پاکستان کو اب دوٹوک قومی مؤقف کی ضرورت ہے!

محمد انعام مورگانائیٹ

یہ محض نادانی یا بھٹکے ہوئے ذہنوں کا معاملہ نہیں لگتا، بلکہ بعض سرگرمیوں اور رویوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسے مفادات کی آبیاری کی جا رہی ہے جو پاکستان کی نظریاتی اور قومی اساس سے متصادم ہیں۔کشمیر کی آزادی یا خودمختاری کے نعروں کی آڑ میں، خطے کی زمینی حقیقتوں، تاریخی پس منظر اور عملی امکانات کو نظرانداز کرکے ایسے مطالبات کو ہوا دینا، جن کے نتائج پاکستان کے دو قومی نظریے اور قومی یکجہتی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے۔
پاکستان کو اس وقت ایک پیچیدہ علاقائی اور عالمی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب مغرب، ہر سمت نئے سفارتی اور تزویراتی چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں بھی، ماضی کے تعاون اور سہولتوں کے باوجود، اختلافات اور بداعتمادی کے پہلو تشویش کا باعث ہیں۔

ایسے حالات میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی نظریاتی اساس، قومی خودمختاری اور ریاستی مفادات پر یقین رکھنے والی سنجیدہ، مخلص اور صاحبِ بصیرت قیادت کو ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی پر جمع کیا جائے۔لالچ، موقع پرستی، ذاتی مفادات اور اقتدار کی سیاست سے بالاتر ہوکر خارجہ پالیسی میں واضح ترجیحات متعین کی جائیں۔ چین جیسے اہم تزویراتی شراکت دار کے ساتھ تعلقات میں اعتماد اور مستقل مزاجی ہونی چاہیے، جبکہ دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ معاملات بھی قومی مفاد، باہمی احترام اور اصولی مؤقف کی بنیاد پر طے ہونے چاہییں۔دوستی ایسی ہو کہ دوست کو ہمارے خلوص پر محض گمان نہیں بلکہ کامل یقین ہو، اور اختلاف ایسا واضح ہو کہ مخالف بھی ہمارے مؤقف کے بارے میں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ رہے۔ایک طرف دوستی کے دعوے اور دوسری طرف پسِ پردہ متضاد اشارے دینا کسی باوقار ریاست کی خارجہ پالیسی کا مستقل متبادل نہیں ہو سکتا۔

ٹرمپ ہوں یا دنیا کی کوئی دوسری طاقت، سفارت کاری میں وقتی مصلحت اپنی جگہ، مگر قومی مؤقف میں مسلسل ابہام بالآخر ریاست کی ساکھ اور اعتبار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ہم مسلمان ہیں، پاکستانی ہیں اور ایک نظریاتی ریاست کے شہری ہیں۔ اس لیے ہماری اجتماعی زندگی، قومی کردار اور ریاستی فیصلوں میں سچائی، اصول پسندی، دیانت اور وضاحت نمایاں ہونی چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری قیادت بھی دوہرے معیار سے باہر نکلے اور قوم بھی شخصیت پرستی، مفاد پرستی اور سیاسی تقسیم سے بلند ہوکر قومی مفادات کو مقدم رکھے۔پاکستان کو جنگ کی خواہش نہیں، مگر امن کے لیے بھی عزت، وقار، مضبوط دفاع اور واضح قومی مؤقف درکار ہے۔

اگر کبھی قومی سلامتی اور خودمختاری کا حقیقی امتحان درپیش ہو تو پوری قوم کو یکسو، متحد اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم ہونا چاہیے۔کیونکہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ عزت، غیرت، خودداری اور اصولوں کے ساتھ جینے کا نام ہے۔بقولِ مشہور کہاوت:

شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔

پاکستان کو محض زندہ نہیں رہنا، بلکہ ایک باوقار، خودمختار اور قابلِ اعتبار ریاست بن کر زندہ رہنا ہے۔