہیں لیکن یہ امر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ملک میں سیاسی بحران عدم استحکام کو گہرا کررہا ہے۔ سیاسی بحرانی، زہریلی پولرائزیشن، فروری 2024ء کے مشکوک انتخابی نتائج کی بنیاد پر وجود میں آنے والی حکومت اور سِول-مِلٹری اسٹیبلشمنٹ کی ناجائز سرپرستی اِن کے ہر اقدام کو مشکوک اور متنازع بنارہی ہے۔ قومی سیاسی قیادت، حکمران رجیم کو اتفاقِ رائے سے سیاسی بحرانوں کا حل نکالنا چاہئے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کا خاتمہ اور پاکستان، ایران، افغانستان کے تعلقات کا پُراعتماد استحکام ضروری ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عالمی جنگی بحرانوں کے مقابلہ میں حکومتی اقدامات حواس باختگی کا شکار ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے کفایت شعاری کے اقدامات اور دعوے خود حکومتوں کی طرف سے ہوا میں اُرانے سے عوام میں غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ توانائی بحرانوں کے مقابلہ کے لئے حکومت زراعت اور صنعت کو بحرانوں سے نکالنے کا ایکشن پلان بنائے، عوام کو روزگار مِلے گا تو عام آدمی معاشی بحران برداشت کرنے کے قابل ہوگا۔ پے در پے مہنگائی کے تھپیڑوں سے تعمیرات کا شعبہ زمین بوس ہوگیا ہے، تعمیراتی عمل رکنے سے لاتعداد محنت کش، ہُنرمند بےروزگار ہوگئے ہیں۔ صرف بےروزگاری ہی نہیں، درجنوں صنعتیں بھی بُری طرح متاثر ہوگئی ہیں۔ معیشت کی بحالی کا جامع پروگرام قومی ضرورت ہے
