تحقیق : محمد اجمل خان (سینئر جرنلسٹ)
“یہ کائنات، جس کی رنگینیاں انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، اور یہ دنیا، جسے ہم اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھ بیٹھے ہیں، حقیقت میں ایک فانی اور عارضی مسافر خانہ ہے۔ خالقِ کائنات نے ہر ذی روح کے لیے موت اور ہر شے کے لیے ایک انجام مقدر کر رکھا ہے۔ جب وقت اپنے آخری پھیرے پر ہوگا، تو یہ دنیا اپنے تمام جاہ و جلال کے ساتھ سمٹنا شروع ہو جائے گی۔ آئیے! اس تحریر کے ذریعے اس طویل اور ہولناک سفر کا جائزہ لیتے ہیں جو مدینہ منورہ کی ویرانی سے شروع ہو کر میدانِ حشر اور پھر جنت و جہنم کی ابدی منزل پر جا کر ختم ہوتا ہے.”یہ پیغام ایمان کو تازہ کرنے والا اورآخرت کی تیاری کا درس دینے والا ہے۔
یہ سب کب تک متوقع ہے؟ (وقت کا تعین)
غیب کا علم: اس واقعے کے رونما ہونے کا حتمی وقت (سال یا سنہ) اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قرآن و حدیث میں قیامت اور اس کی علامات کا وقت بتانے سے گریز کیا گیا ہے، البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخری زمانے میں قیامت کے بالکل قریب پیش آئے گا۔
ترتیبِ علامات: احادیث کے مطابق یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، فتنۂ دجال کے خاتمے، اور یاجوج ماجوج کے فتنے کے بعد کے دور میں پیش آئے گا، جب دنیا سے ایمان اور نیک لوگ بالکل رخصت ہو چکے ہوں گے۔
موجودہ دور قیامت سے کتنا دور ہے؟
علمِ الٰہی: رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے قریب ہونے کی خبر تو دی ہے (جیسے آپ ﷺ نے اپنی انگشتِ مبارک سے اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ “میں اور قیامت ان دو کی طرح (قریب) ہیں”)، لیکن اس کی کوئی حتمی مدت یا تاریخ مقرر نہیں فرمائی۔ہمارے لیے حکم یہی ہے کہ ہم تاریخوں کے تعین میں پڑنے کے بجائے اپنی آخرت کی تیاری پر توجہ دیں۔
کیا جاری جنگ قیامت تک چلے گی؟
دنیا میں جنگیں اور فتنے وقتاً فوقتاً چلتے رہیں گے، لیکن احادیث میں آخری زمانے کی ایک بہت بڑی جنگ کا ذکر ہے جسے “الملاحم” (عظیم جنگ) کہا گیا ہے۔موجودہ یا آنے والے دور کی جنگیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دنیا اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتی۔ تاہم، یہ جنگیں مستقل نہیں ہوں گی بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں عروج و زوال کے ساتھ برپا ہوں گی، یہاں تک کہ دجال کا ظهور ہوگا اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں حق کا بول بالا ہوگا۔
مدینہ کے علاوہ دیگر کتنے شہر خالی ہو جائیں گے؟
اسلامی روایات میں بالخصوص مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے آخری زمانے میں متاثر ہونے کا ذکر ملتا ہے (جیسے مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کی تخریب کا واقعہ بھی احادیث میں آتا ہے)۔
دیگر عام شہروں کے بارے میں بالخصوص کوئی خاص تعداد یا تفصیل منقول نہیں ہے، کیونکہ جب قیامت کا صور پھونکا جائے گا تو پوری کائنات اور روئے زمین کی تمام آبادیاں، شہر اور بستیاں ختم ہو جائیں گی اور کوئی ذی روح باقی نہیں رہے گا۔
مدینہ منورہ کی ویرانی اور آخری انسان
عقیل بن خالد سے روایت ہےسعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”لوگ مدینہ کو اس کے خیر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے اور اس میں کوئی نہ رہے گا سوائے درندوں اور پرندوں کے۔ پھر قبیلہ مزینہ سے دو چرواہے اپنی بکریوں کو پکارتے ہوئے مدینہ (جانے) کا ارادہ کرتے ہوئے نکلیں گے اور وہ مدینہ کو ویران پائیں گے یہاں تک کہ جب ثنئیہ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3367]بخاری (حدیث نمبر: 1874) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر: 3367) میں مفصل انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ اس واقعے اور اس دور میں مدینہ منورہ کی حالت کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے:
