کامیابیاں پاکستان کا اعزاز

نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے پشاور میں مرکزی تربیتی کیمپ، خیبرپختونخوا کے سیاسی قبائلی مشران اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کی اور راولپنڈی اسلام آباد میں تقاریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہُرمُز کھل گئی، پاکستان کی سفارتی، ثالثی کوششیں رنگ لارہی ہیں، یہ کامیابیاں پاکستان کا اعزاز ہے، ایران کا سفارتی، ثالثی حل میں انتہائی دانشمندانہ کردار ہے، اسرائیل کی ذلّت اور رُسوائی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، عالمی امن کے لئے اسرائیلی ناسور کو نابود کرنا ہوگا، امریکہ اور امریکی صدر ٹرمپ نے مڈل ایسٹ میں اسرائیلی صیہونی آلہ کاری کرکے خود امریکہ، عالمی امن و معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے. اب امریکہ کے پاس نجات کا واحد راستہ یہی ہے کہ ثالثی کے عمل میں انصاف پر مبنی رویہ اختیار کرے. امریکہ ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرے. پاکستان-ایران گیس پائپ لائن فعال ہوجائے تو پاکستان، ایران، افغانستان کے درمیان بااعتماد تعلقات کی مضبوط بنیاد قائم ہوجائے گی.
لیاقت بلوچ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ عالمی سفارتی ثالثی محاذ پر پاکستان کی کامیابیاں بڑا اعزاز ضرور ہے لیکن اندرونی محاذ پر قومی، اقتصادی، سماجی بحرانوں کے خاتمہ کے لئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے. حکمران ایک محاذ پر کامیابی کو مکمل نہ جانیں، سیاسی استحکام کے لئے بحرانوں کے خاتمہ کی راہ ہموار کریں.
لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ امر تکلیف دہ ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن، سندھ میں پی پی پی اور بلوچستان میں پی پی پی اور اتحادیوں کی حکومت کے مقابلہ میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کی گورننس بھی قابلِ رشک نہیں ہے. خیبرپختونخوا میں گُڈگورننس اور بااختیار بلدیاتی نظام دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل نہیں بنایا جاسکا. پی ٹی آئی اپوزیشن کی اہم ترین جماعت ہے لیکن پارٹی کی اندرونی کشمکش اور لیڈرشپ کی ایک دوسرے پر کھلی تنقید اور اختلافات اسٹیبلشمنٹ کی طاقت بن گئے ہیں. جماعتِ اسلامی ہی ملک کو سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں سے نجات دِلائے گی. خیبرپختونخوا میں عوام نے پی ٹی آئی پر جو محبتیں نچھاور کیں اُس کا نتیجہ عوام کے حق میں اچھا نہیں آیا. جماعتِ اسلامی ہی پشتونوں، خیبرپختونخوا کے نوجوانوں اور محب دین عوام کی بااعتماد ترجمان ہے. اِس موقع پر صابر حسین اعوان، مولانا محمد اسماعیل، ڈاکٹر عطاءالرحمن، بحراللہ خان، شاہ حسین، نور جدون، حمداللہ، ہدایت اللہ خان بھی موجود تھے. لیاقت بلوچ نے کہا کہ وفاق، پنجاب اور سندھ حکومت کا گندم خریداری کے لئے کاشت کاروں، ہاریوں کے ساتھ مجرمانہ سلوک ہے، حکومتیں زراعت کو تباہی سے بچائیں