ایک مردِ درویش — سید منور حسنؒ کی یاد میں
جماعتِ اسلامی کا کامریڈ
تحریر: انجینئر افتخار چوہدری
کبھی کبھی چند تاریخیں انسان کو اپنے ماضی کے کئی روشن چہرے یاد دلا دیتی ہیں۔ کل 25 جون کو میاں طفیل محمدؒ کا یومِ وفات تھا اور آج 26 جون کو جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق امیر، سید منور حسنؒ کا یومِ وفات ہے۔ اللہ تعالیٰ دونوں بزرگوں کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی ان کے اخلاص، استقامت، دیانت اور سادگی سے کچھ سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میری خوش نصیبی رہی کہ زندگی میں جن شخصیات کو قریب سے دیکھنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا، ان میں سید منور حسنؒ بھی شامل ہیں۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں قلم اٹھاؤں، ان کے بارے میں سنی سنائی باتوں کے بجائے اپنے مشاہدات اور ملاقاتوں کی روشنی میں لکھوں۔ شاید اسی لیے میری کتاب “یہ آشنائیاں” میں بھی انہی شخصیات کا ذکر ہے جن سے زندگی نے مجھے قریب بیٹھنے، گفتگو کرنے اور سیکھنے کا موقع دیا۔
جدہ اور مدینہ منورہ میں گزرے ہوئے سال میری زندگی کا خوبصورت سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پردیس میں رزق دیا، اچھے لوگوں کی رفاقت عطا کی اور ایسے تعلقات نصیب کیے جو آج بھی میری زندگی کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ میری ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ اگر کوئی دوست، صحافی، عالم یا مسافر مل جائے تو جہاں تک ممکن ہو اسے اپنا مہمان بناؤں۔ اگر اس کوشش میں کبھی کوئی خوبی تھی تو وہ میری نہیں، اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔
ہمارا گھر 502 آج بھی بعض دوستوں کو یاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مہمانوں سے آباد رکھا۔ آج خوشی ہوتی ہے کہ نئی نسل بھی اس روایت کو نبھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میرے بیٹے نوید افتخار، دلدار افتخار، شکیل نبیل اور ڈاکٹر نبیل بھی اسی محبت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ حال ہی میں ڈاکٹر نبیل اپنے بچوں کے ساتھ ملائیشیا گئے تو اسلم چوہان گجر نے جس خلوص اور محبت سے ان کی میزبانی کی، وہ ہمارے معاشرے کی خوبصورت روایات کی ایک جھلک تھی۔
میری دادی اماں اکثر مسکرا کر پنجابی میں کہا کرتی تھیں:
“افتخار دا حال ایہہ اے کہ نو دن گھر توں باہر رہندا اے تے واپس آندا اے تے نال مہمان وی لے آندا اے۔”
آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان کی اصل کمائی نہ دولت ہوتی ہے، نہ عہدے، بلکہ وہ محبتیں ہوتی ہیں جو لوگ اس کے جانے کے بعد بھی یاد رکھیں۔
سید منور حسنؒ سے بھی میری کئی ملاقاتیں رہیں۔ وہ بڑے ذہین، حاضر جواب، وسیع المطالعہ اور صاحبِ نظریہ انسان تھے۔ ان کے ساتھ حج کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ ہمارے مرحوم دوست مشہور صاحب کی حج کمپنی کے ذریعے ان کی رفاقت ملی۔ طواف، منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور جمرات کے سفر میں کئی مرتبہ ان سے گفتگو ہوئی۔ ان کی سادگی دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ نہ پروٹوکول، نہ عہدے کا غرور، نہ کوئی بناوٹ۔ وہ واقعی ایک کارکن کی طرح جیتے تھے۔
ایک مرتبہ پریس کانفرنس میں میں نے عرض کیا:
“سید صاحب! آپ دو چار جملے بول دیں، باقی پریس کانفرنس میں سنبھال لوں گا۔”
وہ فوراً مسکرائے اور اپنے مخصوص انداز میں بولے:
“افتخار صاحب! آج کل تو آپ لوگ ہمارے بغیر بھی سب کچھ اپنی طرف سے کر لیتے ہیں، پھر میری کیا ضرورت ہے؟”
