برطانوی حکومت نے رواں سال کے آخر سے اہل پناہ گزینوں کے لیے نئے، محدود اور محفوظ قانونی راستے متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت پہلی بار جامعات، آجر، کاروباری ادارے اور کمیونٹی تنظیمیں پناہ گزینوں کی اسپانسر شپ کر سکیں گی۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ نظام کینیڈا کے کمیونٹی اسپانسر شپ ماڈل سے متاثر ہے اور اس کا مقصد حقیقی پناہ گزینوں کو محفوظ قانونی راستہ فراہم کرنا اور غیر قانونی امیگریشن، خصوصاً چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
نئی اسکیم کے تحت تین پروگرام متعارف کرائے جائیں گے: کمیونٹی اسپانسر شپ، یونیورسٹی اسپانسر شپ اور ورک اسپانسر شپ۔ ان پروگراموں کے ذریعے رجسٹرڈ تنظیمیں، برطانوی جامعات اور بعض آجر مقررہ شرائط پوری کرنے والے اہل پناہ گزینوں کی کفالت یا اسپانسر شپ کر سکیں گے۔
حکومت کے مطابق یونیورسٹی اسپانسر شپ پروگرام کے لیے درخواستیں رواں سال کے آخر میں طلب کی جائیں گی، جبکہ پہلے منتخب افراد کی برطانیہ آمد 2027 میں متوقع ہے۔ ورک اسپانسر شپ پروگرام بھی آئندہ سال مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔
برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ حکومت حقیقی پناہ گزینوں کے لیے قانونی راستے فراہم کرے گی، تاہم امیگریشن نظام کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے قوانین مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اسکیم عام ورک ویزا، اسٹوڈنٹ ویزا یا وزٹ ویزا کے درخواست گزاروں کے لیے نہیں، بلکہ صرف ایسے افراد کے لیے ہے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت پناہ گزین قرار پاتے ہوں اور مقررہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
