میراتھن مذاکرات کے بعد بغیر کسی باضابطہ معاہدے کے اختتام پذیر ہوگئے۔

اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات 21 گھنٹے طویل میراتھن مذاکرات کے بعد بغیر کسی باضابطہ معاہدے کے اختتام پذیر ہوگئے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط غیر معمولی براہ راست مذاکرات کے مثبت نتائج کے بغیر ختم ہونے کے بعد ایرانی اور امریکی دونوں وفود اتوار کی صبح اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس سے امریکا روانگی سے قبل اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے مختصر بات چیت کی۔

جے ڈی وینس نے اپنی مختصر میڈیا گفتگو میں کہا کہ ”ہم نے اسلام آباد میں اچھی نیت سے بات چیت کی، لیکن کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فریق نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہمارا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔
امریکی نائب صدر نے معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کو امریکا کے لیے ایک بری خبر قرار دیا، لیکن ایران کے لیے بدتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے ایرانی فریق کو بہترین تجویز پیش کی، لیکن اس نے امریکا کو قبول نہیں کیا جسے اس نے جنگ کے خاتمے اور آگے بڑھنے کے لیے بہترین رعایتی پیشکش قرار دیا۔’ انھوں نے مزید کہا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران ایران سے جوہری ہتھیار نہ رکھنے کے لیے پختہ عزم مانگا کیونکہ صدر ٹرمپ تہران سے یہی چاہتے تھے اور اس کے لیے بہترین پیشکش کی، لیکن ایرانی فریق نے ہماری شرائط پر اتفاق نہیں کیا۔

تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران ایم ای جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات نہیں کرے گا۔