مدینہ منورہ کی ویرانی کا پس منظر
رسول اللہ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی ہے کہ آخری زمانے میں ایک وقت ایسا آئے گا جب لوگ مدینہ منورہ کو اس کی بہترین حالت (ترقی اور خوشحالی) میں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔اس کی وجہ علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ فتنوں اور جنگوں کے دور میں لوگ رزق یا امن کی تلاش میں مدینہ سے باہر چلے جائیں گے، یا پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد جب دنیا اچھے لوگوں سے بالکل خالی ہونے لگے گی تو مدینہ سنسان ہو جائے گا۔شہر اس حد تک ویران ہو جائے گا کہ وہاں انسانوں کی جگہ “العوافي” یعنی جنگلی درندے اور پرندے آ کر بس جائیں گے۔
آخری دو انسان
جب دنیا میں صور پھونکے جانے کا وقت بالکل قریب ہوگا، تو زمین پر انسانوں میں سب سے آخر میں جو لوگ باقی رہ جائیں گے، وہ قبیلہ مزینہ کے دوانسان چرواہے (گڈریے) ہوں گے۔
یہ دونوں انسان مدینہ سے دور کسی علاقے میں اپنی بکریوں کو چرا رہے ہوں گے اور دنیا کے حالات سے بالکل بے خبر ہوں گے۔ وہ اپنی بکریوں کو ہانکتے اور آوازیں دیتے ہوئے مدینہ منورہ کا رخ کریں گے تاکہ وہاں جا کر اپنی ضرورت کا سامان خریدیں یا اپنی بکریاں بیچ سکیں۔
ثنیۃ الوداع پر ہلاکت
آخری دو انسان اپنی دھن میں بکریاں ہانکتے ہوئے جب مدینہ کے تاریخی داخلائی راستے “ثنیۃ الوداع” پر پہنچیں گے، تو وہاں کا منظر دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے وہ دیکھیں گے کہ مدینہ کی گلیوں اور بازاروں میں انسانوں کا نام و نشان تک نہیں ہے اور وہاں وحشی جانور گھوم رہے ہیں ابھی وہ یہ ہولناک منظر دیکھ کر حیرت زدہ کھڑے ہی ہوں گے کہ اللہ کے حکم سے ان کی روح قبض کر لی جائے گی (یا صور پھونک دیا جائے گا)۔ وہ خوف اور صدمے سے وہیں اپنے منہ کے بل گریں گے اور دم توڑ دیں گے یہ وہ آخری انسان ہوں گے جن کی وفات کے ساتھ ہی اس زمین پر زندگی کا چیپٹر ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا اور پھر قیامت مکمل طور پر برپا ہو جائے گی۔
حدیث نمبر 3367 صحيح مسلم کے مطابق آخر میں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے مدینہ طیبہ آئیں گے جو اپنی بکریوں کو آوازیں دیں گے۔ وہ مدینہ کو اجاڑ اور ویران پائیں گے، جب وہ ثنئیہ وداع تک پہنچیں گے تو چہروں کے بل گر پڑیں گے۔“ اور قیامت سے قبل یہ دو اخری انسان ہونگے اور اپنی بکریاں چرا رہے ہوں کہ ثنئیہ الوداع جو ، مدینہ میں اج بھی ہے جہاں وہ گر کر مرجائیں گے اور صور پھونک دیا جائے گا اور قیامت برپا ہو جائے گی اور یوں زندگی کا چیپٹر ( آثار) ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا ۔ یہ حدیث مبارکہ صحیح مسلم (کتاب الحج، باب ترکینا المدینۃ…، حدیث: 3367) میں موجود ہے، جو ہمیں دنیا کی فانی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کی یاد دہانی کراتی ہے۔اس روایت سے چند اہم اور عبرت ناک باتیں معلوم ہوتی ہیں:
مدینہ منورہ کی عظمت اور ترکِ وطن: اگرچہ مدینہ منورہ خیر، برکت اور خوشحالی کا مرکز ہوگا، لیکن آخری زمانے کے سخت حالات، فتنوں اور ناگزیر حالات کی وجہ سے لوگ اسے چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔
درندوں کا مسکن: ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس بابرکت شہر میں انسانوں کی بجائے جنگلی جانور اور پرندے بسیرا کریں گے۔
