تیل بردار جہاز کے پہنچنے کی تصدیق

اس تیل بردار جہاز کی کراچی بندرگاہ پر لنگر اندازی کا عمل اس وقت ہوا ہے جب اسلام آباد کی میزبانی میں امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات شروع ہو چکے تھے۔

ایران کے خلاف امریکہ نے آٹھ ماہ کے دوران اپنی دوسری جنگ اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو شروع کی تھی۔ تاہم 6 اپریل کواس جنگ میں پاکستان کی کوششوں سے 15 دن کے لیے عارضی جنگ بندی ہو گئی۔ اسی جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کے لیے مکمل بند کر دیا تھا۔

پاکستان کے پرچم کے ساتھ آنے والے تیل بردار جہازوں کو ایران نے آبنائے ہرمز میں نہ روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم جنگ کی وجہ سے جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق نہ ہو سکی۔ اس سے قبل پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ پاکستان کے تیل بردار جہازوں کی بڑی تعداد کو آبنائے ہرمز سے دوسری جانب موڑ دیا گیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی محدود اجازت تھی۔ تاہم اب ہفتے کے روز پہلے تیل بردار جہاز کی کراچی آمد کی تصدیق کی گئی ہے