نواب زاد ہ افتخار احمد خان
14 اگست کا دن تاریخ عالم میں محض ایک جغرافیائی سرحد کے وجود میں آنے کی داستان نہیں، بلکہ ایک نظریاتی ریاست کے قیام کی لازوال جدو جہد ہے۔ 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ڈھاکا میں عمل میں آیا جو مسلمانانِ ہند کی سیاسی بیداری کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ دوسری طرف کانگریسی قیادت، بالخصوص گاندھی جی اور نہرو کی رفاقت میں کام کرتے ہوئے مسلمانوں کو نظر آیا کہ وہ مسلمانوں کو ایک الگ اور مساوی قوم تسلیم کرنے کے بجائے محض ایک اقلیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 1937 کے انتخابات کے بعد کانگریسی وزارتوں کے روئیے نے مسلم لیگ کی قیادت پر یہ حقیقت واضح کر دی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی، تہذیبی اور مذہبی حقوق محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اِسی نازک موڑ پر علامہ اقبال نے مسلمانانِ ہند کی نظریاتی رہنمائی کا فریضہ سنبھالا۔ 1930 میں مسلم لیگ کے الٰہ آباد کے اجلاس کے خطبہ ٔ صدارت میں اْنہوں نے پہلی بار واضح انداز میں شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ مسلم ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا۔ علامہ اقبال کا یہ خواب محض ایک سیاسی تجویز نہیں بلکہ اْن کے اْس فلسفے کی عملی تدبیر تھا کہ مسلمان اپنی مذہبی و تہذیبی زندگی کی مکمل تعبیر کے لیے ایک آزاد ریاست کے محتاج ہیں۔ اِسی لیے وہ بجا طور پر ’’مصورِ پاکستان‘‘ کہلائے۔
علامہ اقبال نے نہ صرف نظریہ پیش کیا بلکہ اِسے عملی جامہ پہنانے کے لیے قائد ِ اعظم محمد علی جناح سے بار بار خط و کتابت کی، اْنہیں مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے اور مسلمانانِ ہند کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی ترغیب دی۔ یہ خطوط تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جن میں ایک عظیم مفکر نے ایک عظیم رہنما کو مستقبل کی راہ دکھائی۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں وہ قرارداد منظور ہوئی جو بعد میں ’’قرارداد پاکستان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اِس قرارداد نے مسلمانانِ ہند کے لیے الگ اور خودمختار مملکت کے مطالبے کو باضابطہ سیاسی اور عملی شکل دی، اور یہیں سے تحریک ِ پاکستان نے ایک منظم اور ناقابل ِ واپسی رُخ اختیار کیا۔ قائد ِ اعظم کی زیر ِ قیادت مسلمانانِ ہند نے ایسی یکسو اور بے مثال جدوجہد کی جس کی نظیر تاریخ عالم میں کم ملتی ہے۔ عام مسلمان کے لیے پاکستان کا مطلب کسی جغرافیائی خطے کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسی سرزمین کا حصول تھا جہاں وہ اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکے۔ ان کی سوچ اور جذبہ یہ تھا کہ ہم ایک اللہ کا گھر مسجد کے حصول کی جدو جہد کررہے ہیں۔ یہی جذبہ اْس دور کے سب سے مقبول نعرے میں ڈھل گیا: ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘ قائد ِ اعظم نے اپنی متعدد تقاریر میں بار بار یہ حقیقت واضح کی کہ ہندو اور مسلمان محض دو مذہبی گروہ نہیں بلکہ اپنی تہذیب، ثقافت، رسم و رواج اور نظامِ حیات کے اعتبار سے دو الگ الگ قومیں ہیں، اور دو الگ قوموں کے لیے ایک ہی وطن میں مساوی ترقی ممکن نہیں۔ ’’لے کر رہیں گے پاکستان‘‘ اور ’’بٹ کے رہے گا ہندوستان، بن کے رہے گا پاکستان‘‘ جیسے نعرے مسلمانانِ ہند کے اْس عزم کی ترجمانی کرتے تھے جسے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی تھی مگر آج، اِس آزادی کے 79 برس بعد، ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے: کیا ہم نے اْس نظریے کے ساتھ انصاف کیا جس کی خاطر یہ ملک حاصل کیا گیا؟
