سجاد سرور
آج چودہ اگست ہے۔ پوری پاکستانی قوم جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ جوش و خروش سے یوم آزادی منا رہی ہے، مملکت خداداد، اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو وجود میں آئے 79 برس گزر چکے ہیں جو قوموں کی زندگی میں بہت بڑا عرصہ نہیں ہوا کرتے مگر یہ مدت اتنی کم بھی نہیں کہ اس دوران ملک میں آنے والے نشیب و فراز کو قطعی نظر انداز کر دیا جائے۔ ضرورت ہے کہ قومی سطح پر اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ ہم نے بحیثیت قوم اس عرصہ میں کیا پایا، کیا کھویا۔ مثبت جانب کس قدر پیش رفت کی اور کہاں کہاں غلطیاں کیں اور ٹھوکریں کھائیں جس کی قیمت ملک و قوم کو ادا کرنا پڑی۔ پاکستان ایک مقدس مقصد کی خاطر حاصل کیا گیا تھا یہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح مخصوص جغرافیائی شناخت کا حامل ایک عام ملک نہیں بلکہ اس کی شناخت جغرافیائی سے زیادہ نظریاتی ہے۔ یہ نظریہ ہی تھا جس کی خاطر کروڑوں لوگوں نے اپنے بسے بسائے گھر بار چھوڑ کر اجنبی سرزمین کی جانب بے سروسامانی کے عالم میں ہجرت کی۔ ان کے مال و اسباب اور ان کی آبائی سرزمین کی محبت نظریہ کی خاطر ہجرت کرتے ہوئے ان کے پائوں کی زنجیر نہ بن سکی اور ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اپنے مال و اسباب اور رشتہ دار و احباب کا نقصان اورجدائی ہی برداشت نہیں کی بلکہ اپنی اور اپنے اعزہ و اقربا کی عزیز ترین متاع جان اور عزت و آبرو تک قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عظیم قربانی اپنی جان سے عزیز تر نظریہ کے علاوہ کسی اور مقصد کی خاطر دی ہی نہیں جا سکتی۔ یہ نظریہ قیام پاکستان کے وقت برصغیر کے بچے بچے کی زبان پہ تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا… لا الہ الا اللہ‘‘۔ اسی نظریے کی خاطر ہندوستان کا ہر پیرو جوان یہ نعرہ مستانہ بلند کر رہا تھا کہ ’’بٹ کے رہے گا ہندوستان… بن کے رہے گا پاکستان‘‘۔ ہندوستان کی تقسیم محض مسلمانوں کا شوق نہیں تھا بلکہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ مسلمان قائدین کی اکثریت، علامہ اقبالؒ سے بانیٔ پاکستان محمد علی جناحؒ تک اور اس وقت کے دیگر ممتاز مسلم رہنمائوں سمیت سب ہندوئوں کے ساتھ مل کر ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں شریک تھے مگر اس دوران خود ہندوئوں کی قیادت اور آبادی کی اکثریت کے طور پر ان کا مسلمانوں کے ساتھ طرز عمل دیکھ کر مسلمان قائدین اس نتیجے پر پہنچے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد برصغیر میں ہندوئوں اور مسلمانوں کا مل کر رہنا ممکن نہیں ہو گا ہندو اپنی تنگ نظری کے باعث مسلمان اقلیت کو با عزت اور باوقار آزادانہ زندگی گزارنے کا موقع دینے پر تیار نہیں ہوں گے اور مسلمان انگریزوں کے جانے کے بعد ہندو اکثریت کے تابع اور غلام بن کر رہنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ وہ صورت حال تھی جس کو بروقت بھانپ کر مسلمان رہنمائوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے کا فیصلہ کیا