دنیا کا انجام: قبیلہ مزینہ کے ان دو چرواہوں کا واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب قیامت کا وقت بالکل قریب ہوگا، تو عام انسان اپنی روزمرہ کی دنیا میں مصروف ہوں گے کہ اچانک امرِ الٰہی آ جائے گا۔
فتنۂ دجال، نزولِ عیسیٰ اور یاجوج ماجوج کا خروج
اسلامی عقیدہ اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں دجال کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول و قیادت قیامت کی بڑی علامات میں سے ایک انتہائی اہم باب ہے۔ اس سلسلے میں مستند احادیث میں درج ذیل تفصیلی منظر نامہ بیان کیا گیا ہے:
فتنۂ دجال کا ظہور
سب سے بڑا فتنہ: احادیث میں آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت تک دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہوگا۔ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا اور اس کے پاس ظاہری طور پر ایسے کرشمے ہوں گے جو لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیں گے۔
مدینہ اور مکہ کا محفوظ رہنا: دجال روئے زمین کے چپے چپے کا دورہ کرے گا لیکن وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکے گا کیونکہ فرشتوں کا پہرہ ان بابرکت شہروں کی حفاظت کرے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
جب دنیا میں فتنۂ دجال اپنے عروج پر ہوگا اور مسلمان انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہوں گے، تب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔
مقامِ نزول: احادیث کے مطابق آپ دمشق کے مشرقی جانب سفید منارے پر دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔
دجال کا خاتمہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب دجال کو دیکھیں گے (جو کہ پانی کی طرح گھلنے لگے گا جب وہ حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا)، تو آپ اسے دمشق کے قریب “بابِ لد” پر جا کر قتل فرمائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے پیروکاروں کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیادت اور عدلِ فاروقی
دجال کے خاتمے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں اسلامی شریعت اور قرآن کے مطابق حکومت فرمائیں گے۔یہ دور روئے زمین پر امن، عدل و انصاف، اور خوشحالی کا سنہرا دور ہوگا۔ مالی فراوانی اتنی ہوگی کہ صدقہ لینے والا کوئی نہیں ملے گا۔اس دور میں اسلام واحد دین ہوگا، تمام جھوٹے مذاہب اور کفر کا خاتمہ ہو جائے گا، یہاں تک کہ بغض و عداوت ختم ہو جائے گی اور بھیڑیا اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے۔
اس دور کا اختتام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک طویل عرصہ (احادیث کے مطابق تقریباً 40 سال) گزاریں گے، شادی کریں گے، وفات پائیں گے اور مسلمانوں کی طرف سے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ان کے بعد دنیا میں دوبارہ فتنوں اور برائیوں کا دور دورہ شروع ہوگا، اور پھر یاجوج ماجوج کا خروج اور بالآخر وہ وقت آئے گا جب زمین پر کوئی اللہ کہنے والا نہیں بچے گا، اور پھر صور پھونکا جائے گا۔
صورِ اسرافیل اور کائنات کا خاتمہ:
جب زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی فرد باقی نہیں رہتا اور دنیا تمام شرور و فساد کا گڑھ بن جاتی ہے، تو اس کے بعد کائنات کے خاتمے اور نئی ابدی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں اس کے بعد کے مراحل کو انتہائی ہولناک اور عبرت ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے
صور پھونکا جانا (قیامت کا آغاز)