محفل قہقہوں سے گونج اٹھی، لیکن اس ایک جملے میں ان کی ذہانت، مزاح اور حالات پر گہری نظر بھی چھپی ہوئی تھی۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سید منور حسنؒ ابتدا میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) سے وابستہ رہے، پھر انہوں نے اسلامی فکر کا گہرا مطالعہ کیا، جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور ایک کارکن سے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر تک کا سفر طے کیا۔ وہ کراچی کے میئر بھی رہے، جماعت اسلامی کراچی کے امیر بھی اور بعد میں پورے پاکستان کی جماعت کے امیر بھی، لیکن ان کی زندگی میں کارکن والا مزاج کبھی ختم نہیں ہوا۔
میں نے سنا ہے کہ سید منور حسنؒ کی صاحبزادی کی شادی کے موقع پر بہت سے تحائف پیش کیے گئے۔ شادی کے بعد انہوں نے اپنی بیٹی سے پوچھا:
“بیٹی! یہ تحفے تمہیں منور حسن کی بیٹی ہونے کی وجہ سے ملے ہیں یا امیرِ جماعت اسلامی کی بیٹی ہونے کی وجہ سے؟”
میں نے سنا ہے کہ ان کی بیٹی نے جواب دیا:
“ابو! یہ تحفے آپ کے امیرِ جماعت اسلامی ہونے کی وجہ سے ملے ہیں۔”
میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ جواب سننے کے بعد سید منور حسنؒ نے وہ تمام تحائف جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کرا دیے۔ ان کے نزدیک جو چیز منصب کی وجہ سے ملے، وہ ذاتی ملکیت نہیں بلکہ امانت ہوتی ہے۔ اگر یہ واقعہ درست ہے تو یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔
میں نے یہ بھی سنا ہے کہ ایک سابق چیف جسٹس نے اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر اپنے قریبی حلقے میں یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ ایسے افراد کو مدعو کیا جائے جو لاکھوں روپے مالیت کے تحائف دے سکیں۔ میں اس واقعے کی تصدیق نہیں کر سکتا، اس لیے اسے سنی ہوئی بات ہی سمجھتا ہوں۔
اگر یہ دونوں باتیں درست ہیں تو پھر دونوں کرداروں کا فرق خود بولتا ہے۔ ایک طرف ایسا انسان ہے جو منصب کو امانت سمجھتا ہے، اور دوسری طرف دنیاوی نمود و نمائش کی روایت۔ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔
سید منور حسنؒ سے اختلاف کرنے والے بھی بہت تھے، لیکن ان کے مخالفین بھی ان کی سادگی، مطالعے، دیانت اور بے باکی کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ وہ حق بات کہنے میں مصلحتوں کے قائل نہیں تھے۔ کبھی اس کی سیاسی قیمت بھی ادا کی، مگر اپنے نظریے کا سودا نہیں کیا۔
آج جب سیاست میں نظریات کے مقابلے میں مفادات کا چرچا زیادہ نظر آتا ہے تو سید منور حسنؒ جیسے لوگ شدت سے یاد آتے ہیں۔ ایسے لوگ کم پیدا ہوتے ہیں جو عہدوں سے بڑے ہو جائیں، لیکن عہدے ان سے بڑے نہ ہو سکیں۔
اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے ساتھ بیٹھنے، سفر کرنے، حج کرنے اور گفتگو کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔ میں اسے اپنی کوئی خوبی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہوں۔ انہی ملاقاتوں کی خوشبو میری کتاب “یہ آشنائیاں” کے صفحات میں بھی محفوظ ہے۔
آج سید منور حسنؒ کے یومِ وفات پر میں انہیں “جماعتِ اسلامی کا کامریڈ” کہہ کر یاد کرتا ہوں، کیونکہ وہ زندگی بھر ایک کارکن رہے۔ ان کی سادگی، بے نفسی، دیانت اور نظریاتی استقامت آج بھی ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو سیاست کو خدمت سمجھتے ہیں، تجارت نہیں۔
اللہ تعالیٰ سید منور حسنؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی دینی، سیاسی اور فکری خدمات کو قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہمیں بھی کردار، دیانت، امانت اور درویشی کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
