طالب علم محسن قریشی کی المناک موت پر امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا کا اظہارِ تعزیت

اسلام آباد—– امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجینئر نصراللہ رندھاوا نے گزشتہ روز بہارہ کہو( کورنگ نالے) میں گر کر جاں بحق ہونے والے طالب علم محسن قریشی کے گھر جا کر ان کے والد منیر قریشی اور اہلِ خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس المناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

اس موقع پر انجینئر نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ معصوم جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جس نے پورے دارالحکومت کو سوگوار کر دیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد اس غم کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ ناظم زون غلام سرور تبسم ، نائب ناظم طیب نیاز عباسی ، زعفران عباسی ، عامر شاہین اور کامران عباسی بھی ہمراہ تھے۔

انہوں نے دارالحکومت میں بارشوں کے دوران بار بار ایسے افسوسناک واقعات پیش آنے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہآئی سی ٹی اور دیگر متعلقہ انتظامی اداروں کی نااہلی، غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جیسے وفاقی دارالحکومت میں ہر بار بارش کے بعد انسانی جانوں کا ضیاع معمول بن جانا انتہائی تشویشناک ہے۔افسوس اس بات کا ہے کہ 1122کے اہلکاروں نے موقع پر موجود ہونے کے بعد تعاون نہیں کیا ۔

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نے کہا کہ کھلے نالے، ناقص نکاسیٔ آب، حفاظتی دیواروں اور جنگلوں کی عدم موجودگی، اور خطرناک مقامات پر مناسب وارننگ سائنز نہ لگانا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو آج دو معصوم جانیں ضائع نہ ہوتیں۔

انجینئر نصراللہ رندھاوا نے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر بہارہ کہو سمیت اسلام آباد کے تمام خطرناک نالوں، برساتی گزرگاہوں اور کھلے مقامات پر حفاظتی جنگلے، دیواریں اور وارننگ بورڈز نصب کریں تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