پہلا صور (صَعق اور ہلاکت): حضرت اسرافیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے صور پھونکیں گے۔ اس کی آواز اتنی خوفناک اور ہولناک ہوگی کہ زمین و آسمان کی ہر چیز پر دہشت طاری ہو جائے گی۔ تمام زندہ انسان، فرشتے، جنات اور جاندار بے ہوش ہو کر مر جائیں گے۔ کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے اور زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے۔
دوسرا صور (بعث اور دوبارہ زندہ ہونا): کچھ عرصے بعد (جس کی مدت اللہ ہی بہتر جانتا ہے) اللہ تعالیٰ کے حکم سے دوبارہ صور پھونکا جائے گا، اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری انسان تک سب لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور میدانِ حشر کی طرف دوڑیں گے۔
میدانِ حشر کے ہولناک مناظر
میدانِ حشر کا منظر
ننگے بدن اور ننگے پاؤں: تمام انسان میدانِ حشر میں اس حالت میں جمع ہوں گے کہ وہ ننگے بدن، ختنہ نہ کیے ہوئے اور ننگے پاؤں ہوں گے۔ اس وقت کسی کو اپنے عزیز و اقارب کا ہوش نہیں ہوگا؛ ہر کوئی اپنی جان کے خوف میں مبتلا ہوگا۔
سورج کی شدت: سورج انسانوں کے سروں کے بالکل قریب کر دیا جائے گا (یا اس کی حرارت کو انتہائی بڑھا دیا جائے گا)۔ گرمی اور حبس کی شدت سے لوگ اپنے ہی پسینے میں غرق ہوں گے؛ کسی کا پسینہ ٹخنوں تک، کسی کا گھٹنوں تک اور کسی کا منہ تک پہنچ رہا ہوگا، ہر شخص اپنے عمال کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوگا۔
عرش کا سایہ: اس ہولناک گرمی اور گھبراہٹ میں اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ ہی واحد پناہ گاہ ہوگی، جو ان خوش نصیبوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں تقویٰ اختیار کیا تھا (جیسے عادل حکمران، وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت میں گزری، اور وہ شخص جو اکیلے میں اللہ کو یاد کر کے رویا)۔
حساب کتاب اور اعمال ناموں کی تقسیم
نامۂ اعمال کا ملنا: ہر انسان کو اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا — نیک لوگوں کو دائیں ہاتھ میں (جو خوشی سے کہیں گے کہ میرا نامۂ اعمال پڑھو) اور بدبخت لوگوں کو بائیں ہاتھ یا پیٹھ کے پیچھے سے (جو افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کاش مجھے میرا نامۂ اعمال نہ دیا جاتا)۔
قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں آخرت کے ان تینوں مراحل (میزان، پل صراط، اور جنت و جہنم کی کیفیات) کو انتہائی مفصل، مؤثر اور عبرت ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ انسان دنیا کی زندگی میں ہی اپنی اصلاح کر لے۔
میزانِ عمل اور پل صراط کا امتحان:
میزان (ترازوی عمل): تمام اعمال کا تول ہوگا؛ چھوٹے سے چھوٹا نیکی یا گناہ کا ذرہ بھی ترازو میں تولا جائے گا۔ جس کے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ کامیاب ہو جائے گا، اور جس کا ہلکا ہوگا، وہ خسارے میں ہوگا۔
صراط مستقیم (پل صراط): جہنم کے اوپر ایک پُل نصب کیا جائے گا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔ تمام انسانوں کو اس پر سے گزرنا ہوگا۔ اعمال کی روشنی اور سرعت کے مطابق لوگ اس پر سے گزریں گے — کچھ بجلی کی طرح، کچھ ہوا کی طرح، کچھ دوڑتے ہوئے، کچھ گھسٹتے ہوئے، اور گناہ گار اس میں گرتے چلے جائیں گے۔
میزان (اعمال کا تولا جانا)
جب حساب کتاب کا مرحلہ مکمل ہو جاتا ہے، تو اعمال کی صداقت اور ان کے وزن کو پرکھنے کے لیے ترازو قائم کی جاتی ہے، جسے “میزان” کہا جاتا ہے۔
حق اور عدل کا ترازو: یہ ایک حقيقي اور انتہائی درست ترازو ہوگا جس کے پلڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اس دن ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ نیکی رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگی تو وہ لائی جائے گی۔
اعمال کا تجسّم: احادیث کے مطابق دنیا میں کیے جانے والے اعمال کو جسمانی یا مادی شکل دے کر تولا جائے گا۔ کسی کا نامۂ اعمال بھاری ہوگا اور کسی کے اعمال کا پلڑا ہلکا رہ جائے گا۔
سب سے بھاری عمل: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میزان میں سب سے وزنی چیز انسان کا خسنِ خلق (اچھا اخلاق) اور کلمۂ توحید (لا الہ الا اللہ) کا اقرار ہوگا۔
پل صراط (جہنم پر بنا ہوا پُل)
میدانِ حشر کے تمام مراحل کے بعد تمام انسانوں کو جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا، جسے “پل صراط” کہتے ہیں۔
اس کی ہیئت: احادیث میں اس کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ پُل بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔
گزرنے کا انداز: لوگ اپنے ایمان اور اعمال کی روشنی کے مطابق اس پر سے گزریں گے۔ کچھ لوگ بجلی کی طرح تیزی سے گزر جائیں گے، کچھ ہوا کی طرح، کچھ گھوڑے کی رفتار سے، کچھ دوڑتے ہوئے، کچھ چلتے ہوئے، اور کچھ گھسٹتے ہوئے پار ہوں گے۔
کانٹے اور جکڑنے والے آڑے: اس پل پر ایسے کانٹے اور آنکڑے لگے ہوں گے جو لوگوں کو ان کے گناہوں کے مطابق پکڑ کر جہنم میں گرانے کا سبب بنیں گے۔ مومنینِ صادقین سلامتی کے ساتھ پار ہو کر جنت کے دروازے پر پہنچ جائیں گے۔
انجامِ کار: ابدی جنت یا دردناک جہنم:
جنت یا جہنم کا حتمی فیصلہ
حساب کتاب اور پل صراط سے گزرنے کے بعد فیصلے کا آخری مرحلہ آئے گا:
اہلِ جنت: وہ لوگ جن کے اعمال اچھے تھے اور جن پر اللہ کا فضل ہوا، وہ سلامتی کے ساتھ ابدی نعمتوں، نہروں، اور جنت کے محلات میں داخل ہوں گے، جہاں انہیں وہ کچھ ملے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گذرا۔
اہلِ جہنم: وہ لوگ جنہوں نے کفر، شرک اور سرکشی کا راستہ اپنایا، وہ عبرت ناک عذاب کے لیے جہنم میں ڈال دیے جائیں گے، جہاں موت کو بھی موت دے دی جائے گی اور یہ عذاب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔
جنت و جہنم کی کیفیات
یہ آخرت کی آخری اور ابدی منزلیں ہیں، جن کے بعد کبھی موت نہیں آئے گی۔
جنت کی کیفیات (نعمتیں اور سکون):
قرآن کہتا ہے کہ جنت میں وہ کچھ موجود ہے جسے “نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گذرا”۔وہاں طرح طرح کے باغات، دودھ، شہد، اور صاف پانی کی نہریں ہوں گی۔ سونے اور چاندی کے محلات، ریشمی لباس اور کبھی ختم نہ ہونے والی جوانی اور صحت ہوگی۔سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگی، جب اہلِ جنت اپنے رب کو بلا حجاب دیکھیں گے۔
جہنم کی کیفیات (عذاب اور ہولناکی):
جہنم ایک انتہائی خوفناک اور دہکتی ہوئی آگ ہے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔
وہاں کا کھانا “زقوم” (کڑوا اور کانٹے دار درخت) ہوگا اور پینے کے لیے پیپ اور کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو اندر کی انتڑیوں کو کاٹ کر رکھ دے گا۔وہاں کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ تیز ہوگی، اور عذاب کی شدت اتنی زیادہ ہوگی کہ جہنم والے موت مانگیں گے لیکن موت انہیں نہیں آئے گی۔
“یا اللہ! ہمارے اس ادنیٰ سے کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرما۔ ہمیں اس فانی دنیا کی حقیقت کو سمجھنے، اپنی عاقبت سنوارنے اور موت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرا۔ جب ہمارا اس دنیا سے جانے کا وقت آئے، تو ہمارا خاتمہ ایمان پر ہو، روزِ محشر ہمیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرما، میزان میں ہمارے اعمال کا پلڑا بھاری فرما، پل صراط کو بجلی کی طرح پار کروا دینا، اور ہم سب کو بلا حساب اپنی ابدی جنت الفردوس کا مکین بنا لینا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھ، دین پر استقامت عطا فرما اور آخرت کے تمام مراحل کو ہمارے لیے آسان بنادے ۔آمین یا رب العالمین”
